Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / اقوام متحدہ میں فلسطینی پرچم کی تائید میں ہندوستان کا ووٹ

اقوام متحدہ میں فلسطینی پرچم کی تائید میں ہندوستان کا ووٹ

اقوام متحدہ ، 11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان ان 119 ممالک میں شامل ہے جنھوں نے جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کی تائید کی جس کے تحت غیر رکن مبصرین مملکت فلسطین اور وٹیکن کو اقوام متحدہ میں اپنے پرچم لہرانے کی اجازت دی جائے گی۔ رکن ممالک کے پرچموں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرس پر غیر رکن ممالک کو بھی اپنا پرچم لہرانے کی تائید میں ایک قرارداد رائے دہی کیلئے پیش کی گئی تھی۔ اس قرارداد کے خلاف آسٹریلیا، کینیڈا، اسرائیل، جزائر مارشل، مائیکرونیشیاء، پلاؤ، توالو اور امریکہ نے ووٹ دیئے۔

قرارداد کے متن کے بموجب اقوام متحدہ کے غیر رکن ممالک جو مستقل مبصرین ہوں اور جن کے مستقل سفارتخانے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرس میں قائم ہوں، رکن ممالک کے ساتھ اپنے پرچم بھی ہیڈکوارٹرس پر لہرا سکیں گے۔ متن میں معتمد عمومی بانکی مون سے درخواست کی گئی ہیکہ اس فیصلے پر 15 ستمبر سے عمل آوری کی جائے جبکہ جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگا۔ فلسطین کے سفیر برائے اقوام متحدہ ریاض منصور نے اس تاریخی رائے دہی کی ستائش کرتے ہوئے اسے آزاد مملکت فلسطین کے قیام کی سمت ایک اور قدم قرار دیا۔ یہ تیقن فلسطینی عوام کو تقریباً 70 سال قبل دیا گیا تھا۔ فلسطین 2012ء سے اقوام متحدہ کا مبصر ہے جبکہ وٹیکن کو یہ موقف 1964ء سے حاصل ہے۔

منصور نے تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے رائے دہی میں قرارداد کی تائید میں اپنا تاریخی ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے اہم وقت پر فلسطینی عوام کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔ تقریباً 50 سال کے قبضہ کے بعد جس میں 50 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوگئے، ان کی امید ختم ہوگئی تھی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنا پرچم لہرانے کے سلسلہ میں وہ ناامید ہوگئے تھے لیکن جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرلی۔ اس سے فلسطینی عوام کی امید بحال ہوگئی ہے اور وہ پرامن، بغیر تشدد کے اور حامی راستہ پر چلتے ہوئے محفوظ فلسطینی مملکت کے قیام کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس رائے دہی سے بین الاقوامی کوششوں کی بھی تائید ہوئی جو مشرق وسطیٰ کے تناظر کا جو مملکتی حل چاہتے ہیں، تاہم اس رائے دہی سے قبضہ گیر طاقت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو مزید مفلوج نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس قرارداد کی تائید کرنا چاہئے۔ امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ سامنتھا باور نے قرارداد کے خلاف اپنے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایک عرصہ سے فلسطینی اور اسرائیلیوں کے درمیان پرامن بقائے باہم چاہتا ہے جو اس قرارداد کی تائید کی صورت میں متاثر ہوگا۔ امریکہ نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

TOPPOPULARRECENT