Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی کارپوریشن سے ریٹائرڈ عہدیدار کو فوری نہ ہٹانے پر برہمی

اقلیتی کارپوریشن سے ریٹائرڈ عہدیدار کو فوری نہ ہٹانے پر برہمی

متعلقہ عہدیدار سے ہمدردی کی وجوہات طلبی ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ہدایت
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اپریل (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے علحدہ وزیر نہ ہونے کے سبب اقلیتی اداروں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور یہاں کے عہدیدار کسی بھی وزیر حتیٰ کہ ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایات کو بھی ماننے سے صاف طور پر انکار کر رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو چیف منسٹر کے سی آر نے اقلیتی امور کا نگرانکار مقرر کیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتی عہدیداروں کو یہ قبول نہیں۔ اس بات کا ثبوت اس وقت ملا جب ڈپٹی چیف منسٹر نے ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں کی موجودگی میں سکریٹری اقلیتی بہبود اور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ہدایت دی تھی کہ کارپوریشن کے ریٹائرڈ عہدیدار کو فوری ہٹایا جائے لیکن دو دن گزرنے کے باوجود آج تک اس ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا اور ریٹائرڈ عہدیدار اپنے سابقہ عہدہ کے ساتھ برقرار ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر آج جب حج ہاؤز پہنچے اور انہیں اس بارے میں اطلاع ملی تو انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ بتایاجاتا ہے کہ مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار بیک وقت سکریٹری اور مینجنگ ڈائرکٹر کا پسندیدہ شخص ہے اور وہ اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاسکتے۔ کارپوریشن کے ملازمین کا ماننا ہے کہ دونوں عہدیداروں کی بعض مجبوریاں ہیں اور وہ اس شخص کے خلاف نہیں جاسکتے۔ بھلے ہی وہ چیف منسٹر کا حکم کیوں نہ ہو۔ چیف منسٹر نے مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار کی فائل کو مسترد کردیا ۔ اس کے باوجود دو عہدیداروں کی سرپرستی میں اسے برقرار رکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے ڈپٹی چیف منسٹر نے کارپوریشن سے متعلق ان کی ہدایت کو نظرانداز کرنے پر سکریٹری اور  مینجنگ ڈائرکٹر پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت کی کوئی اہمیت نہیں تو کس کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے مذکورہ متنازعہ ریٹائرڈ شخص سے غیر معمولی ہمدردی اور وابستگی کی وجوہات کے بارے میں استفسار کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی برہمی کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں نے ریٹائرڈ عہدیدار کو فوری ہٹانے سے اتفاق کیا لیکن دو دن گزرنے کے باوجود ابھی تک اس ہدایت پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت کو بے خاطر کرنے کیلئے مقامی سیاسی جماعت کے ذریعہ حکومت پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ کسی طرح مذکورہ شخص کو کارپوریشن میں برقرار رکھا جاسکے۔ اقلیتی بہبود کے ملازمین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر بے قاعدگیوں میں ملوث شخص کو دو اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی کئی سوالیہ نشان کھڑی کرسکتی ہے۔ بے قاعدگیوں میں ملوث شخص کا حقیقی مقام سرکاری دفتر نہیں ہے بلکہ گزشتہ پانچ برسوں میں غیر قانونی طریقہ سے حاصل کی گئی تنخواہ کی ریکوری کی جانی چاہئے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT