Thursday , January 17 2019

الحدیدہ بندرگاہ سے تخلیہ سے قبل حوثیوں کی لوٹ مار

سویڈن سمجھوتے کے بعد حوثیوں کی جانب سے دھمکیاں اور گرفتاری
صنعائ۔ 16 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان طے پائے معاہدے کے بعد حوثیوں نے ساحلی شہر اور الحدیدہ بندرگاہ سے انخلاء شروع کردیاہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے انخلاء سے قبل بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے۔ باغیوں نے سرکاری اور نجی املاک کے ساتھ ساتھ دستاویزات بھی لوٹنا شروع کی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہیکہ حوثیوںکی جانب سے خوراک، گاڑیاں، بنیادی ضروریات کی دیگر چیزوں کی لوٹ مارکے بعد سامان ٹرکوں پر لاد کر نامعلوم مقامات کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حوثی شدت پسندوں نے تین ہفتے سے الحدیدہ شہر اور بندرگاہ میں لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔حوثی باغی فوجی وردیوں میں ملبوس ہوکر کارروائیاں کرتے ہیں۔حوثیوں کی جانب سے یہ لوٹ مار ایک ایسے وقت میںجاری ہے جب دو روز قبل حوثی باغیوں اور فوج کے درمیان فائربندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ فریقین کے درمیان ہونے والی اس فائر بندی معاہدے کے تحت حوثیوں کو الحدیدہ شہر اور بندرگاہ خالی کرنے پرمجبور کیا گیا تھا۔ دوبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سویڈن سمجھوتے پر عمل درآمد اور الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ سے انخلا کے بجائے عسکری جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

اور اس کی قیادت یمنی عوام اور یمنی حکومت کی تائید کرنے والے عرب اتحاد کے ممالک کیخلاف دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں۔ الاریانی نے یہ بات ہفتے کے روز کی جانے والی اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہی۔حوثی کمانڈر اور باغی ملیشیا کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی اتحادی ممالک کے خلاف دھمکی دے چکے ہیں۔ یہ دھمکی سویڈن سمجھوتے پر دستخط کے دو روز بعد سامنے آئی۔ سمجھوتے کے یمنی حکومت اور حوثیوں کے بیچ فائر بندی اور قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آنا ہے۔دوسری جانب دارالحکومت صنعاء میں سکیورٹی ذرائع اور مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا وسیع پیمانے پر قومی سلامتی کے انٹلیجنس ادارے کے افسران کو گرفتار کررہی ہے۔ حوثیوں کو ان افسران کی جانب سے اپنے خلاف بغاوت کا اندیشہ ہے۔ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حوثی ملیشیا قومی سلامتی کے ادارے سے تعلق رکھنے والے بقیہ افراد کے گھروں پر اچانک چھاپے مار کر ان کے موبائل فون کی تلاشی لے رہی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو قوی اندیشہ ہے کہ قومی سلامتی کا ادارہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT