Thursday , December 13 2018

اقلیتی فینانس کارپوریشن کے نئے عہدیداروں نے جائزہ حاصل کرلیا

آندھرا پردیش کے لیے شیخ محمد اقبال اور تلنگانہ میں محمد جلال الدین اکبر فائز

آندھرا پردیش کے لیے شیخ محمد اقبال اور تلنگانہ میں محمد جلال الدین اکبر فائز
حیدرآباد۔/7اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی دو ریاستوں میں تقسیم کے ساتھ ہی دونوں ریاستوں میں منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر نئے عہدیداروں نے جائزہ حاصل کرلیا۔ آندھرا پردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے انچارج سکریٹری اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس ) نے جائزہ حاصل کرلیا جبکہ تلنگانہ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر محمد جلال الدین اکبر ( آئی ایف ایس ) فائز ہوگئے۔ وہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی زائد ذمہ داری نبھائیں گے۔ متحدہ کارپوریشن میں اس عہدہ پر خدمات انجام دینے والے پروفیسر ایس اے شکور نے دونوں عہدیداروں کو ذمہ داری سونپ دی۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میں حکومت سے خواہش کی تھی کہ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ذمہ داری سے سبکدوش کیا جائے۔ پروفیسر ایس اے شکور 3 اہم اداروں کی ذمہ داری نبھارہے تھے اور مسلسل کام کے دباؤ کے سبب انہوں نے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ذمہ داری سے سبکدوش کرنے کی خواہش کی تھی۔ اسی دوران اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے جلال الدین اکبر کو منیجنگ ڈائرکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے جو میمو جاری کیا اس پر محکمہ میں تنازعہ پیدا ہوچکا ہے۔ اسپیشل سکریٹری نے میمو نمبر 756 کے ذریعہ جلال الدین اکبر کو منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدہ کی ذمہ داری فوری طور پر سنبھالنے کی ہدایت دی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس میمو کی اجرائی کے سلسلہ میں جن دو سابقہ جی اوز کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے مکمل اختیارات کے ساتھ منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر تعیناتی کے سلسلہ میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ جی او ایم ایس 10 مورخہ 15ڈسمبر 2014 میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو بااعتبار عہدہ منیجنگ ڈائرکٹر کا عہدہ دیا گیا ہے لیکن بااعتبار عہدہ شخصیت اسی وقت عہدہ پر فائز ہوسکتی ہے جب مستقل منیجنگ ڈائرکٹر موجود نہ ہو۔ منیجنگ ڈائرکٹر کے غیاب میں بااعتبار عہدہ مقرر کیا گیا عہدیدار عہدہ کی ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔ اس طرح حکومت نے جو میمو جاری کیا وہ قواعد کے برخلاف اور غیر واضح ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے 31مارچ 2015کو سکریٹری اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے جی او ایم ایس 10 میں انہیں بااعتبار عہدہ منیجنگ ڈائرکٹر مقرر کئے جانے کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔ اسی مکتوب کو بنیاد بناکر انہیں منیجنگ ڈائرکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے میمو جاری کیا گیا۔ اس طرح قواعد کے اعتبار سے منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ کے سلسلہ میں حکومت کا جاری کردہ میمو تنازعہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کسی بھی ادارہ اور خاص طور پر کارپوریشنوں میں بااعتبار عہدہ ایم ڈی کی ذمہ داری دی جاتی ہے لیکن اس شخص کی ذمہ داری کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب مستقل عہدیدار موجود نہ ہو۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت ان تمام اُمور کی صراحت کرتے ہوئے باقاعدہ جی او جاری کرتی لیکن صرف میمو کی اجرائی سے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں میں یہ مسئلہ موضوع بحث بن چکا ہے۔ کئی عہدیداروں نے میمو کو قواعد کے برخلاف قرار دیا اور عجلت میں جاری کردہ احکامات سے تعبیر کیا ہے۔ واضح رہے کہ جلال الدین اکبر اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کے عہدہ سے ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت معزول ہوچکے ہیں اور حکومت نے انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کی زائد ذمہ داری دے دی ہے۔ وہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ وقف سروے کمشنر کی زائد ذمہ داری نبھارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT