Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی مالیاتی کارپوریشن لاوارث ادارے میں تبدیل

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن لاوارث ادارے میں تبدیل

صدر نشین کا کوئی پرسان حال نہیں ، ملازمین کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم
حیدرآباد ۔ 20 ۔ ستمبر : ( شاہنواز بیگ ) : مسلمانوں کے لیے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا ادارہ کافی اہم مانا جاتا ہے ۔ غریب و پسماندہ طبقات اس ادارے سے کافی استفادہ کرتے ہیں ۔ لاکھوں افراد اس ادارے سے قرضہ جات حاصل کرتے ہیں ۔ غریب و پسماندہ طلبہ وطالبات کو اسکالر شپ وغیرہ حاصل کرتے ہیں ۔ لاکھوں تجارتی پیشہ افراد کو اس ادارے سے قرضہ جات حاصل ہوتا ہے ۔ تاہم گذشتہ دو برسوں سے یہ ادارہ ایک لاوارث ادارہ میں تبدیل ہوچکا ہے اور صدر نشین مایناریٹی کارپوریشن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنی خصوصی تقاریب ، شادی بیاہ جیسی تقاریب اور تہنیتی تقاریب میں شرکت کرنے پر توجہ مرکوز کئے رہتے ہیں ۔ کئی افراد اس دفتر کے چکر کاٹتے کاٹتے بیزار ہوچکے ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اس بات کا اعلان کیا کہ غریب و پسماندہ افراد کے لیے 80 فیصد سبسیڈی فراہم کی جائے گی ۔ تاہم ابھی تک اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے ۔ سال 2015-16 کا بجٹ ابھی تک منظور نہیں کیا گیا ۔ تو چند سیاسی قائدین نے چیف منسٹر کو نمائندگی کرنے پر سال 2017-18 بجٹ منظور کرنے کا انہوں نے وعدہ کیا ۔ چنانچہ غریب تجارتی پیشہ افراد کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ 3 ماہ سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دئیے جانے پر ایک ہفتہ سے ملازمین ہڑتال اور دھرنا منظم کررہے ہیں ۔ تاہم ان کے مسائل کی یکسوئی نہیں کی جارہی ہے ۔ اضلاع کے مایناریٹی کے دفتر کے آفیسر عوام سے درخواستیں لینے سے صاف انکار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہاں کسی قسم کا کوئی قرضہ نہیں دیا جارہا ہے ۔ اردو اکیڈیمی سنٹرس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا لیکن اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ عوام کا چیف منسٹر سے اس بارے میں مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد تجارتی پیشہ افراد کو 80 فیصد سبسیڈی پر قرضہ جات فراہم کیا جائے اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکالر شپ کی منظوری کی جائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT