Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / اقوام متحدہ کو اسرائیلی امداد میں60 لاکھ ڈالر کی کٹوتی

اقوام متحدہ کو اسرائیلی امداد میں60 لاکھ ڈالر کی کٹوتی

اقوام متحدہ۔7جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے فلسطین میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو ختم کرنے اور وہاں جاری دیگر تعمیراتی سرگرمیوں کو فوری طور پر بندکرنے سے متعلق قرارداد منظور کئے جانے کی مخالفت میں اسرائیل نے آج کہا کہ اس کی طرف سے 2017 ء میں اقوام متحدہ کو ملنے والی مالی امداد میں 60 لاکھ ڈالر تک کی کٹوتی کی جائے گی۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے خلاف کام کرنے والے اداروں کی اقتصادی مدد کرنا غیر اخلاقی ہوگا۔  اقوام متحدہ میں اسرائیلی مشن نے کہا کہ 20 جنوری کو ٹرمپ کے صدر کے طور پر حلف لینے کے بعد اقوام متحدہ میں اسرائیل مخالف سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے مزید سخت قدم اٹھائے جائیں گے ۔اسرائیلی مشن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ان اداروں کی مالی مدد مکمل بند کی جائے گی جو ان کے بقول اسرائیل مخالف ہیں۔ ان اداروں میں فلسطینی عوام کے لازمی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی اور فلسطینی حقوق ڈویژن شامل ہے ۔فلسطینی اراضی پر اسرائیل کی غیر قانونی تعمیرات کو بند کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر 15 رکنی سلامتی کونسل میں 23 ڈسمبر کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں امریکہ نے حصہ نہیں لیا تھا۔قرارد کے حق میں 14 ووٹ پڑے تھے جبکہ ایک رکن کے طور پر امریکہ نے ووٹ نہیں دیا تھا۔مصر نے اس قرارداد کا مسودہ تیار کیا تھا لیکن اسرائیل نے ٹرمپ سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کو کہا جس کے بعد اس مسودہ قرارداد کو مصر کی طرف سے واپس لے لیا گیا تھا، لیکن ملیشیا، نیوزی لینڈ، سینیگال اور کولمبیا نے دوبارہ اس قراردادکو آگے بڑھا دیا تھا۔
اسرائیل اور امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی حکومت سے اس قرارداد پر ویٹو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ فلسطین کے لوگ 1967 کی جنگ میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے ، غزہ اور مشرقی یروشلم کو ملا کر ایک آزاد ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے علاوہ زیادہ تر ممالک کا یہ موقف ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی اور امن و استحکام کے لئے رکاوٹ ہیں۔واضح رہے کہ 2014 ء میں امریکہ کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کرانے کی کوشش ناکام رہی تھی۔ اس معاملے پر سلامتی کونسل کی جانب سے 1979 میں پہلی بار قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں امریکہ نے حصہ نہیں لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT