Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیلئے ہندوستان کو اکثریت کی تائید

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیلئے ہندوستان کو اکثریت کی تائید

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے 50مقررین کا خطاب ‘ برطانیہ اور فرانس ہندوستان کی تائید پر اٹل

اقوام متحدہ ۔ 13نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مستقل نشست کیلئے ہندوستان کی جدوجہد کو اُس وقت زبردست تقویت حاصل ہوئی جب کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک بشمول برطانیہ ‘ فرانس نے ہندوستان کی تائید کی ۔ انہوں نے پفرزور انداز میں کہا کہ عالمی ادارہ کے اعلیٰ سطحی شعبہ کو نئی عالمی طاقتوں کی عکاسی کرنا چاہیئے ۔ 50سے زیادہ مقررین نے اس تجویز کی تائید کی اور 15رکنی سلامتی کونسل کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جو گذشتہ سال منعقدہوا تھا اظہار تشویش کیا ۔ کئی مقررین نے برازیل ‘ جرمنی ‘ ہندوستان اور جاپان کو ابھرتی ہوئی عالمی طاقتیں قرار دیا جب کہ بعض نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی مذاکرات برائے سلامتی کونسل اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے اظہار مایوسی کیا کہ اصلاحات ہنوز شروع نہیں کی گئی ہے ۔

7 نومبر کے اجلاس کی کارروائی اقوام متحدہ کے ویب سائٹ پر شائر کردی گئی ہے ۔ کئی ممالک کی جانب سے ہندوستان کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست فراہم کرنے کی تائید کے بعد برطانیہ کے سفیر برائے اقوام متحدہ میتھیو رائی کرافٹ نے کہا کہ برطانیہ کو یقین ہے کہ مستقل اور غیر مستقل نشستوں کے زمرے میں توسیع کی جائے گی جس سے عالمی ادارہ کا یہ اہم شعبہ ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی عکاسی کرسکے ۔ رکنیت کی تعداد میں اضافہ ایسا ہونا چاہیئے کہ مختلف مؤثر نمائندوں نے توازن قائم ہوسکے ۔ رائی کرافٹ نے کہا کہ ان کا ملک برازیل ‘ جرمنی ‘ ہندوستان اور جاپان کو افریقہ کے ساتھ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی تائید کرتا ہے ۔ وزیراعظم برطانیہ تھیریسامے نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا ۔ رائی کرافٹ نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ برطانیہ سلامتی کونسل میں مؤثر نمائندوں کی شمولیت کے موقف پر اٹل ہے ۔ فرانس کے نائب مستقل نمائندہ ایلکسیس لامیک نے کہاکہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ کونسل ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی عکاسی کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک جرمنی ‘ برازیل ‘ ہندوستان اور جاپان کو افریقہ کے ساتھ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی تائید کے موقف پر اٹل ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پانچ مستقل ارکان کو برقرار رکھا جانا چاہیئے اور اجتماعی مظالم کی صورت میں انہیں ویٹو کا استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ جرمنی کے سفیر برائے اقوام متحدہ ہیرالڈ براؤن نے اپنی تقریر میں G4گروپ کے رکن ممالک کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت دینے کا مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT