Saturday , December 15 2018

اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم میں دھاندلیاں

تحقیقات کیلئے منیجنگ ڈائرکٹر کا فیصلہ، امیدواروں کے بغیر بھاری رقومات حاصل کرنے کی شکایت
حیدرآباد۔/24 نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود کیلئے 2000 کروڑ مختص کرنے کا دعویٰ ہر سطح پر کیا جا رہا ہے لیکن بجٹ کے ساتھ رقومات کے بیجا استعمال و اسکامس کی تفصیلات بھی جاری کی جائیں تو بہتر رہتا ۔اقلیتی اداروں میں جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کے دوران کسی نہ کسی سطح پر بدعنوانیوں کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت لڑکیوں کو بیوٹیشن کورس کی تربیت کی اسکیم میں بھاری خرد برد کا معاملہ منظر عام پر آیا اور منیجنگ ڈائرکٹر ایم اے وحید نے اس کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ اسکام ان کے دور کا نہیں لیکن وہ سابق عہدیداروں کے وقت اسکیم الاٹمنٹ میں بے قاعدگیوں کی تفصیلات طلب کررہے ہیں۔ بنجارہ ہلز کے ایک خانگی ادارہ میں غریب لڑکیوں کو بیوٹیشن کے کورس کے نام پر بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے ہر امیدوار کیلئے 15000 روپئے حاصل کئے گئے لیکن امیدواروں کی حقیقی تعداد وہ نہیں تھی جوکہ ظاہر کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب ایسے وقت منعقد کی گئی جب ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ تھا جس کے تحت سرکاری عہدوں پر نامزد سیاسی افراد ایسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس کے باوجود صدر نشین کارپوریشن کے ذریعہ اسنادات کی تقسیم عمل میں آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشن اور خانگی ادارہ کی ملی بھگت سے بھاری رقومات ہڑپ کرلی گئیں اور تاثر دیا گیا کہ لڑکیوں کو تین ماہ کی بیوٹیشن ٹریننگ دی گئی۔ کارپوریشن کے ذریعہ خودروزگار اور خود مکتفی بنانے ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم موجود ہے۔ تین ماہ کی ٹریننگ کے بعد امیدوار سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر کہیں بھی روزگار کی درخواست دے سکتے ہیں یا اپنا کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ 2017-18 میں کارپوریشن نے 500 طلبہ کو ٹریننگ کا نشانہ مقرر کیا تھا لیکن ٹریننگ کیلئے 300 درخواستیں موصول ہوئیں اور 100 امیدوار ہی رجوع ہوئے لیکن ادارہ نے تمام 300 طلبہ کے نام پر کارپوریشن سے رقم حاصل کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ 100 درخواست گذاروں میں صرف چند کو کلاسیس میں شرکت کی دعوت دی گئی اور یہ صرف 2 ہفتوں کیلئے چلائی گئیں اور تین ماہ کی ٹریننگ کا سرٹیفکیٹ دے دیا گیا۔ کئی طلبہ نے بے قاعدگیوں پر صحافیوں سے نمائندگی کی ۔ ایک امیدوار نے بتایا کہ مفت ٹریننگ کے نام پر ہر درخواست گذار سے دیڑھ سو تا تین سو روپئے وصول کئے گئے۔ یہ بھی شکایت ملی ہے کہ ٹریننگ کیلئے حقیقی مستحق افراد کے بجائے دولت مند گھرانوں کی لڑکیوں کو منتخب کیا گیا۔ سرٹیفکیٹ کی اجرائی کی تقریب میں امیدواروں سے زیادہ مذکورہ خانگی ادارہ کے ملازمین دیکھے گئے۔ منیجنگ ڈائرکٹر ایم اے وحید نے ان شکایات کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حقائق منظر عام پر آسکیں۔

TOPPOPULARRECENT