Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / الحاج ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کا سانحہ ارتحال

الحاج ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کا سانحہ ارتحال

حیدرآبادی تہذیب کی نمائندہ اور وضعدار شخصیت، نماز جنازہ میں ہزاروں سوگواران شریک
مسرز محمد محمود علی، زاہد علی خاں، محبوب عالم خاں، چندرا بابو نائیڈو اور سرکردہ سیاسی و سماجی شخصیتوں کا خراج عقیدت
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست (سیاست  نیوز) یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ حیدرآبادی تہذیب و تمدن کی نمائندہ اور وضعدار شخصیت الحاج ابراہیم بن عبداللہ مسقطی سابق رکن قانون ساز کونسل نے آج صبح کی ابتدائی ساعتوں میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ سیاسی ، سماجی ، فلاحی اور ملی سرگرمیوں میں گزشتہ 50 برس سے زائد تک اہم رول ادا کرنے والی اس شخصیت کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آج شام ان کے آبائی قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا۔ ان کی عمر 85 برس تھی ۔ پسماندگان میں 6 فرزند اور 4 دختر شامل ہیں۔الحاج ابراہیم بن عبداللہ مسقطی نے حیدرآباد کی سیاست اور عوامی زندگی میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور وہ عوام میں ایک بے باک قائد اور عوامی مسائل پر کسی دباؤ اور مصلحت کے بغیر اٹل موقف اختیارکرنے کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی گزشتہ کچھ عرصہ سے علیل تھے اور ڈاکٹرس نے صحت میں بہتری کے بعد انہیں قیامگاہ منتقل ہونے کی اجازت دیدی تھی۔ آج صبح تقریباً 5 بجے جناب ابراہیم مسقطی نے آخری سانس لی۔ انتقال کی اطلاع ملتے ہی ان کے دیرینہ اور قریبی دوست جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست اور جناب محبوب عالم خاں سب سے پہلے مرحوم کی قیامگاہ کوٹلہ عالیجاہ پہنچ گئے اور پسماندگان کو پرسہ دیا۔ انتقال کی اطلاع جیسے ہی عام ہوئی خراج عقیدت پیش کرنے والوں کا تانتا بن گیا جن میں سیاسی ، سماجی اور مذہبی قائدین کے علاوہ بلا لحاظ مذہب و ملت ہزاروں افراد شامل تھے، جنہوں نے قیامگاہ پہنچ کر آخری دیدار کیا۔ سیاسی قائدین نے چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو سب سے پہلے جناب مسقطی کی قیامگاہ پہنچے اور پارٹی کے دیرینہ رفیق کی جدائی پر بادیدۂ نم تعزیت کا اظہار کیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے مرحوم کے فرزندان کو پرسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جناب ابراہیم مسقطی جیسی شخصیت کو کبھی فراموش نہیں کرپائیں گے۔ جناب مسقطی نے انہیں کئی مواقع پر قیمتی مشوروں سے نوازا تھا۔ ان کے انتقال سے تلگو دیشم پارٹی ایک سچے ہمدرد اور قد آور رہنما سے محروم ہوچکی ہے۔ جلوس جنازہ نماز عصر سے قبل مکہ مسجد پہنچا جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔ کوٹلہ عالیجاہ اور جلوس کے راستوں پر تاجروں میں بطور احترام دکانات کو بند کردیا تھا۔ تاریخی مکہ مسجد میں نماز عصر کی ادائیگی کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مولانا حضرت مفتی محمد عظیم الدین صدر مفتی جامعہ نظامیہ نے نماز جنازہ کی امامت کی اور دعائے مغفرت کی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں جناب مسقطی کے چاہنے والے شریک تھے جن کا تعلق سماج کے مختلف شعبوں سے تھا۔ بعد نماز مغرب آبائی قبرستان واقع درگاہ اللہ نما شاہ ڈی آر ڈی ایل کنچن باغ میں تدفین عمل میں آئی۔ جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کی قیامگاہ پہنچ کر پرسہ دینے والوں اور نماز جنازہ میں شرکت کرنے والی اہم شخصیتوں میں این چندرا بابو نائیڈو چیف منسٹر آندھراپردیش ، جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست، جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست، نواب محبوب عالم خاں ، جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر ،  این نرسمہا ریڈی وزیر داخلہ، ڈائرکٹر جنرل پولیس انوراگ شرما ، کمشنر پولیس حیدرآباد مہیندر ریڈی، ایڈیٹر روزنامہ جناب خان لطیف خاں ، صدر ریاستی بی جے پی کشن ریڈی ، بی جے پی قائد بدم بال ریڈی ، رکن پارلیمنٹ حیدرآباد،  شہر کے مسلم ارکان اسمبلی، حافظ پیر شبیر احمد صدر جمیعت العلماء ، مولانا  غیاث رحمانی دارالعلوم رحمانیہ ، محمد علی رفعت آئی اے ایس ، پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی، تیگل کرشنا ریڈی ایم ایل اے ، عامر شکیل ایم ایل اے، محمد سلیم ایم ایل سی، مولانا سعادات پیر بغدادی، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ، مولانا احمد محی الدین (جماعت اسلامی) ، مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری ، مولانا خسرو پاشاہ سابق صدرنشین وقف بورڈ ، مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ ، مولانا نعیم الدین حسامی،   مولانا حسین شہید ، مشتاق ملک ، صدر مسلم شبان ، رحیم الدین انصاری، عبود بن محفوظ ،  حمید الدین ریڈ روز گروپ، ڈاکٹر قائم خاں ،  مجید اللہ خاں فرحت ، امجد اللہ خاں خالد، مظفر علی خاں، محمد محبوب الدین، سابق وزیر کرشنا یادو اور دوسرے شامل ہیں۔ جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی نے 50 برس پر مشتمل اپنے سیاسی اور تجارتی کیریئر میں کبھی بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ہمیشہ کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔ مسقطی ڈیری کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے مسقطی ڈیری کے پراڈکٹس کو تلنگانہ اور آندھراپردیش کے دیگر ڈیریز کے مقابلہ پہلے مقام پر پہنچادیا ہے۔ مرحوم نے دارالعلوم اسکول اور سٹی کالج میں تعلیم حاصل کی۔ وہ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے مجلس کے ٹکٹ پر 2 بار منتخب ہوئے اور اسمبلی میں وہ پارٹی کے فلور لیڈر بھی تھے۔ تلگو دیشم پارٹی دور حکومت میں انہیں اردو اکیڈیمی کا صدرنشین مقرر کیا گیا تھا۔ وہ تلگو دیشم پارٹی کے نائب صدر کے عہدہ پربھی فائز رہے۔ وہ تلگو دیشم کے ٹکٹ پر قانون ساز کونسل کیلئے بھی منتخب ہوئے تھے ۔ جناب مسقطی تمام سیاسی جماعتوں میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ڈاکٹر ایم چنا ریڈی ان کے قریبی دوست تھے اور ان کے دور حکومت میں جناب مسقطی کو اقلیتی کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا تھا ۔ پرانے شہر کی ترقی اور خاص طور پر حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کی پسماندگی دور کرنے میں جناب مسقطی نے اہم رول ادا کیا۔ وہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع کے مختلف دینی مدارس کے سرپرست تھے اور کئی مساجد کی تعمیر میں انہوں نے اہم رول ادا کیا۔ رمضان المبارک میں ہزاروں غریب خاندانوں کو غذائی اجناس اور کپڑوں کی تقسیم کی روایات جناب مسقطی نے شروع کی تھی۔ 1970 ء کے دہے میں اپنے دوست محبوب عالم خاں کے ساتھ اردو روزنامہ نوید دکن کا آغاز کیا تھا ۔ جناب مسقطی اس اخبار کے مینجنگ ایڈیٹر تھے ۔ کسی تشہیر اور نام و نمود کے بغیر بیشمار غریب خاندانوں کی امداد کرنا ، ان کا اہم وصف تھا۔ پسماندگان میں فرزندان عرفان مسقطی ، سلطان مسقطی ، علی مسقطی ، منان مسقطی ، خالد مسقطی اور عادل مسقطی شامل ہیں۔
جناب ابراہیم مسقطی کی فاتحہ سیوم
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست (سیاست  نیوز) الحاج ابراہیم بن عبداللہ مسقطی کی فاتحہ سیوم چہارشنبہ 26 اگست کو بعد نماز عصر جامع مسجد دارالشفاء میں مقرر ہے۔ ختم قرآن کے بعد آبائی قبرستان واقع کنچن باغ میں بعد نماز مغرب چادر گل پیش کی جائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT