Wednesday , September 19 2018
Home / دنیا / اقوام متحدہ پہلے خود کو سدھارے، اصلاحات پر عمل کرے

اقوام متحدہ پہلے خود کو سدھارے، اصلاحات پر عمل کرے

اقوام متحدہ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے اقوام متحدہ سے کہاکہ اول خود کو سدھارے اور بعدازاں دوسروں کو ہدایات دے۔ سکیورٹی کونسل کے کئی اصلاحات پر عمل آوری میں تاخیر افسوسناک ہے۔ مابعد 2015 ء ترقیاتی ایجنڈہ کے خدوخال کو روبہ عمل لانا ضروری ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی کہاکہ عالمی ادارہ کی افادیت کو خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اگر اقوام متحدہ نے ا

اقوام متحدہ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے اقوام متحدہ سے کہاکہ اول خود کو سدھارے اور بعدازاں دوسروں کو ہدایات دے۔ سکیورٹی کونسل کے کئی اصلاحات پر عمل آوری میں تاخیر افسوسناک ہے۔ مابعد 2015 ء ترقیاتی ایجنڈہ کے خدوخال کو روبہ عمل لانا ضروری ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی کہاکہ عالمی ادارہ کی افادیت کو خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اگر اقوام متحدہ نے اصلاحات کا عمل مؤثر طریقہ سے انجام نہیں دیا اور اپنی نمائندگی کو مضبوط بنانے میں کوتاہی کی تو اس کی

اہمیت گھٹ جائے گی۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ اشوک مکرجی نے کہاکہ اقوام متحدہ کے شرکاء کی اکثریت کا ’’مجموعہ تاثر‘‘ یہ ہے کہ بات چیت کے پانچ دور ہوچکے ہیں لہذا کونسل کے اصلاحات کو روبہ عمل لانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے مزید مؤثر و مضبوط نمائندگی میں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ مسٹر اشوک مکرجی سلامتی کونسل کی رکنیت میں اضافہ پر بھی نمائندگی کے سوال پر بین سرکاری مذاکرات کے غیر رسمی ابتدائی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ ان ماضی کے مہینوں کے دوران ہم نے ایک دوسرے سے کئی مرتبہ بات چیت کی ہے۔ بظاہر اس کا نتیجہ مفلوج ہورہا ہے۔ سلامتی کونسل کی ناکامی سے بحران کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں

اور سیاسی استحکام کو خطرہ ہوسکتا ہے لہذا بحران پر قابو پانے اور سیاسی استحکام کے لئے ایک مضبوط فریم ورک پر کام کرنا ضروری ہے۔ چاہے کے افریقہ کے براعظم کا مسئلہ ہو یا ایشیاء اور یوروپ کا معاملہ ہو، عوامی مفادات کے وسیع تر تناظر میں دستاویزات مرتب کئے جائیں۔ اس طرح کی خامی سے پہلے ہی انسانی اور مواد کا بھاری نقصان ہوچکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ماقبل 2015 ء ترقیاتی ایجنڈے برائے عالم ایک بلیو پرنٹ تیار کرلیا جائے تاکہ اقوام متحدہ کی افادیت کو کوئی خطرہ نہ پیدا ہوسکے۔ اجلاس میں شریک 46 مقررین میں سے 40 مقررین نے ہندوستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے قبل ازیں اصلاحات کے لئے ہندوستان نے جو موقف ظاہر کیا ہے وہ درست ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل زمروں کے تحت رکنیت سازی کو وسعت دینے کے وسیع تر مواقع ہیں۔

اس سے 2015 ء تک ٹھوس اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ اس موقف کی جاپان، برازیل، جنوبی افریقہ، نائجیریا، جرمنی، برطانیہ، فرانس، بنکارا گوا، پالو، بنین ملاوی، نسیٹ وانسٹو اور گرینڈنس کے علاوہ دیگر 30 ملکوں نے حمایت کی ہے۔ مسٹر اشوک مکرجی نے کہاکہ 2005 ء میں اقوام متحدہ کی منعقدہ 60 ویں چوٹی کانفرنس کے موقع پر تمام عالمی قائدین نے سلامتی کونسل میں اصلاحات پر زور دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT