Monday , June 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / القدس دشمنوں کی سازش اورمسلم اُمہ کی وابستگی

القدس دشمنوں کی سازش اورمسلم اُمہ کی وابستگی

ڈونالڈٹرمپ کے یروشلم کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اورتل ابیب سے امریکی سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کے بدبختانہ فیصلہ کے تناظرمیں

مفتی سید صادق محی الدین فہیم
ارض مقدس فلسطین (یروشلم)کو عالمی صلیبی طاقتیں اپنی مملکت میں تبدیل کرنے کے عزائم کی ٹھوس منصوبہ بندی کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری رکھی ہوئی ہیں اور اپنا تسلط قائم کرنے کی پیہم کوششوں میں لگی ہوئی ہیں، چنانچہ ۱۷۹۹؁ء میں نپولین بوناپارٹ نے مصرپر حملہ کیا اوراس نے یہودیوں کو فلسطین کا حقیقی وارث قراردیتے ہوئے ان کے ساتھ بھرپورتعاون کا وعدہ کیا۔۱۷۹۷؁ء کے دوران بال شیرامیں ڈاکٹرتھیوڈورہرزل کی صدارت میں ایک عالمی پہلی یہودی کانفرنس منعقدہوئی جس میں یہودی مملکت کے قیام کی قراردارمنظورکی گئی ،جبکہ فلسطین میں عثمانی حکومت کی فرمانروائی تھی،سلطان عبدالحمیدمرحوم کے وجودکویہودی مملکت کے قیام میں بڑا خطرہ محسوس کیا گیا،دشمن نے سیاسی پیچ وخم اختیارکرکے سازش رچی اوران کی حکومت کاتختہ الٹنے میں کامیابی حاصل کرلی،پہلی عالمی جنگ عظیم جو۲۸؍جولائی ۱۹۱۴؁ء تا۱۱؍نومبر ۱۹۱۸؁ء تک جاری رہی نے رہی سہی کسرپوری کردی ،اورعثمانیوں کی طاقت کا پوری طرح خاتمہ ہوگیا۔یکم ستمبر ۱۹۳۹؁ء تا ۲ستمبر ۱۹۴۵؁ء تک جاری ،دوسری عالمی جنگ بھی اس لئے چھیڑی گئی کہ مخالف امت مسلمہ اوراور مقاصدکے ساتھ فلسطین میں یہودی مملکت کے قیام کوعملی شکل دی جائے، فلسطین پراپنے تسلط کے لئے یہودی قوم ہمیشہ مکروفریب کے جال بنتی رہی ہے،واقعہ یہ ہے کہ ارض مقدس فلسطین ہمیشہ سازشوں کی زد میں رہی ہے ،برطانیہ اوراقوام متحدہ کی امن کونسل نے متعددقراردادیں منظورکیں جن کا مقصد شاید فلسطینیوں کی مددکرنا نہیں تھا بلکہ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیا م کو مضبوط کرنا تھااس لئے مسئلہ فلسطین آج تک لیت ولعل کا شکارہے، اس دوران یہودیوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی کئی کوششیں امت مسلمہ نے اختیارکی لیکن دشمن طاقتوں کی سازشوں کویا تو پوری طرح سمجھا نہیں جاسکا یا پھرمقابلہ آرائی کیلئے جومادی وروحانی وسائل درکارتھے ان سے مددنہیں لی گئی،حق بات یہی ہے کہ کامیابی کیلئے مادی اسباب وسائل سے لیس ہوکر اللہ سبحانہ وتعالی پرکامل اعتمادویقین کیا جائے،دشمن کوزیر کرنے کیلئے مومنانہ فراست وبصیرت ،صالح قیادت،پختہ عزم وحوصلہ کی ضرورت ہے۔

یہی وہ مومنانہ ہتھیارہیں جس سے دشمنوں کی سازشوں کوسمجھنے اوراسکی بیخ کنی کرنے میں مددملتی ہے،ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطین پراسرائیل کا قبضہ غاصبانہ ہے اسکے باوجودامریکہ ہمیشہ اسرائیل نوازرہاہے، مبنی برعداوت اس غیر منصفانہ مقصدمیں کامیابی کیلئے فلسطینیوں پرہمیشہ مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں،اور فلسطینی علاقوں پرقبضہ جمانے کی یہ ترکیب نکالی گئی کہ اس میں یہودیوں کی نئی نئی بستیاں بسائی جائیں۔یہ حکمت عملی بڑی حدتک کامیاب رہی ،اس طرح اسرائیل نے بتدریج فلسطین کو اپنے گھیرے میں لے لیا،امریکہ ودیگرمغربی ممالک نے یاسرعرفات کے دورمیں ایک معاہدہ ضرورکیا تھا جس میں ۱۹۹۹؁ء تک فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کا غاصبانہ تسلط ختم کرنے کی بات کی گئی تھی،لیکن یہ معاہدہ اب طاق نسیان ہوچکاہے،دشمن طاقتیں جھوٹی تسلیاں دیکربہلانے کا فن خوب جانتی ہیں وہ ہر گز یہ نہیں چاہتیں کہ فلسطینی کازکو تقویت ملے،وہ تو پہلے ہی سے درپردہ اوراب کھلے عام اسرائیل نوازی کا ثبوت دے رہی ہیں۔امریکہ کے اب تک جتنے صدوررہے ہیں وہ کھلے عام اسرائیلی مملکت کے قیام کی نہ حمایت کرسکے نہ مظلوم فلسطینیوں کی مددکے لئے آگے آئے،بلکہ اسرائیل نوازی ہمیشہ انکی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے،مظلوم فلسطینیوں کے بجائے انکا ظالم اسرائیلیوں کی مددکرنا اسکا کھلا ثبوت ہے ،یہی وجہ ہے کہ مظلوموں کی مدداورانکے ساتھ کبھی بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکے،موجودہ امریکی صدرڈونالڈٹرمپ نے بالآخروہ کام کردکھایا جوسابقہ صدورنہیں کر پاسکے تھے، اپنی صدارتی انتخا بی مہم کے دوران جو اسلام اورمسلم دشمنی کا اظہارکرتے رہے ہیں، اسکے عملی اقدامات کی سمت وہ اب گامزن نظرآرہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مسلم ممالک کے باشندوں پرامریکہ کے سفرپرتحدیدات عائدکرتے ہوئے اپنے دل کی کدورت ظاہر کی تھی، اس مبنی برعداوت ونفرت اقدام کوامریکی سپریم کورٹ کے تائیدی فیصلہ کی وجہ مزیدتقویت حاصل ہوگئی، اوراس وقت اس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلینے اورتل ابیب سے امریکہ سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جودشمنانہ ،ناعاقبت اندیشانہ اور بڑا بدبختانہ ہے، ٹرمپ کا فیصلہ اس لئے غیردانشمندانہ ہے کہ مشرق وسطی پہلے ہی سے مسائل کے نرغے میں ہے،اس جارحانہ فیصلہ کے خلاف فلسطینی علاقوں میں عام ہڑتال شروع ہوگئی ہے ،فلسطین سراپا احتجاج بن گیا ہے،مغربی کنارہ ،غزہ پٹی اوریروشلم میں اسرائیلی سیکوریٹی فورسس کے ساتھ فلسطینی احتجاجیوں کی متعدد جگہ جھڑپیں ہوئی ہیں جسکے نتیجہ میں بعض فلسطینی شہیداورکئی ایک افرادزخمی ہوچکے ہیں۔ عالم اسلام میں بھی شدید برہمی پائی جاتی ہے،کیونکہ یہ اعلان ایک طرح سے فلسطین کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکارکے مترادف ہے،جو فلسطینی کازکوسخت نقصان پہنچانے کا موجب ہے،دشمن اسرائیل اوراسکے ہمنوا یہی چاہتے ہیں کہ اسلا می نہج پرمملکت فلسطین کے قیام کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہ ہونے پائے،اس مقصدکی تکمیل کیلئے اسرائیل ہمیشہ جارحانہ روش جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس فیصلہ کے خلاف عرب وزراء خارجہ نے اپنے شدید غم وغصہ کا اظہارکیا ہے اوراس فیصلہ کوبین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قراردیاہے،اوریہ بھی کہا ہے کہ اس کی وجہ امن کی کوششوں کودھکا لگ سکتاہے،کشیدگی مزیدبڑھ سکتی ہے اوراشتعال پیداہوسکتاہے،ان وزراء نے عالمی ممالک پر زوردیا کہ وہ ۱۹۶۷؁ء میں طے پائے اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں پرآزاد مملکت فلسطین کو تسلیم کریں۔سعودی عرب نے بھی ٹرمپ کے اس اشتعال انگیزفیصلہ کے خلاف آوازاٹھائی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عرب اقوام اورمسلم ممالک ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف کیا کوئی متحدہ مبنی برتدبروبصیرت کامیاب منصوبہ بندی کریں گے اورکیا ایسے مخلصانہ عملی اقدامات اختیارکریں گے جس سے دشمن کو ہزیمت اٹھانی پڑے ؟ اس مقصد کیلئے آیا وہ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرکے ٹرمپ کو اپنے فیصلہ سے دستبردار ہونے پر مجبورکرسکیں گے؟ فلسطینی عوام کے ساتھ ارض مقدس سے نسبت ومحبت رکھنے والے سارے افرادامت یہی چاہتے ہیں کہ فلسطین کی آزادمملکت کے قیام کا قطعی فیصلہ ہوجائے جسکا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں قائم ہو، فلسطینی آزادی کی تحریک کے سربراہ اسمٰعیل ھنیہ امریکہ کے اس فیصلہ کے سخت خلاف ہیں اورانہوں نے انتفاضہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔اوراس فیصلہ کے خلاف اپنی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،تاآنکہ نا جائز قابض طاقتوں کا قلع قمع نہ ہوجائے،برطانوی وزیراعظم تھریسامئے نے ڈونالڈٹرمپ کے فیصلہ سے سخت اختلاف کیا ہے اوراس کو بین الاقوامی اصول واقدارکے منافی قراردیاہے،فرانس کے پوپ نے بھی اس فیصلہ پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے،روس کے صدرولادمیرپوتن اورترکی کے دردمندقابل احترام صدررجب طیب اردگان نے اپنے مشترکہ خطاب میں یروشلم کو اسرائیل کا دارا لحکومت تسلیم کرنے پرسخت ناراضگی کا اظہارکیاہے،اورانتباہ دیا ہے کہ اس سے اس علاقہ میں ایک ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جوبجھائے نہیں بجھ سکے گی،سعودی کی مجلس شوری اورایران نے بھی اس فیصلہ کی پرزورمذمت کی ہے۔اس ساری صورتحال میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس منعقدہ ۸؍ڈسمبر ۲۰۱۷؁ء کی رودادفلسطین کی تائیدمیں امیدکی ایک کرن ہے،اس اجلاس میں امریکہ کے طویل مدتی اتحادیوں نے امریکہ کے اس فیصلہ کے خلاف اپنی رائے ظاہر کی ہے،سویڈن کے سفیرالوف اسکوگ نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طے شدہ قراردادوں کے مغائرہے۔ اجلاس کے بعدیورپی کونسل کے چارملکوں برطانیہ،فرانس،اٹلی اورسویڈن نے جرمنی کے ساتھ ملکرایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں امریکہ کے اس فیصلہ کی مذمت کی گئی اورٹرمپ کے انتطامیہ کے اس موقف سے اپنے عدم اتفاق کا اظہارکیاگیاہے۔البتہ امریکی سفیرنکی ہیلی اسرائیل کے ایک پکے اتحادی کے طورپراقوام متحدہ کوتنقیدکا نشانہ بنایاہے۔فلسطینی باشندگان کے حوصلے لائق تحسین وصدآفریں ہیں کہ ایمان کوسینہ سے لگائے ہوئے ارض قدس کی حفاظت کیلئے وہ کفن بردوش ہیں اورجان ومال اوراپنے معصوم بچوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ ارض مقدس امت مسلمہ کو اسلئے عزیز ہے کہ اس سرمین کو انبیاء کرام ومرسلین عظام سے نسبت رہی ہے،اسکی حفاظت کیلئے مرمٹنا امت مسلمہ کیلئے باعث شرف وعظمت اورباعث عزو وقار ہے،یہ پہلویقینا رنج وغم کا باعث ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان نفس پرستی وآخرت بے خوفی کی وجہ جنگ وجدال کا ماحول ہے، آپس میں نفرتوں اوربہتان تراشیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے،دنیا میں پہلے سے خونریزی دشمن طاقتوں کی طرف سے ہوتی رہی ہے لیکن افسوس !صدافسوس! کہ اب جو خون خرابہ مسلم ممالک اورمسلم بستیوں میں جاری ہے وہ مسلم کا مسلم کے ہاتھوں ہورہا ہے، دشمن طاقتوں کی طرف سے راست طورپر تو نہیں لیکن اس میں کہیں خفیہ اورکہیں علانیہ دشمن کی سازش کی کارفرمائی ضرور جھلکتی ہے۔ اسکے باوجودامت مسلمہ اپنے اختلافات سے دستبرداری اختیارکرتے نظرنہیں آتی، اس نا خوشگوار صورتحال میں یہ بات خوش آئندہے کہ وہ قبلہ اول کی بازیابی کے فیصلہ پر متفق ہے اس لئے وہ سردھڑکی بازی لگانے کیلئے تیارہے۔ اسلام کے دامن میں ساری رسالتوں اورآسمانی شریعتوں کی روح جلوہ گرہے اسلئے وہ سب کی جان ومال کے احترام کے ساتھ روحانی مقدسات کی حفاظت وتعظیم اورحرمت کا بڑا لحاظ رکھتاہے۔قدس پر اسلامی حکومت کا قیام ہی ارض مقدس میں موجودتمام مذہبی مقدسات کی حفاظت کا ذریعہ بن سکتاہے۔

TOPPOPULARRECENT