Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / اقوام متحدہ اپنی توانائی اسرائیل کو ہراساں کرنے میں ضائع نہ کرے : نکی ہیلی

اقوام متحدہ اپنی توانائی اسرائیل کو ہراساں کرنے میں ضائع نہ کرے : نکی ہیلی

198 ملکی عالمی مجلس کے نشانے پر صرف ایک ملک
اسرائیل کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا
یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا دفاع
امریکی۔ اسرائیلی عوامی امور کمیٹی سے خطاب

واشنگٹن ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ میں امریکی قاصد نکی ہیلی نے آج اقوام متحدہ پر اسرائیل کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ وہ یہ بات ہرگز برداشت نہیں کرسکتیں کہ 198 ممالک پر مشتمل یہ عالمی مجلس اپنی نصف توانائی اسرائیل کی مذمت کرنے میں ضائع کردے۔ اس موقع پر نکی ہیلی نے نہ صرف اپنے ہندوستانی نژاد امریکی ہونے کا حوالہ دیا بلکہ جنوبی کیرولینا میں ان کی پرورش کے دوران پیش آئے بعض تلخ واقعات کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ یہی وجہ ہیکہ وہ ہراسانی کو بالکل برداشت نہیں کرسکتیں۔ نکی ہیلی نے کہا کہ جب وہ جوان ہوئیں تو جنوبی کیرولینا کے ایک چھوٹے سے مستقر میں ان کا خاندان ہی واحد ہندوستانی خاندان تھا جو وہاں آباد تھا اور مجموعی طور پر سب دوستانہ ماحول میں رہا کرتے تھے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر گزرنے والا دن عظیم تھا۔ میرے والدین تارکین وطن تھے۔ میرے والد پگڑی باندھا کرتے تھے اور میری والدہ ساڑی پہنا کرتی تھیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہمیں ہراساں کیا گیا۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ چاہے جو ہوجائے وہ ہراسانی کے خلاف کمربستہ ہوجائیں گی۔ بالکل اسی طرح وہ اسرائیل کے خلاف ہراسانی کا سلسلہ بھی برداشت نہیں کریں گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ 46 سالہ نکی ہیلی امریکہ میں اب تک کسی بھی صدارتی انتظامیہ کی پہلی ہندوستانی نژاد امریکی خاتون ہیں جنہیں کابینی درجہ کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذرا تصور کیجئے کہ ایک عالمی مجلس جس کے ارکان ایک دو نہیں بلکہ دنیا بھر کے 198 ممالک ہیں، وہ اپنی تمام تر توانائی (کم و بیش نصف) صرف ایک ملک یعنی اسرائیل کو ہراساں کرنے میں صرف کرے۔

جس وقت انہوں نے یہ بیان دیا اس وقت وہاں موجود شرکاء نے کھڑے ہوکر اور تالیاں بجاتے ہوئے ان کے بیان کا خیرمقدم کیا۔ نکی ہیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیشنوں میں ایک ماہ میں کم از کم ایک بار تو اسرائیل کی مذمت کی جاتی تھی لیکن اب نسبتاً ایسا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اگر اسرائیل کو ہراساں کیا جاتا ہے تو میں یہ برداشت نہیں کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی تمام ایجنسیوں کی جانب سے اسرائیل کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہئے۔ نکی ہیلی اس وقت طاقتور امریکی۔ اسرائیل عوامی امور کمیٹی سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک چونکہ اسرائیل کو پسند نہیں کرتے لہٰذا اسرائیل کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ بات مجھے پسند نہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی نصف توانائی صرف ایک ملک اسرائیل کی مذمت کرنے میں ضائع کررہا ہے۔ ہیلی نے جس انداز میں بات کہی اس سے یہی معلوم ہورہا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کررہی ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کی دامے، درمے، سخنے مدد کرنے اپنے وعدہ کا پابند ہے۔ اگر ہم مشرق وسطیٰ میں سیکوریٹی کی بات کریں تو پھر ہمیں ایران، شام، حزب اللہ، حماس، دولت اسلامیہ اور یمن کی قحط سالی کے بارے میں بھی بات کرنا چاہئے۔ مشرق وسطیٰ کو اس وقت دس اہم مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل سے کسی ایک مسئلہ کا بھی اسرائیل ذمہ دار نہیں ہے۔ اسے ان مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس موقع پر نکی ہیلی نے اپنے ترکش میں موجود ہر تیر کو چلانے کی کوشش کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے فیصلہ کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بنایا بلکہ یروشلم تو پہلے سے ہی اسرائیل کا دارالحکومت تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ٹرمپ نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ محض ایک حقیقت کو تسلیم کرنے کی بات ہے جس سے امریکہ کے سابق صدور ہمیشہ گریز کرتے آئے ہیں۔ یاد رہیکہ گذشتہ سال ڈسمبر میں ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور یہ اعلان بھی کیا تھا کہ امریکی سفارتخانہ جاریہ سال مئی میں یروشلم منتقل کردیا جائے گا جو دراصل اسرائیل کے وجود کی 70 ویں سالگرہ کا موقع بھی ہوگا۔ ٹرمپ کے اس فیصلہ نے عالم عرب میں تہلکہ مچادیا تھا جس کے بعد فلسطینی قائدین نے کئی دہوں سے جاری اسرائیل۔ فلسطین تنازعہ کی یکسوئی کیلئے امریکی ثالثی کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ واضح رہیکہ کل ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ یروشلم میں نئے امریکی سفارتخانے کے افتتاح کیلئے جاریہ سال مئی میں یروشلم کا دورہ بھی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT