القاعدہ کے جرمن نژاد قیدی ابومحمد کو امریکہ اپنی تحویل میں لینے کوشاں

القاعدہ کو کمپیوٹرس، ریڈیو مواصلات اور ہتھیاروں کو چلانے مہارت کا اشتراک، امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی سازش
اسامہ بن لادن، ابوحیف المصری اور دیگر سے قریبی روابط، القاعدہ کے گیسٹ ہاؤسس میں قیام،فی الحال فرانس کی جیل میں قید
نیویارک میں پولیس کمشنر جیمس اونیل کا گنزارسکی (ابومحمد) پر عائد کئے گئے الزامات کا برسرعام اعلان

واشنگٹن ۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ ایک ایسے مشتبہ القاعدہ دہشت گرد کی تحویل حاصل کرنا چاہتا ہے جس پر ایف بی آئی نے امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش رچنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کرسچین گنزارسکی عرف ابو محمد جو پولینڈ میں پیدا ہوا ایک جرمن شہری ہے اور فی الحال فرانس کی ایک جیل میں گذشتہ 15 سال سے قید ہے۔ اس مشتبہ دہشت گرد کی سرگرمیوں اور اس پر عائد کی گئی فردجرم کو یوں تو اب تک صیغۂ راز میں رکھا گیا تھا تاہم اب اسے (کل) برسرعام کہا گیا تاکہ ہر کس و ناکس کو کرسچین عرف ابو محمد کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بارے میں پوری پوری معلومات حاصل ہوسکے۔ بہرحال آج امریکی اٹارنی جنرل جیوفری برمن نے کہا کہ ہم آج کرسچین پر عائد الزامات کا اعلان کرتے ہیں کہ اس نے القاعدہ کے اعلیٰ سطحی دہشت گردوں خالد شیخ محمد، اسامہ بن لادن اور دیگر کے ساتھ امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے کی سازش میں حصہ لیا۔ کرسچین گنزارسکی کمپیوٹرس، ریڈیو مواصلات اور ہتھیاروں کے نظام میں اپنی مہارت کا اشتراک کیا اور وہ تمام طریقے بتائے جس کے ذیعہ ہتھیاروں کو بہ آسانی چلایا جاسکتا تھا اور جنہیں 9/11 کے بعد امریکی فوجیوں کے خلاف استعمال کیا جانے والا تھا۔ یہ بات نیویارک کے پولیس کمشنر جیمس اونیل نے بتائی۔ انہوںنے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کرسچین گنزارسکی نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسامہ بن لادن کا اعتماد حاصل کرلیا تھا اور وہ زیادہ تر اسامہ کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ مشرقی افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر بم حملوں کی سازش تیار کرنے اور ان پر عمل آوری کرنے والوں کے ساتھ بھی گنزارسکی کے قریبی روابط تھے۔ ان بم حملوں میں 225 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 9/11 حملوں میں 3000 افراد نے اپنی قیمتی جانیں گنوائی تھیں، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک شہر میں ہوئی تھیں۔ گنزارسکی نے القاعدہ کے لئے بہت کام کیا اور القاعدہ کے کیمپس اور گیسٹ ہاؤسس میں رہا کرتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ 1999ء تا 2001ء کے دوران اس نے جرمنی سے پاکستان اور افغانستان کا بھی علحدہ علحدہ پانچ بار سفر کیا۔ اپنے ان ہی دوروں کے دوران وہ القاعدہ سے وابستہ ہوگیا اور اسامہ بن لادن کے علاوہ ابوحیف المصری، العادل اور محمد سے بھی شخصی مراسم بڑھائے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اپنے ارکان خاندان کے ساتھ قندھار کے قریب القاعدہ کے قلعہ نما کمپاؤنڈ میں رہا کرتا تھا جبکہ بعض دیگر موقعوں پر اس نے گیسٹ ہاؤسس اور افغانستان میں القاعدہ کی زیرنگرانی دیگر مقامات پر بھی اپنی زندگی کے قیمتی سال گزارے۔ مسٹر اونیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ گنزارسکی نے امریکی شہریوں کی ہلاکت کیلئے کئی حربے آزمائے اور کئی راستے اختیار کئے جس میں العادل اور القاعدہ کے دیگر ارکان کو کمپیوٹر، ریڈیو مواصلات اور دیگر تکنیکی مہارت فراہم کرنا بھی شامل ہے کیونکہ گنزارسکی تکنیکی طور پر ایک انتہائی قابل شخص تھا اور مندرجہ بالاشعبوں میں نئے لوگوں کی رہبری کرسکتا تھا۔ 2000ء میں اس نے قندھار میں القاعدہ کے ہیڈکوارٹرس میں اسامہ بن لادن کی جانب سے کی گئی ایک تقریر کی سماعت کی تھی۔ اس موقع پر وہاں کم و بیش 100 دیگر افراد بھی موجود تھے جن میں القاعدہ کے اہم قائدین اور دہشت گرد بھی شامل تھے جبکہ مارچ 2000ء میں اس نے کراچی میں ایک ایسے اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات پر دہشت گردانہ حملوں کے لئے تفصیلی بات چیت کی گئی تھی۔ امریکہ نے شاید حالیہ دنوں میں پاکستان کو جھوٹا اور قریبی اسی لئے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھا اور امریکہ اسے افغانستان میں ڈھونڈتا رہا۔ بہرحال امریکہ اگر گنزارسکی کو اپنی تحویل میں لینے کامیاب ہوگیا تو مزید انکشافات ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT