Monday , July 23 2018
Home / عرب دنیا / اقوام متحدہ کی ممنوعہ تنظیموں کیخلاف پاکستان میں آرڈیننس

اقوام متحدہ کی ممنوعہ تنظیموں کیخلاف پاکستان میں آرڈیننس

قانون سازی پر صدر ممنون حسین کے دستخط کیساتھ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا عملی مظاہرہ
اسلام آباد 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر پاکستان ممنون حسین نے ایک آرڈیننس پر دستخط کردیئے ہیں جس کا مقصد لشکر طیبہ، القاعدہ اور طالبان جیسی تنظیموں اور بعض افراد پر لگام کسنا ہے، جن پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے امتناع عائد کیا ہے، ایک میڈیا رپورٹ سے آج یہ بات معلوم ہوئی۔ دی اکسپریس ٹریبیون نے بتایا کہ یہ آرڈیننس قانون انسداد دہشت گردی کے ایک دفعہ میں ترمیم لاتا ہے جس سے حکام کو یو این ایس سی کے ممنوعہ افراد اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی جیسے اُن کے دفاتر کو مہربند کردینا اور اُن کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنا۔ نیشنل کاؤنٹر ٹررزم اتھاریٹی کے ذرائع نے اِس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اُمور داخلہ، فینانس اور اُمور خارجہ کی وزارتوں کے ساتھ ساتھ اتھاریٹی کے کاؤنٹر فینانسنگ آف ٹررزم ونگ بھی اِس معاملہ میں مل جل کر کام کررہے ہیں۔ قصر صدارت میں اس تبدیلی سے واقف کار ایک عہدیدار نے مذکورہ قانون سازی کی تصدیق کی لیکن تفصیلات کے افشاء سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ وزارت دفاع اِس ضمن میں اتھاریٹی کو مطلع کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ متعلقہ وزارت ہی اِس بارے میں تبصرہ کرے گی۔ سمجھا جاتا ہے کہ حکام پر بین الاقوامی عہد و پیمان کے سبب دباؤ ہے کہ اِس طرح کی تنظیموں کے خلاف فینانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے چوکھٹے میں اقدامات کئے جائیں۔ یہ ٹاسک فورس ایسا بین الاقوامی ادارہ ہے جو غیرقانونی رقمی لین دین دہشت گردی کے لئے فنڈس کی فراہمی کے اُمور سے نمٹتا ہے۔ سلامتی کونسل کی تحدیدات والی فہرست میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، لشکر طیبہ اور دیگر شامل ہیں۔ گزشتہ سال ڈسمبر میں حکومت نے حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے دو خیراتی اداروں کو اپنی تحویل میں لینے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس سلسلہ میں لائحہ عمل پیش کیا جانا تھا۔ گزشتہ ماہ حکومت نے جماعت الدعوۃ ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کو عطائے دینے سے کمپنیوں اور افراد کو منع کردیا تھا۔ جنداللہ آخری تنظیم ہے جسے حکومت پاکستان نے 31 جنوری 2018 ء کو ممنوعہ قرار دیتے ہوئے این اے سی ٹی اے ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے۔ تاہم جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بدستور اس اتھاریٹی کی فہرست بہ متعلق مشکوک تنظیمیں میں شامل ہیں۔ لشکر طیبہ کو سلامتی کونسل نے 2005 ء میں قرارداد 1267 کے تحت ممنوعہ قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT