Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلبہ کی تعلیم پر محمد محمود علی کا اظہار ہمدردی ، سکریٹری سے وضاحت طلبی

اقلیتی طلبہ کی تعلیم پر محمد محمود علی کا اظہار ہمدردی ، سکریٹری سے وضاحت طلبی

مشیر اقلیتی امور و سکریٹری اقلیتی بہبود کی بے اعتنائی برقرار ، عہدیداروں کی سرد جنگ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر
حیدرآباد ۔ 20۔ ستمبر (سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے بارے میں اعلیٰ عہدیداروں کی عدم دلچسپی اور تساہل پر آخر کار ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو مداخلت کرنی پڑی جبکہ حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی بے اعتنائی اور عدم دلچسپی برقرار ہے۔ طلبہ کی جانب سے فیس بازادائیگی اور اسکالرشپ کی عدم اجرائی کے بارے میں ڈپٹی چیف منسٹر سے تفصیلی نمائندگی کے بعد محمد محمود علی نے طلبہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل سے وضاحت طلب کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے افسوس کا اظہار کیا کہ رقومات کی عدم اجرائی کے سبب طلبہ کو تعلیمی اداروں کی ہراسانی کا سامنا ہے ۔ کالجس میں انہیں کلاسس میں شرکت سے روکا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ایسے طلبہ جنہوں نے اپنا کورس مکمل کرلیا ، انہیں سرٹیفکٹ جاری کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ ان حالات میں ریاست کے لاکھوں اقلیتی طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل کو لیکر پریشان ہیں ۔ انہوں نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے بارہا نمائندگی کی لیکن یہ نمائندگیاں بے اثر ثابت ہوئیں، جس پر طلبہ نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے مسائل کو پیش کیا۔ طلبہ کو اس بات پر افسوس تھا کہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے طلبہ کو پابندی سے اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کی رقم حاصل ہورہی ہے اور ان محکمہ جات کے عہدیدار سنجیدگی کے ساتھ طلبہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ برخلاف اس کے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے پاس طلبہ سے ملاقات کا وقت نہیں۔ ایک سے زائد مرتبہ اگر وہ ملاقات کے لئے جائیں تو عہدیدار انہیں سخت سست کہہ رہے ہیں ۔ عہدیدار اپنی ذمہ داری سے بچنے کیلئے سارا وبال حکومت پر ڈالتے ہوئے رقومات کی اجرائی کیلئے ٹالتے ہوئے محکمہ فینانس کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب وہ بے بس ہیں۔ حالانکہ بجٹ حاصل کرنے کی ذمہ داری عہدیداروں کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو گزشتہ تین برسوں کے دوران اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کی تفصیلات داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اور بقایا جات کی جلد از جلد اجرائی کو یقینی بنایا جائے۔ اقلیتی طلبہ نے اس مسئلہ کو چیف منسٹر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے۔ اسی دوران اقلیتی بہبود کے سکریٹری سید عمر جلیل نے یہ اعتراف کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے بعض بقایا جات ابھی بھی جاری نہ ہوسکے ۔ انہوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ محکمہ اقلیتی طلبہ کی بھلائی کے حق میں کام کر رہا ہے لیکن اپنی وضاحت میں وہ خود غلط بیانی کے ذریعہ پھنس گئے۔ عمر جلیل نے 2014 ء سے 2016 ء تک فیس بازادائیگی اور اسکالرشپ کے جاری کردہ بجٹ کی تفصیل بیان کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جاریہ سال طلبہ کا رجسٹریشن ابھی جاری ہے۔ سیاست نے گزشتہ تین برسوں کی اجرائی اور بقایا جات کے بارے میں جو اعداد و شمار شائع کئے تھے ، عمر جلیل اس سے انکار نہ کرسکے۔ انہوں نے تکنیکی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی غلطی کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ کالجس کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کرنے کے مسئلہ پر عمر جلیل نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر یا ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سے ربط قائم کریں۔ واضح رہے کہ کالجس کو اس سے قبل بھی عمر جلیل نے میمو جاری کیا تھا لیکن کسی بھی کالج نے اس میمو کو اہمیت نہیں دی بلکہ اسے کچرے دان کی نذر کردیا۔ بقایا جات کی اجرائی میں دلچسپی لینے کے بجائے اس قسم کی بہانہ بازی افسوسناک ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے اسمبلی کی کمیٹی میں جو اعداد و شمار پیش کئے، عمر جلیل ان سے اختلاف کر رہے ہیں جبکہ یہ اعداد و شمار خود ان کی منظوری سے پیش کئے گئے تھے ۔ یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں میں تال میل کی کمی اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ بن چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں نے تقرر کے ابتدائی دنوں میں اسکیمات کے سلسلہ میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا لیکن اب دونوں اعلیٰ عہدیداروں میں سرد جنگ محکمہ کی کارکردگی پر اثر انداز ہورہی ہے۔ اسمبلی کمیٹی میں عمر جلیل کی جانب سے جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ، اس کے مطابق 2014-15 ء میں 18 کروڑ ، 2015-16 ء میں 30 کروڑ اور 2016-17 ء میں 210 کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ پر عمر جلیل فائز ہیں لیکن تین برسوں کے بقایا جات کی اجرائی میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی ۔ یہ بقایا جات مجموعی طور پر 258 کروڑ کے ہوجاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT