Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی اجرائی: اکبر حسین

اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی اجرائی: اکبر حسین

حیدرآباد ۔ 21 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سید اکبر حسین نے بتایا کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کے تحت ابھی تک 8436 استفادہ کنندگان نے 69 کروڑ روپئے کی سبسیڈی جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن نے گزشتہ دو برسوں کی درخواستوں کی مکمل یکسوئی تک جاریہ سال نئی درخواستیں طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت جیسے جیسے بجٹ جاری کرے گی ، اقلیتی امیدواروں کو سبسیڈی کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ سید اکبر حسین نے بتایا کہ 2015-16 ء کے دوران ایک لاکھ 53 ہزار 906 درخواستیں داخل کی گئیں جن کیلئے 2670 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ آن لائین درخواستیں کے ادخال کو مارچ 2016ء میں روک دیا گیا۔ 2015-16 ء میں حکومت نے 87 کروڑ 40 لاکھ روپئے بجٹ مختص کیا تھا جس میں سے 27 کروڑ 70 لاکھ روپئے جاری کئے گئے ۔ کارپوریشن نے 3669 استفادہ کنندگان نے 27 کروڑ 70 لاکھ روپئے کی سبسیڈی جاری کردی۔ 2016-17 ء میں حکومت نے 136 کروڑ 50 لاکھ کا بجٹ مختص کیا تھا اور 69 کروڑ جاری کئے گئے ، جس کے مطابق 8436 درخواست گزاروں میں یہ رقم بطور سبسیڈی جاری کی گئی۔ 2017-18 ء میں حکومت نے اس اسکیم کے تحت 150 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اور پہلے سہ ماہی کے تحت 22 کروڑ 50 لاکھ جاری کئے گئے۔ حکومت نے یہ رقم گزشتہ دو برسوں کی درخواستوں کی یکسوئی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی تک نئی درخواستیں قبول نہیں کی جارہی ہے۔ اکبر حسین نے بتایا کہ اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین خدمات کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک ان کی تنخواہوں کی اجرائی کا سوال ہے ، حکومت نے 16 ستمبر کو 75 لاکھ روپئے جاری کئے ہیں جس کے ذریعہ جولائی اور اگست کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ اکبر حسین نے بتایا کہ تنخواہوں کی اجرائی کا عمل جاری ہیں اور بہت جلد ملازمین کے اکاؤنٹ میں پہنچ جائیں گی۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT