Thursday , December 13 2018

القاعدہ سے مربوط 2 عسکریت پسند ہلاک

منیلا۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ القاعدہ سے مربوط گروپ کے دو ارکان جنوبی فلپائن میں فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک کردیئے گئے۔ فوج کی خاتون ترجمان نے کہا کہ صبح ہونے سے پہلے جزیرہ باسیلین کے جنگلوں میں جھڑپ ہوگئی جس سے 3 فوجی اور 2 عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے۔ کیپٹن رووینا میوایلا کے بموجب انکاؤنٹر ابوسیاف کے انتہا پسندوں کو جزیرے سے نکا

منیلا۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ القاعدہ سے مربوط گروپ کے دو ارکان جنوبی فلپائن میں فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک کردیئے گئے۔ فوج کی خاتون ترجمان نے کہا کہ صبح ہونے سے پہلے جزیرہ باسیلین کے جنگلوں میں جھڑپ ہوگئی جس سے 3 فوجی اور 2 عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے۔ کیپٹن رووینا میوایلا کے بموجب انکاؤنٹر ابوسیاف کے انتہا پسندوں کو جزیرے سے نکال باہر کرنے جاری جارحانہ فوجی کارروائی کا ایک حصہ تھا۔ ابوسیاف القاعدہ سے 1990ء کی دہائی کے اوائل سے مالی امداد حاصل کرتے ہوئے قائم کی ہوئی عسکریت پسند تنظیم ہے اور اس پر فلپائن میں مہلک ترین عسکریت پسند حملوں کا الزام ہے۔ 2004ء میں اس نے خلیج منیلا میں ایک مسافر بردار جہاز پر آتشی بموں سے حملہ کیا تھا جس سے کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ گروپ جنوبی فلپائن کے غالب مسلم آبادی والے علاقوں میں روپوش ہے۔ اس نے اعلیٰ سطحی اغواء کی وارداتیں کی ہیں اور غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ عیسائی مبلغین کا بھی اغواء کیا ہے۔ جنوبی فلپائن کے ایک اور علاقہ میں علیحدہ طور پر کارروائی کے دوران 44 پولیس کمانڈوز، مسلم نیم فوجی گروپس کے ساتھ جھڑپوں میں گزشتہ ماہ ہلاک ہوئے تھے۔ یہ پولیس کمانڈوز دو اعلیٰ سطحی عسکریت پسندوں ملائیشیائی ذوالکفل بن ہیر اور فلپائن کے عبدالباسط عثمان کی گرفتاری کے لئے مہم چلارہے تھے۔ ایف بی آئی نے کہا ہے کہ ڈی این اے کے تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذوالکفل غالباً ہلاک ہوچکا ہے جب کہ عثمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT