Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی طلبہ 2012-13 کی مرکزی و ریاستی اسکالر شپس سے محروم !

اقلیتی طلبہ 2012-13 کی مرکزی و ریاستی اسکالر شپس سے محروم !

کیا تلنگانہ کے لاکھوں مسلم طلبہ کو پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپس حاصل ہوگی ؟اولیائے طلبہ حج ہاوز کے چکر کاٹتے تھک گئے

کیا تلنگانہ کے لاکھوں مسلم طلبہ کو پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپس حاصل ہوگی ؟اولیائے طلبہ حج ہاوز کے چکر کاٹتے تھک گئے
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جولائی : سچر کمیٹی کی رپورٹ میں مسلمانوں کو تعلیمی و معاشی اعتبار سے ہندوستان میں سب سے زیادہ پسماندہ قرار دیتے ہوئے انہیں تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی گئی چنانچہ اقلیتوں کو تعلیمی سطح پر اونچا اٹھانے کے لیے مرکزی و ریاستی حکومت کی جانب سے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپس فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن سال 2012-13 کے لیے جن لاکھوں طلباء وطالبات نے اسکالر شپس کے لیے درخواستیں داخل کی تھیں انہیں ابھی تک اسکالر شپ کی رقم حاصل نہ ہوسکی ۔ جس کے نتیجہ میں اولیائے طلبہ میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے ۔ دفتر سیاست پر پہنچ کر کئی اولیائے طلباء نے بتایا کہ حج ہاوز میں جب وہ محکمہ اقلیتی بہبود اور ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے اسکالر شپس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے رجوع ہوتے ہیں تو انہیں عجیب و غریب جوابات دے کر ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایک محکمہ دوسرے محکمہ کے دفتر کو جانے کے لیے کہتا ہے تو دوسرا محکمہ بڑے محکمہ کے دفتر سے رجوع ہونے کا مشورہ دیتا ہے ۔ نتیجہ میں غریب اولیائے طلبہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ واضح رہے کہ اقلیتوں کو تعلیمی شعبہ میں آگے بڑھانے اور ان کے بچوں کو ترک تعلیم سے روکنے کے لیے سابقہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے اول جماعت تا پی ایچ ڈی اسکالر شپس دینے کا آغاز کیا تھا لیکن سال 2012-13 کی اسکالر شپس سے طلباء وطالبات اب تک محروم ہیں ۔ اولیائے طلبہ اب یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ آیا آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی علحدگی سے طلبہ کی اسکالر شپس کی تقسیم پر اثر تو نہیں پڑا ہے ۔ اسکالر شپس کا بے چینی سے انتظار کررہے اولیائے طلباء کا الزام ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور دفتر ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر پر رجوع ہونے پر کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا جارہا ہے ۔ جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان محکموں کے عہدہ دار خود اسکالر شپ اسکیم کے موجودہ موقف کے بارے میں لا علم ہیں ۔ اب اولیائے طلبہ یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ آیا تلنگانہ کے اقلیتی طلبہ کو 2012-13 کی رکی ہوئی اسکالر شپس حاصل ہوں گی بھی یا نہیں ؟ واضح رہے کہ مرکز و ریاستی حکومتوں کی جانب سے اسکالر شپ کے طور پر اول جماعت میں زیر تعلیم اقلیتی طلبہ کو سالانہ 1000 چھٹویں تا دہم میں زیر تعلیم طلبہ کو 4000 ہزار انٹر میڈیٹ طلبہ کے لیے 6 ہزار ( 3 ہزار روپئے طلبہ کے اکاونٹ میں اور تین ہزار روپئے کالج کے اکاونٹ میں جمع کئے جاتے ہیں ) کے علاوہ پیشہ وارانہ کالجس پی جی اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کو سالانہ ہزاروں روپئے کی اسکالر شپ دی جاتی رہی ہے ۔ راقم الحروف کو متعدد اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرس اور اولیائے طلبہ نے بتایا کہ 2013-14 کی اسکالر شپس کے بارے میں سوچنا فضول ہے اس لیے کہ سال 2014 شروع ہوئے 6 ماہ گذر چکے ہیں اس کے باوجود 2012-13 کی اسکالر شپس اب تک موصول نہیں ہوئی ہیں ۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر عوامی نمائندوں اور طلباء تنظیموں کو مداخلت کرنی ہوگی جب کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے لیے بھی اس اہم مسئلہ پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ریاستی حکومت غیر مسلمہ اسکولوں کے خلاف کارروائی پر تو توجہ دے رہی ہے لیکن اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپس کے معاملہ میں اس پر خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔ اولیائے طلباء میں ریاست کی تقسیم کے بعد اس بارے میں بھی کافی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ آخر کونسا محکمہ اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپس کا ذمہ دار ہے۔ اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکالر شپس کے لیے درخواستوں کی طلبی کے موقع پر کئی ایک شرائط رکھی گئیں ۔ راشن کارڈ اور کسی بھی قومیائے ہوئے بنک میں اکاونٹ کو لازمی قرار دیا گیا ۔ اسی طرح انکم سرٹیفیکٹ کی شرط عائد کی گئی پھر آدھار کارڈ پیش کرنے کے لیے کہا گیا ۔ غرض مسلمانوں ، بنجاریوں ، عیسائیوں ، سکھوں ، بدھسٹوں ، جین اور پارسیوں جیسے اقلیتی طلبہ کو اسکالر شپس کی فراہمی میں سرکاری سطح پر کافی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جب کہ مسلم طلبہ کو سرکاری اسکالر شپس کی فراہمی پر فرقہ پرستوں کے زہریلے سینے پر سانپ لوٹنے لگے ۔ ان تمام مشکلات کے باوجود اسکالر شپس کے فارمس داخل کئے گئے لیکن کافی عرصہ گذر جانے کے باوجود اقلیتوں کو صرف انتظار کرایا جارہا ہے ۔ اگر چیف منسٹر اس جانب توجہ دیں تو کافی عرصہ سے التواء میں پڑا یہ مسئلہ گھنٹوں میں حل ہوسکتاہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT