Wednesday , December 19 2018

القدس کی شناخت پرامریکی حملہ

 

افسوس کی بات یہ ہے کہ فلسطین اپنی ہی سرزمین پر صیہونیوں کے اسیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی سب کے سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں انہیں یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ امریکہ اسرائیل کی مجرمانہ مدد کرتا رہا ہے ۔ 1967 سے تاحال اس نے اسرائیل کیلئے اربوں ڈالرس نچھاور کردیئے اور اسے مستحکم کیا ٹرمپ نے حقیقت میں مشرق وسطی میں تباہی و بربادی کی راہ ہموار کرتے ہوئے ڈیوڈ بین گیوریان ہیری ایس ٹرومیان اور علحدہ مملکت اسرائیل کا اعلامیہ جاری کرنے والے رچرڈ بیلفورکے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اب مسلم ممالک کیلئے اطمینان کی صرف ایک بات یہ ہیکہ ساری دنیا نے ٹرمپ کے اعلان کی مخالفت کی ہے ایسے میں وہ ان ممالک سے قربت حاصل کرتے ہوئے امریکہ کو اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں اس طرح وہ علاقہ کو ایک بڑی تباہی سے بچاسکتے ہیں۔

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں 6 ڈسمبر کو مسلمانوں کے بشمول انصاف پسند ہندوستانی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کی 25 ویں برسی منارہے تھے، ایک طرف غم کا ماحول تھا تو دوسری طرف اللہ کے گھروں کے دشمن یوم شہادت بابری مسجد کو یوم فتح کے طور پر مناکر اپنی فسطائی خصلت کا ثبوت دے رہے تھے۔ عین اس وقت وائیٹ ہاؤز میں بیٹھے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے قبلہ اول اور ارض مقدس القدس کو یہودیانے کی تیاریاں کررہے تھے، انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی اسرائیلی حکومت اور امریکہ میں مصروف یہودی لابی بشمول ان کے اپنے داماد و مشیر جیر ڈکشنز اور ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے بعد وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے اور امریکی سفارتخانہ کی تل ابیب سے یروشلم یاالقدس منتقلی کی ہدایت دیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نسلی منافرت پر مبنی ریمارک کرتے ہوئے امریکی سیاست میں ’’ نچلی سیاست‘‘ کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی عائد کرنے کی بات کی تھی۔ سیاہ فام امریکی باشندوں سے دبے دبے الفاظ میں نفرت کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس وقت ٹرمپ کے مخالفین نے ان کے بیانات، حرکات و سکنات، طرزِ تخاطب، چہرے کے تاثرات اور اس پر آنے والے اُتار چڑھاؤ کو دیکھ کر یہی کہا تھا کہ مسٹر ٹرمپ شاید نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ بہرحال ٹرمپ نفسیاتی بیمار ہیں یا نہیں لیکن ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی طرح وہ بیت المقدس، فلسطین اور فلسطینیوں کی دشمنی اور عداوت کی بیماری میں مبتلاء ہیں۔ اب تو یہودی ڈونالڈ ٹرمپ کو بنیامن نیتن یاہو اور حالت کوما میں جہنم رسید ہونے والے ایریل شارون سے زیادہ چاہنے لگے ہیں، یہ وہی ایریل شارون ہے جسے صبراوشاتیلا کا قصائی قرار دیا جاتا ہے۔ 6 ڈسمبر کی رات ڈونالڈ ٹرمپ نے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی کے سلسلہ کو مزید تیز کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا انہوں نے اپنے اقدام کی نہ صرف مدافعت کی بلکہ اسے امریکہ کے بہترین مفاد میں کیا گیا اقدام قرار دیا۔ٹرمپ نے صرف اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ دنیا کو انھیں منتخب کرنے والی مریکی عوام ( حیرت ہوتی ہے کہ امریکی عوام نے ٹرمپ کو منتخب کیسے کرلیا )سمجھ کر یہ بتانے کی ناکام کوشش کی کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اقدام اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیام امن کیلئے ضروری ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل بلاشبہ اس کرہ ارض کی ناجائز مملکت ہے جس کی بنیادیں جھوٹ ، فریپ ، مکاری، دھوکہ دہی ، سازشوں اور سب سے بڑھ کر اسلام دشمنی کی بنیاد پر رکھی گئی، اس میں برطانیہ اور خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کی سازشوں میں ملوث مسلمانوں کا بدترین رول رہا اور آج بھی عالم اسلام میں امریکی اشاروں پر رقص کرنے والے ایسے کردار موجود ہیں جن کی بدولت مسلمانوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم نے جیسا کہ سطور بالا میں اس کرہ ارض کے دامن میں ایک ناجائز ملک اسرائیل کی پیدائش میں برطانیہ کے بدترین رول کا حوالہ دیا ہے، اس بارے میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ مغربی اقوام پر خلافت عثمانیہ کی ہیبت طاری تھی وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ ایسے میں برطانیہ نے عالم اسلام میں سے غداروں کو چن نکالا تاکہ خلافت عثمانیہ کو ختم کرتے ہوئے مسلمانوں کی اخوت اسلامی، ان میں پائی جانے والی حمیت و غیرت اسلامی کو تباہ و برباد کردیا جائے۔ انہیں اسلامی خلافت سے متنفر کرکے ذلت و رسوائی کی تاریکی میں چھوڑ دیا جائے جہاں ان میں اخوت اسلامی کی تمیز ہی باقی نہ رہے، اس کے لئے عالم اسلام کے سینے میں اسرائیل نام کا ناسور پیدا کیاگیا اور اس ناسور کو عالم اسلام کیلئے تباہ کن بنانے کی خاطر عربوں میں قوم پرستی کا جذبہ پیدا کیا گیا حالانکہ عرب ہو کہ عجم مسلمانوں کے درمیان سب بڑا اور اہم جذبہ اخوت اسلامی ہے۔ بہر حال آج امریکہ اور اسرائیل ملکر عالم اسلام کی جو دُرگت بنارہے ہیں وہ مسلم حکمرانوں اور مسلم ملکوں کی دنیاداری اور اقتدار کی ہوس کا نتیجہ ہے۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو آج ڈونالڈ ٹرمپ کی مذمت کرنے والے، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف دھمکیاں اور انتباہ جاری کرنے والے اور ان ملکوں کو سنگین نتائج و عواقب کی دھمکی دینے والے، آنے والے دنوں میں خاموشی اختیار کرلیں گے۔ چاہے وہ دنیا کا کوئی بھی مسلم ملک کیوں نہ ہو ہمیشہ کی طرح صرف زبانی ہمدردی کرے گا،مقابلہ تو صرف جانباز فلسطینی کریں گے جو ہمیشہ اپنے سروں پر کفن باندھے رہتے ہیں انہیں اسرائیل کے عصری ہتھیاروں اور امریکہ کی عصری ٹکنالوجی، مزائیلوں، راکٹوں، بموں سے کوئی خوف نہیں۔ ان کے ہاتھوں میں موجود پتھر ہی صیہونیوں پر ہیبت طاری کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے غلیلوں سے تیر کی طرح نکلنے والے پتھر امریکی و صیہونی رعب و دبدبہ کو خاک میں ملادیتے ہیں۔ امریکہ اور ٹرمپ کی مذمت میں آج مسلم ممالک ایک دوسرے پر سبقت لے جارہے ہیں۔ زبانی جمع خرچ میں شاید ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مسلم ممالک اور ان کے حکمراں فلسطینیوں کو اسلحہ فراہم کریں گے؟ حماس کی مدد کریں گے؟ آج جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 5 ماہ قبل اپنے پہلے دورہ مشرق وسطیٰ کا آغاز ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے کیا، وہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، دورہ سے قبل ٹرمپ نے سعودی عرب سے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ سعودی عرب میں ٹرمپ کے گلے میں ملک کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ ( میڈل ) ڈالا گیا، ان کے ساتھ حکمرانوں نے روایتی عرب رقص بھی کیا ۔ ٹرمپ کے ساتھ عربوںکا حسن سلوک صرف یہیں پر موقوف نہیں ہوا بلکہ سعودی عرب نے امریکہ سے 110 ارب ڈالرس کا دفاعی معاہدہ کیا ساتھ ہی ساتھ آئندہ دس برسوں میں 350 ارب ڈالرس کی معاملتیں کرنے کے ضمن میں معاہدات بھی کئے گئے۔ یہ صرف ایک ملک کا ہی حال نہیں جو امریکہ سے قربت میں فخر محسوس کرتا ہے بلکہ اکثر ملکوں کا یہی حال ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں جو اسلحہ فروخت ہوتے ہیں ن میں سے 32 فیصد اسلحہ امریکہ فروخت کرتا ہے اور عرب و مسلم ممالک اس کے سب سے بڑے خریدار ہوتے ہیں۔ بہرحال ڈونالڈ ٹرمپ کے سعودی عرب سے روانہ ہوتے ہی جی سی سی کے اہم ملک قطر اور سعودی عرب و اتحادیوں کے درمیان اختلافات نقطہ عروج پر پہنچ گئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عرب ملکوں کے اختلافات کا فائدہ کون اُٹھا رہا ہے، اور مسلمانوں کے ان احتلافات سے راست کسے فائدہ ہورہا ہے۔ اگر ان سوالوں پر گہرائی سے غور کیا جائے تو باآسانی پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی صرف مسلم ملکوں کو تباہ و برباد کرنے اور اسرائیل کے تحفظ کے اطراف گھومتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک جھوٹ کے ذریعہ عراق کو تباہ و برباد کردیا اور وہاں کے تاریخی آثار کو نیست و نابود کردیا۔ عراق کے نیوکلیر سائنسداں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ صدام حسین کو تختہ دار پر چڑھادیا، لیبیاء کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ کرنل معمر قذافی کیلئے ذلت سے پُر موت کی راہ ہموار کی۔ دنیا کے خوشحال ممالک میں شامل لیبیاء کو غربت و افلاس اور خانہ جنگی کے دلدل میں ڈھکیل دیا ۔ شام کو خانہ جنگی کے ذریعہ تباہی کی طرف گامزن کردیا۔ یمن میں بھڑکی جنگی آگ پر ایسا تیل چھڑکا کہ سارے علاقہ میں بے چینی اور خوف کی آگ پھیل گئی۔ افغانستان کا بھی بُرا حال کیا گیا۔
بیت المقدس کو یہودی شکنجہ سے آزاد کرانے میں حریت پسند حماس کو دہشت گرد تنظیم ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ مصر، تیونس، پاکستان، صومالیہ کے حالات دگرگوں کردیئے گئے۔ سوڈان کو تقسیم کردیا گیا۔یہ سب آخر کس لئے کیا گیا۔ اس بارے میں کیا عالم اسلام نہیں جانتا ۔؟ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دوست کا دوست آپ کا دوست ہوسکتا ہے لیکن کیا دشمن کا دوست آپ کا دوست ہوسکتا ہے، اس بارے میں مسلم ملکوں نے شاید کبھی نہیں سوچا یا پھر دنیا داری نے انہیں اس بارے میں سوچنے کی صلاحیت سے ہی محروم کردیا۔
امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں ہی اصول لاگو ہوتا ہے، حیرت و تعجب ہوتا ہے کہ اسرائیل عربوں کا دشمن اور امریکہ اسرائیل کا دوست بلکہ اور اس کا سرپرست ‘ ہے ایسے میں وہ مسلم ملکوں کاد وست کیسے ہوسکتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ عالم اسلام کی حالت یہ ہے کہ امریکہ جب چاہے جسے چاہے دھمکی دیتا ہے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیتا ہے لیکن کسی میں اس سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کہ ’’ آخر تم کون ہو ہمیں حکم دینے والے۔؟ ‘‘امریکہ نے حال ہی میں فلسطینیوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات منسوخ کریں گے تو سنگین نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ آخر امریکہ کس حیثیت سے فلسطینیوں اور مسلم ملکوں کو دھمکیاں دے سکتا ہے۔؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شر میں خیر کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے ۔ ایسے میں ٹرمپ کا اعلان مسلم ملکوں کے درمیان اتحاد و اتفاق اور اخوت اسلامی پیدا کرنے کا ایک زرین موقع ہے ۔ دنیا کے 50 سے زائد مسلم ممالک اگر متحدہ موقف اختیار کرتے ہیں تو ٹرمپ کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں وہ اپنے اتحاد کے ذریعہ عرب ملکوں اور دوسرے مسلم ممالک کے قدرتی وسائل پر نظر بد ڈالنے والوں کو بھی ایسا سبق دے سکتے ہیںجسے فراموش کرنا دشمن کیلئے مشکل ہوجائے گا لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم ملکوں میں اتحاد پیدا ہوگا یا نہیں ،جہاں تک فلسطینیوں کا سوال ہے ان مظلوموں کو عالم اسلام اور انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے اقوام متحدہ کی بے حسی کے نتیجہ میں ظالموں کا مقابلہ کرنے کی عادت ہوگئی۔ آج اگر عالم اسلام میں اتحاد ہوتا تو دنیا بھر میں 6 ملین فلسطینی پناہ گزینوں کی حیثیت سے زندگی نہیں گذرتے ۔
5لاکھ فلسطینی تو صرف 4 ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اسرائیل انھیںارض مقدس پر واپس آنے نہیں دے رہا ہے جبکہ اُس نے اقوام متحدہ کی 100سے زائد قراردادوں کو بڑی حقارت سے مسترد کردیا۔ اس کی اس دشمنی میں امریکہ کا اسے بھرپور تعاون حاصل ہوا، امریکہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پیش کردہ کم از کم 50 قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔ اسرائیل سے امریکہ کی قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 14 مئی 1948 کو جس وقت برطانیہ کی مدد سے اسرائیل کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس وقت اندرون 11 منٹ اس وقت کے امریکی صدر ہیری ایس ٹرومیان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ فلسطین اپنی ہی سرزمین پر صیہونیوں کے اسیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ اقوام متحدہ سے لیکر او آئی سی سب کے سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں انہیں یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ امریکہ اسرائیل کی مجرمانہ مدد کرتا رہا ہے ۔ 1967 سے تاحال اس نے اسرائیل کیلئے اربوں ڈالرس نچھاور کردیئے اور اسے مستحکم کیا ٹرمپ نے حقیقت میں مشرق وسطی میں تباہی و بربادی کی راہ ہموار کرتے ہوئے ڈیوڈ بین گیوریان ہیری ایس ٹرومیان اور علحدہ مملکت اسرائیل کا اعلامیہ جاری کرنے والے رچرڈ بیلفورکے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اب مسلم ممالک کیلئے اطمینان کی صرف ایک بات یہ ہیکہ ساری دنیا نے ٹرمپ کے اعلان کی مخالفت کی ہے ایسے میں وہ ان ممالک سے قربت حاصل کرتے ہوئے امریکہ کو اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں اس طرح وہ علاقہ کو ایک بڑی تباہی سے بچاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 35 ایکڑ اراضی پر محیط حرم شریف کی ہئیت تبدیل کرنے سے اسرائیل کو باز رکھنے میں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ لیکن اس سب کیلئے ایمانی جذبہ درکار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT