Monday , September 24 2018
Home / اداریہ / الجھن پیدا کرنے کی کوشش

الجھن پیدا کرنے کی کوشش

چلاجاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے الجھن پیدا کرنے کی کوشش

چلاجاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے
الجھن پیدا کرنے کی کوشش
مرکز میں کانگریس ہائی کمان سے تصادم کی راہ اختیار کرتے ہوئے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی تلنگانہ پر بل کو مسترد کرنے کیلئے ریاستی اسمبلی میں قرارداد لانے کی ضد کررہے ہیں۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے تلنگانہ بل پر ریاستی اسمبلی کی رائے طلب کی تھی اور اس پر مباحث کیلئے مہلت بھی دی گئی تھی لیکن چیف منسٹر نے اسپیکر اسمبلی کو نوٹس دے کر ایسے وقت بحث چھیڑ دی جب بل پر مباحث کا آخری مرحلہ پہنچا ہے۔ اس بحث میں پڑنے کا اب وقت نہیں ہے۔ حالات کس نے پیدا کئے اور ان حالات سے کس کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ تلنگانہ بل کو بغیر کسی استرداد کے صدرجمہوریہ کے پاس روانہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ چیف منسٹر کے موقف سے علاقہ میں ناراضگی پیدا ہوگی۔ عوام کے دیرینہ مطالبہ کو محض ایک فرد کی نادانی کے باعث تاخیر کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ چیف منسٹر غیر ضروری الجھن پیدا کررہے ہیں۔ لمحہ آخر میں ان کی اس فاش غلطی کا خمیازہ ریاستی سطح پر کانگریس کو نقصان ہوگا۔ چیف منسٹر کو یہ زعم ہے کہ وہ متحدہ آندھراپردیش کے سربراہ ہیں انہیں فراخدلی کے ساتھ تلنگانہ کے قیام کی راہ کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر کو شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلنگانہ پر تنازعہ پیدا نہیں کرنا چاہئے۔ تلنگانہ بل کیلئے صورتحال یہ ہیکہ لوک سبھا انتخابات سے قبل اسے پارلیمنٹ سے منظوری مل جائے لیکن چیف منسٹر نے بل میں غلطیاں اور کسی کو فائدہ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر تاخیر سے کام لینا چاہتے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے بھی یہ اشارہ دے کر تلنگانہ بل کی منظوری میں تاخیر ہونے کا اشارہ دیا کہ بل میں اگر غلطیاں ہیں تو اس کو درست کرلیا جائے گا۔

کانگریس کی مرکزی قیادت اور علاقائی قائدین کرکے بیانات بے اہمیت ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ بھی کرن کمار ریڈی کی طرح مغالطے کا شکار ہوناچاہتے ہیں جبکہ چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے مزاج کے تعلق سے عام خیال یہی پایا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کانگریس اور یو پی اے حکومت کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اسمبلی سیشن کے اختتام پر ریاست کی تقسیم پر ہائی کمان الجھن کا شکار ہوجائے۔ جس تلنگانہ بل کو ملک کے اولین شہری نے منظوری کیلئے روانہ کیا تھا اس اولین شہری کو نظرانداز کرکے بل کو کوڑے دان میں ڈالنے کی فکر کرنے والے اس ملک کے بہترین شہری کہلانے کے مستحق ہیں؟ چیف منسٹر نے گذشتہ چند ہفتوں سے حکمرانی کے فرائض انجام دینے کے بجائے ریاست کی تقسیم کے عمل کو روکنے ساری توانائی صرف کررہے ہیں۔ ریاست کے کئی علاقوں میں ترقیات پر توجہ نہیں دی گئی ہے ۔کئی مہینوں سے یہاں حکومت نہیں کے برابر ہے۔ گذشتہ 57 سال کے تجربہ کی بنیاد پر ہی تلنگانہ عوام کو آندھرا کی قیادت سے مایوسی ہوئی ہے۔ یہ لوگ ہر سطح پر تلنگانہ عوام کو کنارہ کرتے آرہے ہیں۔ جب یہ طئے ہوچکا ہیکہ تلنگانہ کو ہندوستان کی 29 ویں ریاست کا درجہ دیا جائے گا تو اس سلسلہ میں ٹال مٹول کی پالیسی نامناسب ہے۔ تلنگانہ علاقہ میں دولت، تجارت، صاف ستھری شہرت، صفائی اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ کیا مخالف تلنگانہ قائدین کو یہ سمجھنے کیلیء کافی نہیں ہیکہ ان کی مخالفت سے مسائل پیدا ہوں گے اور اس سے کئی دیگر مسائل ابھریں گے۔ کسی بھی مسئلہ پر فیصلہ کرنے کیلئے مرکز طاقتور موقف رکھتا ہے لیکن تلنگانہ بل کیلئے کیا وجہ ہے کہ مرکز کو ریاستی چیف منسٹر کے دباؤ کے آگے جھکتے دیکھا جارہا ہے۔ مرکز علاقائی مشکلات کا علم ہونے کے باوجود اس کو سمجھنے سے گریز کررہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آیا مرکز پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس تلنگانہ بل کو منظور کرانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

چیف منسٹر کی ڈرامہ بازی تلنگانہ بل کو نقصان پہنچائے گی تو اس کے نتائج افسوسناک ہوں گے۔ مرکز کو علاقائی سطح پر کشمکش کی کیفیت کو ہوا دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس سیاسی کشمکش کو تعصب اور نفرت میں بدلنے میں آندھرائی قائدین نے باقاعدہ منصوبہ بنایا ہوگا۔ کرن کمار ریڈی اور آندھرا کے وزرا نے تلنگانہ بل کے خلاف سرکاری قوت کا بھی استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ یہ امر قابل غور ہیکہ چیف منسٹر نے کھلے عام ہائی کمان کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے باغیانہ روش اختیار کی ہے۔ سیما آندھرا لابی کو ملک میں دوسری سب سے طاقتور لابی مانا جاتا ہے۔ وہ اپنے معمول کے رول کے ذریعہ ہائی کمان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کردیا ہے۔ اس خصوص میں ہائی کمان یا مرکز کو ریاستی گورنر کی سفارش کا جائزہ لینا ہوگا۔ تلنگانہ کے قیام میں تاخیر کا اشارہ اب غیر تلنگانہ لوگ بھی دینے لگے ہیں۔ یوگا گرو بابا رام دیو کو یہ گمان ہیکہ لوک سبھا انتخابات سے قبل تلنگانہ کے قیام کا امکان نہیں ہے کیونکہ کانگریس نے اس مسئلہ کو اپنے سیاسی ووٹ بینک سے مربوط کر رکھا ہے۔ ماضی کی طرح اس مسئلہ کو عاقبت اندیش حکمرانوں کی طرح تاخیر کی نذر کردیا گیا تو کئی خرابیاں اور غلطیاں پیدا ہوں گی جس کو درست کرتے کرتے مخالف تلنگانہ قائدین سرگرم سیاست سے غائب ہوجائیں گے۔ تلنگانہ عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کرتے ہوئے بل پر بحث کے بعد اسے صدرجمہوریہ کو روانہ کیا جائے بصورت دیگر ریاست آندھراپردیش کے سیاسی نظام میں کوئی نہ کوئی تبدیلی آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT