Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں سست روی پر اظہار افسوس

اقلیتی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں سست روی پر اظہار افسوس

لاپرواہی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا انتباہ ، عہدیداروں کے اجلاس سے ڈپٹی چیف منسٹرمحمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 7 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمدمحمود علی نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں سست روی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں مختلف اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار توقع کے مطابق نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں انہیں مختلف گوشوں سے شکایات وصول ہورہی ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ جائزہ اجلاس میں اسکالرشپ ، فیس بازادائیگی ، اوورسیز اسکالرشپ ، شادی مبارک ، آٹو رکشا فراہمی اور بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شادی مبارک کیلئے حکومت نے 100 کروڑ روپئے کا نشانہ مقرر کیا تھا جس کی تکمیل ہوچکی ہے، لہذا مزید بجٹ کی اجرائی کیلئے وہ چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ چیف منسٹر اقلیتوں کی اس اسکیم کے لئے مزید 75 کروڑ روپئے کی اجرائی کی ہدایت دیں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی میں تاخیر ہوتی ہے تو اقلیتی بہبود کے پاس فاضل بجٹ موجود ہے جسے شادی مبارک کیلئے خرچ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے اس اسکیم پر کامیاب عمل آوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں سے کہا کہ وہ آئندہ بھی اسکیم کو بے قاعدگیوں سے پاک رکھنے کے اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں جو بے قاعدگیاں پائی گئیں ان کی اصلاح کی جارہی ہے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ محمود علی نے اوورسیز اسکالرشپ کی پہلی قسط جاری کرنے میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہاکہ منتخب 210 طلبہ اور ان کے سرپرست پہلی قسط کے لئے اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بعض ماتحت عہدیداروں کی جانب سے نئی شرائط متعارف کرنے کی مذمت کی اور اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد سے جلد پہلی قسط کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سابق میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں 10 نومبر تک پہلی قسط جاری کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن آج تک اس پر عمل نہیں کیا گیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے 10 ڈسمبر پر مکمل اجرائی اور دوسرے مرحلہ کی درخواستیں وصول کرنے کا اعلامیہ جاری کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بتایا کہ اوورسیز اسکیم کے تحت جن ممالک کی یونیورسٹیز کا احاطہ کیا گیا ہے، اس میں خلیجی ممالک کو شامل کرنے کیلئے مساعی جاری ہے، اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے منظوری حاصل کی جائے گی ۔ انہوں نے اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے تمام بقایہ جات جلد جاری کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کالجس کی جانب سے طلبہ کو ہراساں کئے جانے کی شکایات مل رہی ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ اس سلسلہ میں تمام کالجس کو نوٹس جاری کی گئی ہے کہ اگر وہ فیس کی عدم وصولی کے بہانے سرٹیفکٹ کی اجرائی سے انکار کریں گے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ فیس بازادائیگی کی بیشتر رقم جاری ہوچکی ہے اور مابقی رقم جلد جاری کردی جائے گی ۔ لہذا ڈگری مکمل کرنے والے طلبہ کے سرٹیفکٹس روکنے کا کالجس کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ اجلاس میں آئندہ مالیاتی سال کیلئے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ اور بعض نئی اسکیمات متعارف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ عہدیدار اس سلسلہ میں تجاویز تیار کرتے ہوئے چیف منسٹر کو پیش کریں گے۔ محمد محمود علی نے وقف بورڈ کے ملازمین اور مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کی تنخواہوں کی جلد اجرائی کی ہدایت دی اور کہا کہ مقررہ وقت پر تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو مکمل تال میل اور باہمی مشاورت کے ذریعہ محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ جاریہ سال مکمل بجٹ کے خرچ کو یقینی بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ کی اجرائی یا کوئی اور مسائل ہوں تو وہ ان سے رجوع کریں تاکہ چیف منسٹر سے نمائندگی کی جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر اقلیتی بہبود میں کافی سنجیدہ ہیں اور آئندہ سال سے بعض نئی اسکیمات کے آغاز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT