اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا لیبیا پر تحدیدات کا انتباہ

اقوام متحدہ۔ 18؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسلام پسندوں کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم کے ساتھ لیبیا میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ جو لوگ امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالیں گے، ان پر تحدیدات عائد کی جائیں گی۔ 15 رکنی سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی ثالثی سے آئندہ ہفتہ جنیوا میں مقرر امن

اقوام متحدہ۔ 18؍جنوری (سیاست ڈاٹ کام)۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسلام پسندوں کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم کے ساتھ لیبیا میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ جو لوگ امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالیں گے، ان پر تحدیدات عائد کی جائیں گی۔ 15 رکنی سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی ثالثی سے آئندہ ہفتہ جنیوا میں مقرر امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تائید کا اعلان کیا اور پُرزور انداز میں باہم جنگ میں شامل فریقین کو مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی۔ پہلے دور کے مذاکرات کے نتیجہ میں ایک معاہدہ طئے پایا تھا اور لیبیا میں متحدہ حکومت تشکیل دینے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ فجر لیبیا نیم فوجی تنظیم نے جنیوا میں مذاکرات کے پہلے دور میں شرکت نہیں کی تھی۔ اس نے جمعہ کے دن جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک متفقہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کے بحران کا فوجی حل ناممکن ہے۔ سلامتی کونسل نے کہا کہ جو لوگ لیبیا میں امن، استحکام یا صیانت کے لئے خطرہ بنیں گے یا اس میں رکاوٹ پیدا کریں گے یا سیاسی عبوری دور کی تکمیل پر اقتدار کی مکمل منتقلی کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کریں گے، ان پر تحدیدات عائد کی جائیں گی۔

لیبیا 2011ء میں معمر قذافی کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے مسلسل سیاسی بحران کا شکار ہے۔ حریف حکومتیں اور طاقتور نیم فوجی تنظیم شہروں اور تیل کی دولت سے مالامال ملک پر قبضہ کرنے کے لئے مسلسل جنگ میں مصروف ہیں۔ فجر لیبیا نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس نے گزشتہ گرما میں دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرلیا ہے۔ علاوہ ازیں تیسرے شہر مصراتہ پر بھی اس کا قبضہ ہے۔ اس طرح اقوام متحدہ کی جنگ میں مصروف حریفوں کو امن کی ترغیب دینے اور جنگ کے خاتمہ کے لئے سودابازی کرنے کی کوشش کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے سفیر برائے لیبیا برنارڈ لیون کی ثالثی کی کوششوں کی بھی ستائش کی جس کی وجہ سے امن مذاکرات ممکن ہوسکے ہیں اور لیبیا کے لئے امن کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT