Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی کمیشن کے بعد حج کمیٹی کی تشکیل تنازعہ کا شکار

اقلیتی کمیشن کے بعد حج کمیٹی کی تشکیل تنازعہ کا شکار

شیعہ رکن کی عدم شمولیت ، ایکٹ کی خلاف ورزی، صدارت کے لیے کئی دعویدار
حیدرآباد۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے جانے والے اقلیتی ادارے کسی نہ کسی تنازعہ کا شکار ہورہے ہیں اور حکومت کو تشکیل کے احکامات میں ترمیم پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اقلیتی کمیشن میں نائب صدرنشین کے عہدہ پر تنازعہ پیدا ہوا اور حکومت نے استعفیٰ طلب کرتے ہوئے نئے نائب صدرنشین کو نامزد کیا۔ 20 جنوری کو تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل کے احکامات جاری کئے گئے لیکن تشکیل کے فوری بعد کمیٹی بھی تنازعہ کا شکار ہوگئی اور حکومت ترمیمی احکامات کی اجرائی کا فیصلہ کرچکی ہے۔ مذکورہ دونوں اداروں کی تشکیل کے وقت قانونی نکات اور شرائط کی خلاف ورزی کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ اقلیتی کمیشن میں ایکٹ کے مطابق نائب صدرنشین کے عہدہ پر عیسائی طبقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو نامزد کیا جانا چاہئے ۔ حکومت نے جن کو نامزد کیا تھا ، وہ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ، لہذا قانونی پیچیدگی سے بچنے کیلئے حکومت نے نئے نائب صدرنشین کو نامزد کیا جن کا تعلق عیسائی طبقہ سے ہے۔ اسی طرح حج کمیٹی کی تشکیل سنٹرل حج کمیٹی ایکٹ 2002 ء کے تحت عمل میں لائی گئی۔ مرکزی ایکٹ کے تحت 6 مختلف زمرہ جات میں جملہ 16 ارکان کو نامزد کیا جاتا ہے اور ارکان اپنے صدرنشین کا انتخاب کرتے ہیں۔ حکومت نے جی او آر ٹی 21 میں جن 16 ناموں کا اعلان کیا ہے ، ان میں دو زمرہ جات میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ حج کمیٹی ایکٹ 2002 ء کے مطابق پہلے زمرہ میں ایک رکن پارلیمنٹ ، ایک رکن اسمبلی اور ایک رکن قانون ساز کونسل کو شامل کیا جانا چاہئے لیکن حکومت نے حج کمیٹی میں مسلم رکن پارلیمنٹ کو شامل نہیں کیا اور قانون ساز کونسل کے دو ارکان اور اسمبلی کے ایک رکن کو شامل کیا گیا ۔ تیسرے زمرہ کے تحت ایسے تین ارکان کو شامل کرنا ہے جو مسلم مذہبی معاملات اور قانون پر عبور رکھتے ہیں، ان میں ایک شیعہ فرقہ کی نمائندگی ہونی چاہئے ۔ حکومت نے اس زمرہ میں تین ارکان کو نامزد کیا لیکن ان میں ایک بھی شیعہ فرقہ سے نہیں ہے۔ اس مسئلہ پر شیعہ فرقہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ حکومت سے مختلف شیعہ تنظیموں نے اس سلسلہ میں نمائندگی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایکٹ کی خلاف ورزی کی صورت میں عدالت سے فوری حکم التواء کے خطرہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے احکامات میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تیسرے زمرہ میں ایک شیعہ رکن کو شامل کرتے ہوئے احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ کے مسئلہ پر حکومت نے قانونی رائے حاصل کی اور اسے یقین ہے کہ رکن پارلیمنٹ کی شرط سے بچا جاسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جن 16 ارکان کے ناموں کے ساتھ جی او جاری کیا گیا ، ان میں کس رکن کو ہٹاکر شیعہ رکن کو شامل کیا جائے گا۔ اعلان کردہ ناموں میں سے کسی ایک کو نکالنا حکومت کے لئے دشوار کن ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر ٹی آر ایس پارٹی کے حامی یا قائدین ہیں جنہیں تین سال کے انتظار کے بعد کوئی عہدہ حاصل ہورہا ہے۔ حج کمیٹی کی میعاد تین سال رہے گی اور اگزیکیٹیو آفیسر اندرون 45 یوم کمیٹی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے صدرنشین کے انتخاب کو یقینی بنائیں گے۔ دوسری طرف صدرنشین کے عہدہ کیلئے بعض دعویدار ابھی سے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس عہدہ کے لئے اگرچہ پہلے ہی حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس کے قائد مسیح اللہ خاں کے نام کو چیف منسٹر نے منظوری دیدی ہے۔ تاہم ریاستی وزیر ہریش راؤ اور رکن پارلیمنٹ کویتا کے دو کٹر حامی صدارتی دوڑ میں کود پڑے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف گوشوں سے ارکان مقننہ کو صدرنشین نامزد کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے تاکہ حج کمیٹی کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ حکومت کی اعلان کردہ کمیٹی میں علماء کی عدم شمولیت سے بھی مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ حج جیسے مقدس فریضہ کا راست تعلق مذہبی امور سے ہے اور اس کے لئے کمیٹی میں علماء کی موجودگی ضروری ہے۔ 2010 ء میں تشکیل دی گئی آخری حج کمیٹی میں علماء کو نمائندگی دی گئی تھی لیکن اس مرتبہ علماء کے زمرہ میں ٹی آر ایس کے حامیوں کو شامل کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT