Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی فینانس کارپوریشن کی شکایت پر عمل کی رفتار سے حکومت ناخوش

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی شکایت پر عمل کی رفتار سے حکومت ناخوش

چیف سکریٹری کی ویڈیو کانفرنس، اقلیتی اداروں کے نتائج سے عدم اطمینان، عہدیداروں کی سرزنش
حیدرآباد۔/6فبروری، (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار سے خوش نہیں ہے۔ چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما نے اس سلسلہ میں اسکیمات کا جائزہ لیتے ہوئے کارپوریشن کے عہدیداروں کی سرزنش کی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر راجیو شرما نے مختلف طبقات کیلئے بینکوں سے مربوط اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لینے کیلئے ویڈیو کانفرنس منعقد کی تھی۔ جب اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا تو چیف سکریٹری نے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں کی سرزنش کی اور کہا کہ شفاف طریقہ سے اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ فینانس کارپوریشن کی گزشتہ دو سال کے دوران بینکوں سے مربوط اسکیمات کے منتخب امیدواروں کو ابھی تک رقومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اسی دوران منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن نے تمام اضلاع کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے اسکیمات پر عمل آوری میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس اجلاس میں تمام اضلاع کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کے علاوہ فینانس کارپوریشن کے ریٹائرڈ جنرل منیجر کو بھی شامل کیا گیا۔ بعد میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں اجلاس منعقد کیا تھا جس میں بھی مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار شریک رہے جس پر دیگر محکمہ جات کے عہدیدار حیرت میں پڑ گئے۔ اسی دوران منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن نے آٹو اسکیم میں بدعنوانیوں کی تردید کی ہے۔ ایک بیان جاری کرتے ہوئے منیجنگ ڈائرکٹر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے رہنمایانہ خطوط کی بنیاد پر شفافیت کے ساتھ انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے اسکیم میں رشوت حاصل کرنے کی اطلاعات کی بھی تردید کی۔ واضح رہے کہ روزنامہ ’ سیاست‘ نے اسکیم کے بارے میں جو رپورٹ شائع کی تھی وہ درخواست گذاروں کی شکایت کی بنیاد پر ہے۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی کہ منظوری کے باوجود ابھی تک انہیں آٹو جاری نہیں کیا گیا اور جلد منظوری کیلئے درمیانی افراد رقومات حاصل کررہے ہیں۔ منیجنگ ڈائرکٹر نے امیدواروں کے انتخاب میں بروکرس اور درمیانی افراد کے رول کی تردید کی۔ ’سیاست‘ نے جو خبر شائع کی تھی اس میں امیدواروں کے انتخاب میں بے قاعدگی کا نہیں بلکہ آٹو کی جلد اجرائی کیلئے درمیانی افراد کی جانب سے رقومات طلب کرنے کی شکایات کا حوالہ دیا گیا۔مذکورہ خبر میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کا ردعمل بھی شائع ہوا جس میں انہوں نے اسکیم کے آغاز میں تاخیر کا اعتراف کیا ہے۔منیجنگ ڈائرکٹر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ 11نومبر کے بجائے اسکیم کے آغاز میں آج تک کی تاخیر کی وجوہات کیا ہیں جبکہ تلنگانہ حکومت نے یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر اسکیم کے آغاز کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کارپوریشن کے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے آٹو اسکیم کی تمام درخواستوں کی منظوری میں تاخیر کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد سے جلد تمام 1700 درخواستوں کی منظوری کو یقینی بنائیں تاکہ چیف منسٹر کے ہاتھوں منتخب افراد میں آٹو جاری کئے جاسکیں۔

TOPPOPULARRECENT