Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی کمیشن بھی متعصب عہدیداروں کی ہراسانی کا شکار

اقلیتی کمیشن بھی متعصب عہدیداروں کی ہراسانی کا شکار

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں سمینار کا آغاز ، افتتاحی اجلاس سے جناب عابد رسول خاں اور دیگر کا خطاب

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں سمینار کا آغاز ، افتتاحی اجلاس سے جناب عابد رسول خاں اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : اقلیتی کمیشن بھی متعصب عہدیداروں کی ہراسانی کا شکار ہورہا ہے چونکہ کمیشن اپنے اختیارات کے استعمال کے ذریعہ اقلیتوں کو حقوق دلوانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ صدر نشین آندھرا پردیش ریاستی اقلیتی کمیشن جناب عابد رسول خاں نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعہ سماجی اخراج و شمولیت پالیسی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ سمینار بعنوان ’ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد ، مسلمانوں اور عیسائیوں کی ایذا رسانی اور سماجی اخراج ‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست آندھرا پردیش میں بھی کئی متعصب عہدیدار ہیں جو کمیشن کو نشانہ بنا رہے ہیں چونکہ کمیشن کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ انصاف رسانی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں ۔ جناب عابد رسول خاں نے بتایا کہ انہوں نے جس وقت صدر نشین اقلیتی کمیشن کے عہدے کا جائزہ لیا تو اس وقت کمیشن میں کچھ نہیں تھا ۔ اب جب کمیشن کارکرد ہوچکا ہے تو عہدیدار اسے پریشان کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر مسلم ، عیسائی اتحاد کو مضبوط ہونے سے روکنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ کوششیں جب لاحاصل ثابت ہونے لگی تو اب ہندوتوا طاقتیں کھل کر مسلم ۔ عیسائی اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے کے بیانات جاری کرنے لگی ہیں ۔ جناب عابد رسول خاں نے سبرامنیم سوامی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سبرامنیم سوامی کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ عیسائیوں کو مسلمانوں سے متحد ہونے نہیں دیا جانا چاہئے ۔

انہوں نے بتایا کہ قومی ذرائع ابلاغ ادارے صنعتکاروں کے کنٹرول میں ہیں اور وہ مودی کو اہمیت دیتے ہوئے لہر دکھانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے ان امور پر مباحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف پر تشدد واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زعفرانی ذہنیت کے فروغ کے لیے اس طرح کی حرکات کی جارہی ہیں ۔ ڈاکٹر جوزف ڈیسوزا نے اس موقعہ پر اپنے خطاب کے دوران جمہوریت کے استحکام کے لیے دلت ، بی سی ، عیسائی اور مسلم اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجی انصاف اور تحفظ کی ضمانت کے ذریعہ جمہوریت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عیسائی طبقات کے ساتھ سرکاری سطح ہوئی ناانصافیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں ایک مطالعاتی رپورٹ تیار ہے کہ کس طرح سرکاری اداروں سے عیسائیوں کے اخراج کی سازش ہوئی ۔ ڈاکٹر جوزف ڈیسوزا نے بھارتیہ جنتا پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ کی جانب سے معذرت خواہی کے لیے تیار ہونے کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ راج ناتھ سنگھ معذرت خواہی کی بات تو کہہ رہے ہیں لیکن یہ وضاحت کرنے سے صدر بھارتیہ جنتا پارٹی قاصر نظر آرہے ہیں کہ وہ آخر کس بات کے لیے معذرت خواہی پر تیار ہیں ۔ اس سمینار کی صدارت پروفیسر محمد میاں وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی نے کی ۔ اس سمینار میں پروفیسر فیضان مصطفی نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ اس موقعہ پر ڈائرکٹر مرکز برائے مطالعہ سماجی اخراج و شمولیت پالیسی پروفیسر کانچہ ایلیا ، سمینار کوآرڈینٹر ڈاکٹر اے ناگیشور راو ، ڈاکٹر یس عبدالطہ کنوینر سمینار موجود تھے ۔ ڈاکٹر جوزف ڈی سوزا صدر نشین آپریشن ، موبلائیزیشن انڈیا اینڈ پریسیڈنٹ دلت فریڈم نیٹ ورک نے دلتوں ، مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مکمل انصاف کا حصول ان طبقات کے درمیان اتحاد کی صورت میں ہی ممکن ہے ۔ پروفیسر فیضان مصطفی وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی نے اس سمینار سے اپنے کلیدی خطاب کے دوران ملک میں اقلیتوں کو حاصل حقوق اور ان کے حصول کے لیے کوششوں کے طریقہ کار کے علاوہ پسماندہ طبقات کی حالت زار کا تذکرہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT