Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن سے ایک لاکھ امیدواروں کو مایوسی

اقلیتی فینانس کارپوریشن سے ایک لاکھ امیدواروں کو مایوسی

زیر تصفیہ درخواستوں کو بند کرنا غیر واجبی، عہدیداروںکی بے حسی، دو سال سے منتظر ہزاروں خاندان پریشان
حیدرآباد ۔ 19۔ اکتوبر (سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن سے بینک سے مربوط قرض پر سبسیڈی کے منتظر ایک لاکھ سے زائد اقلیتی امیدواروں کو اس وقت مایوسی ہوئی جب کارپوریشن نے گزشتہ دو برسوں سے زیر التواء ایک لاکھ 30 ہزار درخواستوں کو بغیر کسی کارروائی کے بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح سبسیڈی کے سلسلہ میں گزشتہ دو برسوں سے کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹنے والے امیدواروں کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ کارپوریشن نے زیر التواء درخواستوں کو یکسوئی کے بغیر بند کردینے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم اس کی وجوہات بیان نہیں کی گئی۔ کارپوریشن درخواستوں کو کسی کارروائی کے بغیر بند کرتے ہوئے نئی درخواستیں طلب کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔ اس طرح اقلیتی امیدواروں کو دوبارہ درخواست دینے کی زحمت سے گزرنا پڑے گا جو کسی اذیت سے کم نہیں۔ اقلیتی امیدواروں کے جذبات اور ان کی مجبوری کو سمجھنے سے اقلیتی بہبود کے عہدیدار قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک لاکھ 30 ہزار زیر التواء درخواستوں کو ایک لمحہ میں بند کردینا کارپوریشن کیلئے آسان ضرور ہے لیکن ان ہزاروں خاندانوں پر کیا گزر رہی ہوگی جو دو برسوں سے اس آس میں بیٹھے تھے کہ کبھی نہ کبھی ان کا قرض منظور ہوگا اور کارپوریشن سبسیڈی کی رقم جاری کرے گا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کارپوریشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ گزشتہ دو برسوں میں موصولہ ایک لاکھ 53 ہزار 906 درخواستوں میں ایک تا دو لاکھ روپئے کی درخواستوں کی ترجیحی بنیادوں پر یکسوئی کریں لیکن کارپوریشن نے دو برسوں میں کم رقم کی تمام درخواستوں کی یکسوئی نہیں کی ہے اور زیر التواء درخواستوں کو بند کرنے کا فیصلہ غیر واجبی اور غریب اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے پاس 16 اکتوبر کو منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی موجودگی میں یہ فیصلہ کیا گیا لیکن کسی بھی گوشہ سے اس فیصلہ کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار تجویز پیش کرتے کہ ایک لاکھ 53,000 درخواستوں میں دو لاکھ روپئے تک کی درخواستوں کو چھوڑ کر دیگر درخواستیں بند کی جاسکتی ہیں لیکن انہوں نے غریب اقلیتی امیدواروں کی پرواہ نہیں کی۔ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ درخواستوں کے ادخال کے وقت امیدواروں کو کس قدر دشواریاں پیش آتی ہیں۔ درخواست کے ساتھ انکم سرٹیفکٹ اور دیگر دستاویزات کی پیشکشی کیلئے امیدواروں کو بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے ۔ اب جبکہ تمام زیر التواء درخواستیں صفر ہوچکی ہے، لہذا نئی درخواستوں کے ادخال کے وقت امیدواروں کو دوبارہ رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ کارپوریشن کے ریکارڈ کے مطابق 2015-16 ء اور 2016-17 ء کے دوران 15 مارچ تک ایک لاکھ 53 ہزار 906 درخواستیں داخل کی گئیں جن کی سبسیڈی 2670 کروڑ ہوتی ہے۔ حکومت نے 2016-17 ء کے دوران اس اسکیم کے تحت 136 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے تھے۔ تاہم دو سہ ماہی میں صرف 69 کروڑ جاری کئے گئے جن میں 8436 امیدواروں کو 68.99 کروڑ کی سبسیڈی جاری کی گئی ۔ 2017-18 ء میں بجٹ میں دوبارہ 136 کروڑ مختص کئے گئے لیکن بجٹ کی اجرائی کا معاملہ انتہائی سست ہے۔ حکومت نے 22 اگست تک 20 کروڑ 70 لاکھ روپئے جاری کئے ۔ کارپوریشن کے ریکارڈ کے مطابق 2014-15 ء میں 3301 ، 2015-16 ء میں 3669 اور 2016-17 ء میں 8436 امیدواروں کو سبسیڈی جاری کی گئی ۔ اس طرح گزشتہ تین برسوں میں 15,406 امیدواروں کو سبسیڈی جاری کی گئی اور مابقی تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار درخواستوں کو بغیر کسی کارروائی کے بند کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں چیف منسٹر کو مداخلت کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد درخواست گزاروں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہئے ۔ حکومت تو اقلیتوں کی بھلائی کے حق میں دکھائی دیتی ہے لیکن عہدیداروں کا رویہ منفی ہے۔ اسی دوران اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین سید اکبر حسین نے اسکیم پر عمل آوری میں بینکوں کو اہم رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ بینکوں کی جانب سے قرض کی منظوری میں تاخیر سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 50 ہزار تا ایک لاکھ روپئے کے قرض اور سبسیڈی کی اسکیم تیار کر رہی ہے۔ اکبر حسین نے کہا کہ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر بی شفیع اللہ اپنا زیادہ تر وقت اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے کاموں میں صرف کر رہے ہیں، جس کے باعث فینانس کارپوریشن کی اسکیمات متاثر ہورہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT