Sunday , December 17 2017
Home / دنیا / اقوام متحدہ میں آنجہانی فیڈل کاسٹرو کو ہندوستان کا زبردست خراج عقیدت

اقوام متحدہ میں آنجہانی فیڈل کاسٹرو کو ہندوستان کا زبردست خراج عقیدت

مغربی ممالک غیرحاضر ، یو این او میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ اکبرالدین کا موثر خطاب

اقوام متحدہ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج کیوبا کے آنجہانی قائد فیڈل کاسٹرو کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیوبائی شہریوں نے آنجہانی قائد کی قیادت میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زبردست کامیابی حاصل کی جبکہ کیوبا پر زبردست بیرونی دباؤ بھی تھا تاہم کیوبا کے گلوبل ساؤتھ کی تائید میں آواز اٹھانے کی وجہ سے ہی ہندوستان اور کیوبا کے تعلقات میں زبردست بہتری پیدا ہوئی اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے قریب تر ہونے کا موقع ملا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ سید اکبرالدین نے فیڈل کاسٹرو کو تعزیت پیش کرنے کے لئے منعقد کئے گئے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈل کاسٹرو حقیقی معنوں میں ایک انقلابی قائد تھے اور عالمی سطح پر انہیں ایک قدآور قائد ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ یہ ان کی قیادت کا بھی اثر تھا کہ کیوبا نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زبردست ترقی کی۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے گلوبل ساؤتھ کے لئے کیوبا نے بھی آواز اٹھائی تھی اور یہی وجہ تھی جس نے کیوبا اور ہندوستان کو ایک دوسرے سے قریب کردیا اور آج یہ عالم ہے کہ کئی سال گزر جانے کے بعد بھی اقوام متحدہ میں دونوں ممالک ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں

اور ہمیشہ معاشی مساوات کے فروغ کی تائید اور بین الاقوامی روابط کے لئے درکار معاشی مساوات اور سماجی انصاف کو بین الاقوامی روابط کو بہتر بنانے کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائی۔ مختلف علاقائی گروپ اور ممالک کی نمائندگی کرنے والے تقریباً 30 سفراء نے فیڈل کاسٹرو کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جن کو 2 نومبر کو 90 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، اس کی صدارت جنرل اسمبلی کے صدر پیٹر تھامپسن نے کی۔ جبکہ روس، جنوبی آفریقہ، ایران اور چین کے مقررین نے بھی موثر انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آنجہانی فیڈل کاسٹرو کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ مغربی ممالک کا کوئی نمائندہ اس تعزیتی تقریب میں موجود نہیں تھا۔ اکبرالدین نے مزید کہا کہ جب ہندوستانی شہریوں کو فیڈل کاسٹرو کے انتقال کی خبر ملی تو انہیں ایسا لگا جیسے ان کا کوئی اپنا جدا ہوگیا ہو۔ وزیراعظم نریندر مودی سے کاسٹرو کو بیسویں صدی کی ایک مثالی شخصیت سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس وقت (جس وقت ان کی موت کی خبر ملی) وہ اپنے غم زدہ پیغام میں 125 کروڑ ہندوستانی عوام کی نمائندگی کررہے ہیں کیونکہ یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ ہندوستان کا ہر شہری فیڈل کاسٹرو کے انتقال سے رنجیدہ ہے،

کیونکہ ہندوستان کے لئے وہ ایک ’’دوست‘‘ سے کم نہ تھے۔ فیڈل کاسٹرو کے احترام میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا اور 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ اکبرالدین نے کہا کہ 1959ء کے انقلاب کے بعد ہندوستان ان چند پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے کیوبا کو تسلیم کیا تھا۔ سرد جنگ کے زمانے میں فیڈل کاسٹرو ناوابستہ تحریک کے ایک فعال رکن تھے اور اس وقت ہندوستان اور کیوبا نے اپنی قرابت داری کا آغاز کیا تھا جو اس وقت ترقی پذیر ممالک کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان۔ کی۔ مون نے اپنے پیغام میں فیڈل کاسٹرو کو بیسویں صدی کے لاطینی امریکہ کے اہم قائدین میں شمار کیا جنہوں نے کیوبا کی تاریخ سازی میں موثر رول ادا کیا کیونکہ فیڈل کاسٹرو جس قائد کو اپنا رول ماڈل تصور کرتے تھے، وہ جوزمارٹن تھے جنہوں نے 19 ویں صدی میں کیوبا کی آزادی کے لئے زبردست جدوجہد کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT