Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / اقوام متحدہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر ہند۔ پاک لفظی جھڑپ

اقوام متحدہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر ہند۔ پاک لفظی جھڑپ

اقوام متحدہ۔ 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کی زبانی تکرار ہوئی۔ ہندوستانی وفد نے پاکستانی وفد کے تبصرہ کو ناگوار تبصرے قرار دیا اور کہا کہ وہ حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کی ویب سائیٹ پر اجلاس کی روئیداد کا خلاصہ شائع ہوا ہے۔ یہ اجلاس جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کا

اقوام متحدہ۔ 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کی زبانی تکرار ہوئی۔ ہندوستانی وفد نے پاکستانی وفد کے تبصرہ کو ناگوار تبصرے قرار دیا اور کہا کہ وہ حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کی ویب سائیٹ پر اجلاس کی روئیداد کا خلاصہ شائع ہوا ہے۔ یہ اجلاس جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کا تھا جو سماجی، انسانی، ثقافتی مسائل سے نمٹتی ہے۔ پاکستانی وفد کے دیار خان نے کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے حق خوداختیاری سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ نسل پرستی کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے دیار خان نے کہا کہ حق خوداختیاری آزادانہ ماحول میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں دھمکیاں نہیں دی جارہی ہوں اور نہ جبر کیا جارہا ہو کیونکہ رائے دہی کا عمل غیرملکی قبضہ کی حالت میں یا اجنبی افراد کے غلبہ کی صورت میں عوام کی حقیقی خواہشات کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ حق خوداختیاری وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ختم نہیں ہوجاتا اور نہ اسے دہشت گردی کے الزامات عائد کرتے ہوئے بالائے طاق رکھا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی وفد کی مایانک جوشی نے پرزور انداز میں کہا کہ حقائق کے اعتبار سے پاکستان کا تبصرہ غلط ہے اور ناگوار بھی ہے۔ جموں و کشمیر کے حقیقی حالات کی عکاسی نہیں کرتا۔ اجلاس کے خلاصہ کے بموجب انہوں نے کہا کہ کہ آزادانہ ، منصفانہ اور کھلے انتخابات باقاعدگی سے اس سرزمین میں ہر سطح پر منعقد کئے جاتے ہیں۔ جوشی نے کہا کہ ہندوستان کثیر مذہبی، کثیر نسلی اور کثیر لسانی معاشرہ ہے جو تعصب کی تمام اشکال کو ختم کرنے کا پابند ہے۔ جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ ہندوستانی وفد نے الزام عائد کیا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کئی قراردادیں منظور کرچکی ہے جن کے مطابق جموں و کشمیر ایک ’’متنازعہ علاقہ‘‘ ہے۔ دیار خان نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر کے انتخابات کو اقوام متحدہ اور کشمیری عوام نے مسترد کردیا ہے۔قراردادوں سے وضاحت ہوچکی ہے کہ ہندوستانی عہدیداروں کے منعقدہ انتخابات آزادانہ استصواب عامہ کا متبادل نہیں ہوسکتے جو اقوام متحدہ کی جانب سے منعقد کیا جائے۔ ہندوستانی نمائندہ نے کہا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ جموں و کشمیر کے انتخابات کی جانچ کرچکے ہیں اور انہوں نے انتخابات میں کوئی کوتاہی نہیں پائی۔

TOPPOPULARRECENT