Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی کارپوریشن کی بینک قرض سبسیڈی اسکیم سے ہزارہا افراد کو محرومی کا امکان

اقلیتی کارپوریشن کی بینک قرض سبسیڈی اسکیم سے ہزارہا افراد کو محرومی کا امکان

درخواستیں نشانہ سے متجاوز، کارپوریشن کے بجٹ میں اضافہ کی ضرورت
حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز ) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے بینک قرض سے مربوط سبسیڈی فراہمی اسکیم کیلئے اگرچہ ہزاروں درخواستیں داخل ہوچکی ہیں لیکن حکومت نے کارپوریشن کو جو نشانہ مقرر کیا ہے وہ 8153ہے جس کے باعث ہزاروں درخواست گذار اس اسکیم سے محروم ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے 50تا80فیصد سبسیڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 100سے زائد مختلف کاروبار کے آغاز کیلئے یہ سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے اسکیم کیلئے بطور سبسیڈی 87کروڑ 40لاکھ روپئے کا نشانہ مقرر کیا جبکہ 8153 امیدواروں کو سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ 80فیصد سبسیڈی کی فراہمی سے اقلیتوں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوئی اور تاحال 30ہزار سے زائد درخواستیں داخل کردی گئیں۔ آن لائن درخواستوں کے ادخال اور اسنادات کی نقل متعلقہ ایکزیکیٹو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفتر میں جمع کرنے کیلئے زبردست ہجوم دیکھا جارہا ہے اور اسٹاف کی کمی کے نتیجہ میں عہدیداروں کو درخواست گذاروں سے نمٹنے میں دشواری ہورہی ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے کم نشانہ مقرر کیا ہے جس میں فوری اضافہ کی ضرورت ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذمہ داروں کو چاہیئے کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف بجٹ بلکہ نشانہ میں اضافہ کو یقینی بنائیں۔ سابق میں اس طرح کی صورتحال پر حکومت سے زائد بجٹ کی منظوری کی روایت موجود ہے۔ موجودہ اسکیم کیلئے اگرچہ کارپوریشن نے مختلف شرائط کا اعلان کیا ہے تاہم کارپوریشن کے دفاتر میں امیدواروں کی رہنمائی کرنے کیلئے علحدہ سیل موجود نہیں ہیں جس کے سبب عوام بروکرس سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ اسکیم کے تحت سبسیڈی اور قرض کی منظوری کا یقین دلاتے ہوئے بروکرس 20تا 30ہزارروپئے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان بروکرس کی کارپوریشن کے ملازمین سے ملی بھگت ہے۔ سبسیڈی اسکیم کیلئے 10اضلاع کے جو نشانے مقرر کئے گئے ہیں ان میں حیدرآباد کیلئے صرف 3,125 کا نشانہ مقرر کیا گیا جبکہ صرف حیدرآباد سے ہی 15تا20ہزار درخواستیں داخل ہونے کا امکان ہے کیونکہ درخواستوں کے ادخال کیلئے ابھی 9دن باقی ہیں۔ عادل آباد کا نشانہ 543، کریم نگر 443، کھمم 287، محبوب نگر 601، میدک 606، نلگنڈہ 340، نظام آباد 709، رنگاریڈی 1132 اور ورنگل کیلئے 357 افراد کا نشانہ مقرر کیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے 2014-15کی سبسیڈی اسکیم کے مقررہ نشانوں کی ابھی تک تکمیل نہیں کی ہے۔ اسی دوران روز نامہ ’سیاست‘ کے ہیلپ لائن سنٹر سے روزانہ سینکڑوں افراد استفادہ کررہے ہیں جہاں نہ صرف ان کی مؤثر رہنمائی کی جارہی ہے بلکہ آن لائن درخواستوں کے ادخال کی سہولت مفت فراہم کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT