Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / اقوام متحدہ کے سربراہ کی افغانستان میں حملہ کی مذمت

اقوام متحدہ کے سربراہ کی افغانستان میں حملہ کی مذمت

KABUL, JULY 24:-Broken glass and debris are seen inside a resturant a day after a suicide attack in Kabul, Afghanistan July 24, 2016. REUTERS-7R

ایران کی جانب سے کابل میں دو بم دھماکوں کی مذمت ‘ ملت کے اتحاد پر زور
تہران / اقوام متحدہ ۔ 24جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون کی زیرقیادت عالمی ادارہ نے پُر امن افغانستان میں دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس حملہ کو قابل تعزیر جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خاطیوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔  ان بم دھماکوں میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور دیگر 231 زخمی ہوگئے تھے ۔ جب کہ شیعہ ہزارہ قبیلہ نے ایک احتجاجی جلوس نکالا تھا ۔ دولت اسلامیہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ بانکی مون کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حملہ کے ذمہ داروں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کے طاقتور شعبہ سلامی کونسل نے اپنے ایک بیان میں سخت ترین لب و لہجہ میں اس گنھاؤنے اور بزدلانہ دہشت گرد حملہ کی کل مذمت کی تھی ۔ دو بم دھماکے سلسلہ وار انداز میں ڈیل مازنگ چوک میں پُرامن احتجاجی جلوس کے دوران کئے گئے تھے ۔ 15رکنی سلامتی کونسل نے کہا کہ خاطیوں ‘ منتظمین ‘ مالی امداد فراہم کرنے والوں اور اس گھناؤنے دہشت گرد جرم کے خاطیوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے ۔ سلامتی کونسل نے تمام رکن ممالک سے افغان عہدیداروں کو اس سلسلہ میں ؎سرگرم امداد دینے کا مطالبہ کیا ۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کے صدر نے کہا کہ اس بے رحم حملہ کا کوئی جواز نہیں ہے اور انہوں نے خاطیوں کو جواب دہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر نے اپنے گہرے رنج اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں قتل عام کیا جارہا ہے ۔ تہران سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیرخارجہ ایران محمد جواد ظریف نے دولت اسلامیہ کے دو سلسلہ وار بم حملوں کی مذمت کی جو شیعہ اقلیت ہزارہ قبیلہ کے پُرامن جلوس کے دوران کئے گئے تھے جس سے کم از کم 80 افراد ہلاک ہوگئے ۔ افغانستان کے دہشت گرد حملے دولت اسلامیہ کی گہری محرومی اور مایوسی کا ایک اور اظہار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی فرقوں کو متحد ہوجانا چاہیئے تاکہ انتہا پسندوں کو شکست دی جاسکے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ اس بدبختانہ تنظیم کا ( دولت اسلامیہ ) کا خاتمہ اُس وقت تک ممکن نہیں ہے  جب تک کہ تمام ممالک ان کی دہشت گردی کو سمجھ لیں اور اس کا متحدہ مقابلہ کریں ۔ انہوں نے ان حملوں کو غیر انسانی اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے حملے دنیا میں کہیں بھی کئے جائیں ناقابل قبول ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT