Thursday , December 13 2018

اقلیتی فینانس کارپوریشن پر این جی اوز کا دھرنا

منیجنگ ڈائرکٹر کی عدم دستیابی سے کارکردگی ٹھپ، کمپیوٹر سنٹرس کے آغاز کا کام متاثر
حیدرآباد۔19 فبروری (سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی عدم کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری سے منیجنگ ڈائرکٹر کی مبینہ عدم دلچسپی کے خلاف بعض رضاکارانہ تنظیموں نے آج حج ہائوز پر دھرنا منظم کیا۔ رضاکارانہ تنظیموں کا الزام ہے کہ منیجنگ ڈائرکٹر عوام سے ملاقات کے لیے دستیاب نہیں رہتے اگرچہ ان کی خدمات مستقل طور پر کارپوریشن کے لیے ہیں، لیکن وہ اپنی اضافی ذمہ داری یعنی اقامتی اسکولوں پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اقلیتوں کی بڑی تعداد روزانہ کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹ رہی ہے لیکن یہاں عہدیدار دستیاب نہیں۔ این جی اوز کے ذمہ داروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ منیجنگ ڈائرکٹر کی جگہ کسی اور عہدیدار کا تقرر کرتے ہوئے مستقل طور پر موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ماہ کے دوران منیجنگ ڈائرکٹر بمشکل دو دن حج ہا ئوز میں موجود رہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں روزانہ صبح میں کارپوریشن اور دوپہر میں اقامتی اسکول سوسائٹی میں خدمات انجام دینا ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے اعلی عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ سبسیڈی اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری نہیں کی جارہی ہے۔ اسی دوران کارپوریشن کے تحت چلنے والے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن عمل آوری نہیں کی گئی۔ گزشتہ تین ماہ سے کمپیوٹر سنٹرس کے ملازمین تنخواہ سے محروم ہیں اور کمپیوٹر سنٹرس کی عمارتوں کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ حکومت نے موجودہ کمپیوٹر سنٹرس کو ختم کرتے ہوئے ریاست بھر میں 37 عصری کمپیوٹر سنٹرس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے لیکن ابھی تک نئے کمپیوٹر سنٹرس کا آغاز نہیں ہوسکا۔ پہلے مرحلہ میں 10 کمپیوٹر سنٹرس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ابھی تک صرف ایک سنٹر قائم ہوا جو منظورہ سنٹرس کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ حیدرآباد میں چھ کمپیوٹر سنٹرس کے قیام کو منظوری دی گئی اسی دوران صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے بتایا کہ نئے کمپیوٹرس کے قیام کے لیے جلد اقدامات کیے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT