Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / اقوام متحدہ میں پاکستانی احتجاج پر ہندوستان کا شدید ردعمل

اقوام متحدہ میں پاکستانی احتجاج پر ہندوستان کا شدید ردعمل

پاکستان کا برہان وانی کو مجاہد آزادی قرار دینا ہندوستان کیلئے ناقابل قبول

اقوام متحدہ۔14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پرتشدد واقعات کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائے جانے پر ہندوستان کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سلامتی کونسل میں ہندوستان کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ ایک ایسے ملک کو حقوقِ انسانی کی بات زیب نہیں دیتی جو ’دہشت گردی کو ریاستی پالیسی‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جمعرات کو جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کے موضوع پر خصوصی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی مندوب سید اکبر الدین کی جانب سے یہ ردعمل ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اسی کانفرنس سے اپنے خطاب میں کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کو ’کشمیری رہنما کا ماورائے عدالت قتل‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوج کشمیریوں کو کچل رہی ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’حال ہی میں ایک کشمیری لیڈر کو ماورائے عدالت گولی مار دی گئی اور دیگر درجنوں بے گناہ کشمیریوں کو بے رحمی سے ہلاک کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی قابض فوج طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کی آزادی کے حق کو کچل رہی ہے۔‘ خیال رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں میں کم سے36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1500 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے درجنوں کی آنکھوں میں چھرّے لگنے سے بینائی سے محرومی کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے برہان وانی کو مجاہد آزادی قرار دیا ہے جو ہندوستان کے لئے ناقابل قبول ہے۔

 

بان کی مون نے ہندو پاک راست بات چیت کی ہمیشہ تائید کی: ترجمان

اقوام متحدہ۔14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ہمیشہ ہندوپاک کے درمیان راست امن مذاکرات کی تائید کی ہے۔ مون کے ترجمان نے یہ بات بتائی اور سکریٹری جنرل کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد حالات جس طرح کشیدہ ہوئے ہیں اس پر تمام پارٹیوں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو پرامن بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے روزانہ کی بریفنگ کے دوران اخباری نمائندوں سے کہا کہ مسٹر مون کشمیر کے موجودہ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں پل پل کی خبریں مل رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات پر اظہار تاسف کرتے ہوئے تمام پارٹیوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مسٹر ڈوجارک نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ مسٹر مون ہمیشہ سے ہی اس بات کے قائل رہے ہیں کہ ہندوپاک کو امن مذاکرات راست طور پر کرنی چاہئے جس کے لئے کسی بھی ملک کی ثالثی کی بھی ضرورت نہیں۔

TOPPOPULARRECENT