Saturday , December 15 2018

اقلیتی کمیشن نے اقامتی اسکولوں کا دورہ کیا

تعلیمی اور دیگر سہولتوں کا جائزہ، صدرنشین محمد قمرالدین کا اظہار اطمینان
حیدرآباد۔26 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے محبوب نگر کا دورہ کرتے ہوئے اقلیتی اقامتی اسکولوں اور چرچ کمیٹی کی جانب سے چلائے جارہے تعلیمی اداروں کا معائنہ کیا۔ صدرنشین محمد قمرالدین کے علاوہ نائب صدرنشین بی شنکر لوکے اور رکن ایم اے عظیم اس دورے میں موجود تھے۔ کمیشن نے جڑچرلہ کاورم پیٹ میں چرچ کا دورہ کیا۔ چرچ کمیٹی نے پنجاب نیشنل بینک سے 6 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا لیکن اس کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے۔ بینک نے چرچ کو اپنے قابو میں لے لیا۔ عیسائی طبقے کے ایس جے جوزف نے اس سلسلہ میں کمیشن سے شکایت کی۔ کمیشن نے اس سلسلہ میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ کمیشن کی ٹیم نے کاورم پیٹ اقلیتی اقامتی اسکول فار گرلز کا دورہ کیا جہاں 637 طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس اسکول میں 40 نشستیں مخلوعہ ہیں۔ دورے کے موقع پر 4 لڑکیاں غیر حاضر تھیں۔ صدرنشین محمد قمرالدین نے طالبات سے تعلیمی سہولتوں، غذا اور دیگر امور کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ طالبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسکول انتظامیہ کے اقدامات کے بارے میں واقفیت حاصل کی گئی۔ دورے کے موقع پر کمیشن نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ریجنل آفیسر راملو نے تفصیلات سے واقف کروایا۔ صدرنشین محمد قمرالدین نے محبوب نگر کے ناگاسالا موضع میں اقلیتی اقامتی اسکول فار بوائز کا معائنہ کیا۔ اس اسکول میں 400 طلبہ کی گنجائش ہے جن میں 280 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ پرنسپل شریمتی فرحین بیگم نے کمیشن کو اسکول کا معائنہ کروایا۔ کمیشن نے محبوب نگر کے ایم بی چرچ کا دورہ کیا جو 200 ایکڑ اراضی پر محیط ہے۔ اس چرچ کے تحت 100 ملگیات ہیں۔ انہوں نے چرچ سے متعلق تنازعہ کے سلسلہ میں ذمہ داروں سے یکم ڈسمبر کو رجوع ہونے کی ہدایت دی۔

TOPPOPULARRECENT