اقلیتی فینانس کارپوریشن میں مالیاتی اسکام کی تحقیقات تنازعہ کا شکار

تحقیقاتی عہدیدار نے معاملہ کی متوازی جانچ کی مخالفت کردی ، آج جانچ مقرر

تحقیقاتی عہدیدار نے معاملہ کی متوازی جانچ کی مخالفت کردی ، آج جانچ مقرر

حیدرآباد۔/21مارچ، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن میں پیش آئے مالیاتی اسکام کی تحقیقات نے اس وقت ایک تنازعہ کی شکل اختیار کرلی جب اسکام کی تحقیقات کرنے والے ایک عہدیدار نے معاملہ کی متوازی جانچ کی مخالفت کی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے فینانس کارپوریشن کے ایک معطل شدہ جنرل منیجر محمد لیاقت علی اور اکاؤنٹس آفیسر شیخ احمد علی کے خلاف الزامات کی جانچ کیلئے مسٹر لنگا راج پانی گڑھی کمشنر آف انکوائریز کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا۔ انہوں نے اس معاملہ کی جانچ کرنے والی دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی کو ان کے روبرو پیش ہونے کی نوٹس جاری کی اور 22مارچ کو جانچ کی تاریخ مقرر کی۔ دورکنی کمیٹی میں شامل ایم اے غفور آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی اے پی اسٹیٹ ویر ہاؤزنگ کارپوریشن نے 19مارچ کو سکریٹری اقلیتی بہبود کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے لنگا راج پانی گڑھی کے ذریعہ اس اسکام کی تحقیقات کی مخالفت کی۔انہوں نے یہ تحقیقات کے درمیان متوازی تحقیقات کو بھی روکنے کا مطالبہ کیا۔ ایم اے غفور نے واضح کیا کہ دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی کو اس بات کا پتہ چلا کہ مسٹر لنگا راج پانی گڑھی 30جون 2008 تا 17جولائی 2011 اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بہ اعتبار عہدہ صدر نشین رہے۔ اس مدت کے دوران ہی 461کروڑ 6لاکھ 25ہزار 446روپئے مختلف بینکوں میں مختصر مدتی ڈپازٹ کے طور پر رکھے گئے جس کی بنیاد پر ہی معطل کردہ دو عہدیداروں اور اس وقت کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد الیاس رضوی کی ملی بھگت سے رقومات نکالی گئیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے مختلف بینکوں میں غیر مجاز ڈپازٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ چونکہ اسکام کی مدت کے دوران لنگا راج پانی گڑھی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین تھے لہذا وہ دو عہدیداروں کے خلاف تحقیقات نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے درخواست کی کہ متوازی انکوائری کو فوری روک دیا جائے کیونکہ تحقیقاتی کمشنر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین رہ چکے ہیں اور 75کروڑ روپئے سے زائد کی رقم کے معاملہ سے وہ بھی منسلک ہیں جس کے سبب ہی مالیاتی بے قاعدگیاں رونما ہوئیں۔

TOPPOPULARRECENT