Saturday , June 23 2018
Home / مضامین / القدس پر امریکہ کا اعلان، عربوں کیلئے اتحاد کا موقع

القدس پر امریکہ کا اعلان، عربوں کیلئے اتحاد کا موقع

Extremist Jewish groups called on other Jewish settlers to invade al-Aqsa Mosque.

 

محمد مبشر الدین خرم

’’القدس‘‘ سرزمین مقدس پر اختیارات کے سلسلہ میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری معرکہ اور امن معاہدہ میں اس کے نکات کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے کئے گئے اعلان سے عرب خطہ میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگی اور خلیجی ممالک اس بے چینی کی صورتحال سے خود کو بچا نہیں پائیں گے اس بات کا اندازہ خلیجی ممالک کے حکمرانوں کو ہے اور انہوں نے اپنی تشویش سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو واقف بھی کروایا لیکن اس کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اختیار کردہ موقف نے مسلم دنیا کو دہلا دیا ہے کیونکہ ان کے اس موقف کے بعد جو صورتحال پیدا ہوگی وہ تیسرے ’’انتفاضہ‘ ‘ کو دعوت دینے کے مصداق ہے لیکن یہ بات سمجھتے ہئوے بھی امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کو دارالحکومت قبول کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ خلیجی خطہ کو بد امنی کا شکار بنائے رکھنا چاہتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک میں جاری آپسی اختلافات کے باوجود ان میں شدت پیدا نہیں ہو رہی تھی بلکہ بعض امور پر خلیج دنیا ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے کے بجائے اتحاد کا مظاہرہ کر رہی تھی لیکن اب ڈونالڈ ٹرمپ نے جو مسئلہ چھیڑا ہے اس سے خلیجی ممالک کے حالات مزید ابتر ہونے لگیں گے اور ان حالات میں خلیجی ممالک کو امریکی اسلحہ کی ضرورت پڑے گی جس کے نتیجہ میں امریکی معیشت مستحکم ہو گی ۔امریکہ نے یروشلم کواسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے عرب ‘ خلیجی اور مسلم ممالک کو متحد ہونے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کیا ہے لیکن کیا عرب دنیا اس موقع سے استفادہ کرے گی یا پھر اپنے فروعی اختلافات کی بنیاد پر آپسی رنجش کا شکا رہے گی؟

یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جانا بالواسطہ طور پر فلسطینیوں کو یروشلم پر ان کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے جبکہ فلسطین کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہے جس پر فلسطینی اتھاریٹی کا مکمل قبضہ ہے اور جو فلسطینی مغربی یروشلم میں رہائش پذیر ہیں وہ اسرائیلی حکومت کے زیر تسلط ہیں لیکن انہیں اسرائیل میں حق رائے دہی حاصل نہیں ہے۔ 1949میں اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن غورین کے یروشلم کو اسرائیل کا دائمی دارالحکومت قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اسرائیل تل ابیب کو اپنا عارضی دارالحکومت تصور کرتا ہے کیونکہ ان کا دائمی اور مقدس دارالحکومت یروشلم ہی ہے۔ اس کے بعد اسرائیل نے اس خطہ کے حصول کیلئے متعدد جنگیں کیں اور اس خطہ کے حصول کے لئے یروشلم کا متعدد مرتبہ محاصرہ کیا گیا لیکن 1967میں اسرائیل نے مشرقی و مغربی یروشلم پر قبضہ کرتے ہوئے اس وقت سے اب تک اس علاقہ پر ناجائز قابض بنا ہوا ہے اور مکمل مغربی کنارہ اسرائیل کا قبضہ ہوتا گیا لیکن اقوام متحدہ نے اس قبضہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے فلسطین کا حصہ قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ کیا گیا جس کی رو سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اعلان معاہدہ کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔امریکی صدر نے بین ریاستی مشترکہ دارالحکومت کے نظریہ کو شدید چوٹ پہنچاتے ہوئے عربوں اور مسلمانوں کو جو اس مسئلہ پر خاموش تھے جگا دیا ہے اور اب دنیا کے بیشتر مسلم ممالک کے علاوہ عرب خطہ میں بے چینی کی لہر پیدا ہو چکی ہے۔
فلسطینی عوام کے مطالبات اور ان کے بنیادی حقوق کی تائید کرنے والے ممالک کے ساتھ اتحادی ممالک بھی امریکہ کے اس اقدام سے ناراض ہیں اور خود پوپ فرانسس نے امریکی صدر کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ امریکہ کے اتحادی ممالک نے بھی امریکہ کے اس فیصلہ کی مخالفت کی ہے اور باضابطہ اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانو ںکو یروشلم منتقل نہیں کریں گے اور نہ ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت فوری طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ امریکہ کے اس فیصلہ سے عرب دنیا میں جو حالات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ لگایا جانا مشکل نہیں ہے کیونکہ اب تک بھی عرب ممالک کو ایک دوسرے سے نبردآزما رکھتے ہوئے یہ تصور کیا جارہاتھا کہ یہ فلسطینی کاز سے انحراف کرلیں گے اور انہیں اپنے مسائل میں الجھا کر رکھا جائے لیکن عرب دنیا کے حکمرانوں کو فلسطینی کاز کا حمایتی بنے رہنے پر ان کے اپنے عوام نے مجبور کیا ہوا ہے اور وہ نہیںچاہتے کہ ان کے اقتدار کو کوئی دھکا لگے۔قطر سے عرب ممالک کے تعلقات ختم ہونے کے بعد خطہ میں جو نئی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا تھا کہ عرب ممالک آپسی اختلافات کے کی بناء پر تباہ ہوجائیں گے اور انہیں اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے امریکی مدد درکار ہوگی لیکن امریکہ نے ان تمام سیاسی حالات پر گہرا وار کرتے ہوئے عرب حکمرانوں کو از سرنو اپنے مستقبل کے متعلق غور کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ایران‘ ترکی‘ شام‘ قطر ‘ لبنان میں موجود بااثر افواج اور سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ مسقط‘ عمان‘ یمن‘ کویت کے علاوہ دیگر علاقوں کے افواج و اتحادی افواج کے درمیان جاری رنجشیں جو حالیہ عرصہ میں عروج پر پہنچ چکی ہیں وہ آپسی خانہ جنگی کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اگر ’’القدس‘‘ کے مسئلہ پر یہ ایک ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں کیونکہ اس اتحاد کے بعدانہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ دنیا میں مسلم ممالک کے افواج کا عظیم اتحاد بنایاجاسکتا ہے جس میں نیوکلئیر قوت کے حامل ممالک بھی شامل رہیں گے جو ان لوگوں کے لئے خوف کا باعث بنیں گے جو کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی نیت سے اس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں۔ مسلم ممالک اگر صرف اس بات کا اعلان کردیں کہ ’’القدس ہمارا ہے‘‘ تو ایسی صورت میں دنیا مسلم ممالک کی تصویر کا دوسرا رخ دیکھ سکتی ہے۔عالم عرب اور مسلم دنیا میں بے چینی کے خدشات کا اظہار کرنے والے ممالک کو اپنے عوام کے شانہ بشانہ اترآتے ہیں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور دنیائے باطل کو سخت پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔بیت المقدس کے مسئلہ پر اگر اتحاد امت کا نعرہ دیا جاتاہے تو ایسی صورت میں مسلکی اختلافات سے بالا تر ہوکر تمام کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے مابین اختلافات کے ذریعہ ان میں انتشار پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے تو انہیں بھی یہ پیغام ملے گا کہ امت واحدہ کے درس کو فراموش نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل میں 2000 سال بعد آباد ہونے والی یہودی قوم کو اس سرزمین سے مذہبی لگاؤ ہے اور وہ اس سرزمین کے لئے ہر قسم کے حربہ اختیار کرنے تیار ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں ایسا نہیں ہے کہ یروشلم سے مسلمانوں کو مذہبی لگاؤ نہیں ہے بلکہ اس خطہ سے عیسائیوں کی مذہبی وابستگی بھی ہے لیکن اس کے باوجود یہودی قوتیں اس خطہ پر کامیابی حاصل کر رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ عرب دنیا کے آپسی اختلافات ہیں اور عیسائیوں کے نظریات میں آنے والے تبدیلی اور بے اعتدالی کے سبب وہ اس خطہ کو راہبوں کے لئے مخصوص سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ یہودی سر زمین انبیاء کے خود کو وارث قرار دینے میں تامل نہیں کرتے بلکہ اپنی نسلوں میں اس بات کو منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ مسئلہ فلسطین دنیا کے لئے ایک خطہ زمین کا جھگڑا ہو سکتا ہے لیکن یہ مسئلہ مسلمانوں کے لئے انتہائی حساس اور ان کے ایقان آخرت سے جڑا ہو ا مسئلہ ہے اس کے باوجود ہم اپنی نسلوں کو اس اہم مسئلہ سے واقف کروانا اپنی ذمہ داری تصور نہیں کرتے اور نہ ہی ان مسائل میں ہمارے نوجوانوں کی دلچسپی باقی رہی ہے۔ نوجوان نسل کو مسئلہ فلسطین اور اس کے حقائق سے واقف کروانے کے ساتھ ساتھ سرزمین انبیاء پر کئے جانے والے غضب کی تفصیلات سے بھی آگاہ کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ فلسطین و مسجد اقصی سے مسلمانوں کی جذباتی وابستگی کو بتدریج ختم کیا جا رہاہے جو کہ سنگین حالات کی سمت لیجانے کے مترادف ہے۔

اسرائیل کو مستحکم بنانے کے لئے امریکہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں میں عجلت اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی مخالفت کی بنیادی وجہ ترکی کی سیاسی صورتحال اور خطہ میں ایران‘ ترکی اور قطر کے مابین تیار ہونے والا نیا اتحاد بھی ہے جو کہ بتدریج طاقتور ثابت ہوتا جا رہاہے ۔15جولائی 2016 کو پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے خلاف بغاوت کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد قطر کو نشانہ بناتے ہوئے اسے یکا و تنہاء کردیا گیا لیکن ایران اور ترکی نے قطر کو سہارا دیتے ہوئے اسے تباہی سے بچا لیا۔ترکی کو تباہ کرنے کے لئے اسلام دشمن قوتیں حتی الامکان کوششیں اس لئے کر رہی ہیں کیونکہ 24 جولائی 1923 کو ترکی اور برطانیہ کے اتحادی ممالک کے درمیان کئے گئے ’’لوزان معاہدہ ‘‘ 2023میں ختم ہونے جا رہاہے اور اس معاہدہ کے اختتام کے ساتھ ہی ترکی پر عائد کردہ تحدیدات و شرائط ختم ہوجائیں گے ۔ ترکی کی موجودہ صورتحال اور اسلامی کردار کو دیکھتے ہوئے مغربی دنیا کو یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ’’لوزان معاہدہ ‘‘ کے اختتام کے فوری بعد ترکی میں خلافت عثمانیہ کی بحالی اور اسلامی حکمرانی کا اعلان کردیا جائے گا۔ان خدشات کے تحت مغربی دنیا رجب طیب اردغان کو ہٹاتے ہوئے ترکی کو کمزور کرنے کی کوشش میں ناکام ہوئی اور اس کے بعد قطر کو نشانہ بنایا گیا جو کہ عرب خطہ میں سیسی کے خلاف بغاوت کروانے والوں کے علاوہ فلسطینی تنظیم حماس اور اخوان المسلمون کو پناہ دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت دینے والی مملکت ہے۔ 15 رکنی اقوام متحدہ سکریٹری کونسل نے امریکہ کے اقدام کی مذمت کی ہے لیکن سیکوریٹی کونسل اجلاس میں امریکی نمائندہ نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے اس اقدام کو جائز قرار دینے کی کوشش کی۔ گزشتہ دو دن کے دوران فلسطین کے علاقوں میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے بعد سے تین افراد شہید ہوچکے ہیں اور 600 سے زائد اسرائیلی افواج کے تشدد کا نشانہ بنائے جاچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT