Thursday , December 13 2018

القاعدہ کی دھاتوں کے بغیر بموں کی تیاری

لندن۔12جنوری( سیاست ڈاٹ کام) القاعدہ نے اپنے حامیوں کو ایک ’’بم پکوان‘‘ فراہم کیا ہے یعنی گھریلو استعمال کی اشیاء کے ذریعہ ایک دھماکو آلہ تیار کیا جاسکتا ہے ‘ بجائے اس کے کہ دھماکو آلہ کی تیاری میں دھاتوں کا استعمال کیا جائے اور اس طرح دھاتوں کے بغیر تیار کیا گیا دھماکو آلہ ایئرپورٹ پر چیکنگ کے دوران سیکیورٹی عہدیداروں کی نظر میں

لندن۔12جنوری( سیاست ڈاٹ کام) القاعدہ نے اپنے حامیوں کو ایک ’’بم پکوان‘‘ فراہم کیا ہے یعنی گھریلو استعمال کی اشیاء کے ذریعہ ایک دھماکو آلہ تیار کیا جاسکتا ہے ‘ بجائے اس کے کہ دھماکو آلہ کی تیاری میں دھاتوں کا استعمال کیا جائے اور اس طرح دھاتوں کے بغیر تیار کیا گیا دھماکو آلہ ایئرپورٹ پر چیکنگ کے دوران سیکیورٹی عہدیداروں کی نظر میں نہیں آئے گا اور اس طرح کسی بھی مسافر طیارہ کو دھماکہ سے اڑایا جاسکتا ہے ۔ یمن میں دہشت گرد تنظیم کی ایک شاخ جس نے پیرس کے چارلی ہیبڈو کو نشانہ بنایا تھا ‘ اپنے پیرو کاروں کو یہ بھی بتایا کہ فرانس کے مقابلے برطانیہ ان کا ترجیحی نشانہ تھا ۔ آن لائن میگزین ’’ انسپائر‘‘ میں ’’ بم پکوان‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دھماکو آلہ کی غیر پیچیدہ انداز میں تیاری کیلئے کوئی کسر باقی نہیں ہے ۔ سنڈے ٹائمز نے بھی اس دھماکو پکوان کا تذکرہ کیا ہے جس کے نحت القاعدہ کا یہی مقصد ہے کہ بغیر دھات کے تیار کئے جانے والے بموں کا ایئرپور ٹ سیکیورٹی کے دوران کوئی پتہ نہیںچلے گا ۔ باورچی خانہ میں دستیاب روزمرہ کی اشیاء سے تیار کئے جانے والے الہ کو کسی بھی طیارہ پر رکھنے کے بعد اُسے کس طرح ڈیٹونیٹ کرتا ہے ‘ اس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چارلی ہیبڈو پر حملہ کرنے والے شریف اور سعید کواچی نے تربیت حاصل کرنے کیلئے یمن کا سفر کیا تھا ۔ سہ ماہی رسالہ انسپائر انگریزی زبان میں شائع کیا جاتا ہے اور جہادیوں کے فورمس کے ذریعہ اس کے ہزاروں حامی میگزین تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ۔ رسالہ کے پچھلے شماروں میں پریشر کوکر بم بنائے جانے کی ترکیبیں بتائی گئی تھیں جیسا کہ 2013ء میں بوسٹن مراتھن بمباروں نے استعمال کیا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور زائد از 260 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے دنیا کے کسی بھی گوشہ میں کی گئی تخریبی کارروائیوں کے لئے ہمیشہ ہی القاعدہ کو مور دالزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے ۔ تاہم القاعدہ نے کبھی بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔ لہذا القاعدہ اگر واقعتاً ایک تخریبی تنظیم ہے تو شاید وہ اپنے آپ کو کسی بھی تنقیدوں سے بچانے کیلئے بم سازی کا یہ نیا طریقہ استعمال کرنا چاہتی ہے جس کے تحت نہ صرف وہ اپنی تخریبی کارروائیوں کو انجام دیتے ہوئے کسی کی پکڑ میں بھی نہ آئے ۔

TOPPOPULARRECENT