اقوام متحدہ کے سربراہ کا انتخابی عملہ زیادہ شفاف بنانے کی ضرورت

اقوام متحدہ۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے موجودہ سربراہ بانکی مون کی میعاد 2016ء میں ختم ہوجائے گی۔ ہندوستان نے زیادہ شفافیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب جنرل سکریٹری انتخاب کا مرحلہ پیش آئے گا تو انتخاب کا طریقہ کار زیادہ شفاف ہونا چاہئے۔ جنرل اسمبلی کو انتخابی

اقوام متحدہ۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے موجودہ سربراہ بانکی مون کی میعاد 2016ء میں ختم ہوجائے گی۔ ہندوستان نے زیادہ شفافیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب جنرل سکریٹری انتخاب کا مرحلہ پیش آئے گا تو انتخاب کا طریقہ کار زیادہ شفاف ہونا چاہئے۔ جنرل اسمبلی کو انتخابی عمل میں زیادہ حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ جنرل اسمبلی کے کام کو زیادہ فعال بنانے کی اہم ضرورت اجاگر کرتے ہوئے ہندوستان کے مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ سفیر اشوک مکرجی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے 193 ارکان ہیں۔ بین الاقوامی برادری ان ہی کی آواز ہے، اس لئے انہیں اقوام متحدہ کے معتمد عمومی کے انتخاب میں زیادہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ اشوک مکرجی نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے کردار اور ذمہ داریوں کے انتخابی عمل میں مسلسل کم کئے جارہے ہیں۔ انہیں انتخاب کے عمل میں زیادہ موقع دیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یہی اقوام متحدہ کے نظام کے عمومی مفاد میں ہے۔ خاص طور پر جنرل اسمبلی کو اختیار تمیزی حاصل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی کوششیں شروع کی جائیں، ان میں سب کو ساتھ لیا جانا چاہئے اور معتمد معمومی کے تقرر کا عمل زیادہ شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاتاخیر اس سلسلے میں کارروائی ضروری ہے۔ بانکی مون نے جنوری 2007ء میں اپنا عہدہ سنبھالا تھا اور متفقہ طور پر دوسری میعاد کیلئے جون 2011ء میں منتخب ہوئے تھے، انہیں ڈسمبر 2016ء تک معتمد عمومی کے عہدہ پر برقرار رہنا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ کے انتخاب کے عمل میں رفتار تیز ہوتی جارہی ہے۔ انتخاب کا عمل شفاف نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سکریٹری جنرل کا تقرر کرتے ہیں۔ این جی اوز کے ایک وفاق سات ارب میں سے ایک ارب رکنیت کے ساتھ اس طریقہ کار کو شفاف بنانے کا مطالبہ کررہا ہے کیونکہ معتمد عمومی کا انتخاب دنیا کی سات ارب آبادی کو متاثر کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT