Saturday , December 15 2018

اقوام متحدہ کنونشن کے پاک ۔ چین تعلقات پر اثرات

بیجنگ ۔ 3 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی زیرسرپرستی اقدام کی تائید کے ایک دن بعد جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ کا ایک جامع کنونشن کا انعقاد ہے، ذہنی تحفظات رکھنے والے چین نے آج اس کے اپنے قریبی حلیف پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات پر امکانی اثرات کا جائزہ لیا جس پر الزام ہیکہ وہ لشکرطیبہ جیسے دہشت گرد گروپس کی تائید میں ملو

بیجنگ ۔ 3 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی زیرسرپرستی اقدام کی تائید کے ایک دن بعد جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ کا ایک جامع کنونشن کا انعقاد ہے، ذہنی تحفظات رکھنے والے چین نے آج اس کے اپنے قریبی حلیف پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات پر امکانی اثرات کا جائزہ لیا جس پر الزام ہیکہ وہ لشکرطیبہ جیسے دہشت گرد گروپس کی تائید میں ملوث ہے۔ چین کی مجوزہ جامع کنونشن برائے بین الاقوامی دہشت گردی کی چینی تائید کے اثرات کے بارے میں جو پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات پر مرتب ہوں گے، وزارت خارجہ چین کے ترجمان ہونگ لی نے ذرائع ابلاغ کو چینی فیصلہ کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اس نے دہشت گردی کے مسئلہ پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون پر جزوی آمادگی ظاہر کی ہے،

محتاط جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ روس، ہندوستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں گہرائی سے اس مسئلہ پر کل تبادلہ خیال کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے علاوہ مشترکہ باہمی مفاد کے مسائل بھی اس میں شامل تھے۔ اس مسئلہ پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے۔ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ اصولوں اور مقاصد کی بنیاد پر جو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی تعلقات کی نگرانی کرنے والے بنیادی پیمانوں کے مطابق ہوں، یہی ہیکہ امن کے استحکام اور پوری دنیا کی حفاظت کو پیش نظر رکھا جائے۔ اس نے اپنے بیان میں پاکستان کا کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ روس کے ساتھ چین ہندوستانی حمایت یافتہ قرارداد کی تائید کرچکا ہے۔ یہ قرارداد اقوام متحدہ میں گذشتہ 19 سال سے زیرالتواء ہے۔ اسے پاکستان کی سرزنش سمجھا جارہا ہے۔ وزرائے خارجہ کے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہیکہ اقوام متحدہ کے کنونشن کا جلد از جلد انعقاد کیا جائے۔

وزراء نے اعادہ کیا کہ دہشت گردی اپنی تمام نوعیتوں اور توسیعی شکلوں میں جہاں بھی ہو اور جس کی جانب سے ہو اس کا کوئی بھی مقصد ہو بین الاقوامی امن اور صیانت کیلئے ایک خطرہ ہے۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انسانیت سوز جرم ہے۔ وزرائے خارجہ نے اعادہ کیا کہ کوئی بھی نظریاتی، مذہبی، سیاسی، نسلی یا کسی اور قسم کا جواز دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے فراہم نہیںکیا جاسکتا۔ انہوں نے خاطیوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہیکہ دہشت گردی کیلئے مالیہ فراہم کرنے والوں اور سرپرستوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ وزیرخارجہ چین وانگ کی اور وزیر خارجہ روس سرجی لاؤروف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سشماسوراج نے کہا کہ دہشت گردی کو کچلنے کیلئے جامع اقدامات کیلئے بین الاقوامی کنونشن بہت ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT