Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اقلیتی طلبہ کو فیس کی ادائیگی میں حکومت کی لاپرواہی

اقلیتی طلبہ کو فیس کی ادائیگی میں حکومت کی لاپرواہی

نظام آباد:10؍ جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اقلیتی طلباء کو تعلیمی فیس کی ادائیگی کے سلسلہ میں بحالت موجودہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں انتہائی لاپرواہی کا ثبوت بہم پہونچارہی ہیں نیا تعلیمی سال 2014-15 کو شروع ہوئے کئی ہفتے گذر چکے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی کی قیادت میں مودی حکومت اور ریاستی حکومت کے سربراہ کے سی آر نے اقلیتی طل

نظام آباد:10؍ جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اقلیتی طلباء کو تعلیمی فیس کی ادائیگی کے سلسلہ میں بحالت موجودہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں انتہائی لاپرواہی کا ثبوت بہم پہونچارہی ہیں نیا تعلیمی سال 2014-15 کو شروع ہوئے کئی ہفتے گذر چکے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی کی قیادت میں مودی حکومت اور ریاستی حکومت کے سربراہ کے سی آر نے اقلیتی طلباء کو 2013-2014 ء سے متعلقہ ریمبرسمنٹ ٹیوشن فیس 5 کروڑ 40لاکھ 86 ہزار روپئے جاری نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے 5,751 اقلیتی طلباء سخت پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ اسی طرح 1498 اقلیتی طلباء کو 94لاکھ 26ہزار روپئے منٹینس آف ٹیوشن فیس جاری نہیں کی گئی ان الفاظ میں مسٹر سمیر احمد صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی طلباء کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پری میٹرک کے 38,235 طلباء اور پوسٹ میٹرک کے 30100 اقلیتی طلباء کی تعلیمی فیس بابتہ 2013-2014 ابھی تک اجراء نہیں کی گئی ۔ سمیر احمد نے اقلیتی اولیاء طلباء کی پریشانیوں سے تعلق خاطر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقلیت کی فلاح و بہبود ، تعلیم اور روزگار کے شبعوں میں ضروری اقدامات کے نام نہاد دعویٰ کے باوجود کے سی آر حکومت اور مودی کی مرکزی سرکارکی اس خصوص میں لاپرواہی کی وجہ جاریہ تعلیمی سال میں اقلیتی طلباء کی تعلیم بری طرح متاثر ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے ۔ سمیر احمد نے ریاستی حکومت کی جانب سے بے روزگار اقلیتی نوجوانوں کو بنک قرضہ جات کی اجرائی میں غیر معمولی تاخیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قرضہ جات کی اجرائی کے ضمن میں بنکوں کی اظہار رضامندی کے باوجود ریاستی حکومت نے ضلع نظام آباد کے 254 بے روزگار نوجوانوں کو سبسیڈی جاری نہیں کی ۔ جس کے نتیجہ کے طورپر بے روزگار نوجوان معاشی بحران کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ہر سال ماہ رمضان المبارک کے موقع پر مساجد کیلئے آہکپاشی اور دیگر تعمیری و مرمتی کاموں کیلئے مختص کئے جاتے تھے لیکن اس سال تلنگانہ کی نئی حکومت مسٹر کے چندر شیکھر رائو چیف منسٹر کی جانب سے 10اضلاع پر مشتمل 5 کروڑ روپئے مساجد کیلئے مختص کرنے کے اعلان کے باوجودبھی ابھی تک اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ضلع نظام آباد سے 180 مساجد کیلئے تعمیری و مرمتی کاموں پر مشتمل تخمینہ کو روانہ کیا گیا 10 رمضان المبارک گذر جانے کے باوجود ابھی تک اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کو فوری اجرائی عمل میں لانے کا سمیر احمد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ سمیر احمد صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس نے اس خصوص میں کے چندر شیکھر رائو تلنگانہ اسٹیٹ، مرکزی وزیر نجمہ ہیبت اللہ،آندھرا پردیش گورنر نرسمہن، اے پی چیرمین آف میناریٹی کمیشن حیدرآباد، پرنسپل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ کو ای میل روانہ کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ اقلیتی طلباء کی فلاح وبہبود اور انہیں تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے اعلان کو عملی جامہ پہنائیں۔

TOPPOPULARRECENT