Monday , November 20 2017
Home / دنیا / القاعدہ کے سابق مستحکم گڑھ میں 13جہادی ہلاک

القاعدہ کے سابق مستحکم گڑھ میں 13جہادی ہلاک

حکومت یمن امن مذاکرات کا مقاطعہ ختم کردے گی  :  اقوام متحدہ
عدن / کویت سٹی ۔22مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت یمن کی  سعودی زیر قیادت اتحاد کے طیاروں کی مدد سے 13 مشتبہ جہادیوں کو رات کے دو فضائی حملوں کے دوران القاعدہ کے سابق مستحکم گڑھ مکلا میں ہلاک کردیا ۔ ایک صیانتی عہدیدار کے بموجب تین فوجی بھی ان فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے ۔ ساحلی شہر کے مشرق میں القاعدہ کے خفیہ ٹھکانوں میں تقریباً دو لاکھ افراد موجود تھے ۔ حکومت حامی افواج نے گذشتہ ماہ اس علاقہ پر اپنا قبضہ بحال کردیا تھا ۔ رکوب اور روائش اضلاع میں صوبہ حضرموت کے باہر دو عسکریت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ سعودی زیر قیادت اتحاد نے اپاچی ہیلی کاپٹرس استعمال کئے تھے ۔ گذشتہ سال فضائی حملوں کے دوران صدر عبدالرب منصور ہادی کی تائید میں فضائی حملوں کے دوران ان ہیلی کاپٹرس کا استعمال کیا گیا تھا ۔ کویت سٹی سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت یمن کے ایک وفد نے اقوام متحدہ کی ثالثی سے کویت میں باغیوں کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں دوبارہ شرکت کرلی ‘ اس طرح چار روزہ بائیکاٹ ختم کردیا ۔ اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر کے بموجب سخت بات چیت کے بعد تنازعہ کا خاتمہ ہوگیا ۔ یمن کی خانہ جنگی میں 6400سے زیادہ افراد ہلاک اور 28لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں ۔ اس خانہ جنگی کا آغاز گذشتہ سال مارچ میں ہوا تھا جس میں حکومت کے وفد کی جانب سے 21اپریل سے شروع ہونے والے امن مذاکرات کے بار بار بائیکاٹ کی وجہ سے خلل اندازی پیدا ہوئی تھی ۔ امریکی سفیر اسمعیل عوض  شیخ احمد نے کہا کہ صدر عبدالرب منصور ہادی نے اتفاق کیا ہے کہ تازہ ترین بائیکاٹ ختم کردیا جائے گا ‘ جب کہ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد السامی نے ثالثی کی ۔ ہادی کے حامی کثیر تعداد میں باغیوں کی متحدہ حکومت کے قیام کی تجویز پر تبادلہ خیال کررہے ہیں ‘ انہیں اندیشہ ہے کہ اس متحدہ حکومت کے دعوے کو بین الاقوامی جواز حاصل ہوجائے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بات چیت کا مرکزی موضوع 2015سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل آوری ہونی چاہیئے ‘ جن میں باغیوں سے دارالحکومت کا تخلیہ کرنے اور 2014سے قبضہ کئے ہوئے دیگر علاقوں کے تخلیہ کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT