Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریک

اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریک

اسلام میں ’’توحید‘‘ اور ’’شرک‘‘ کی جو اہمیت ہے، اس کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ خود مسلمانوں میں اکثر ایسے مسلمان ملیں گے، جو زبان سے توحید کا اقرار تو کرتے ہیں اور توحید کو سرمایۂ دین و ایمان سمجھنے کے باوجود اس کی حقیقت سے ناآشنا ہیں۔ اسی طرح شرک سے شدید نفرت کے باوجود اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اسی نادانی میں توحید سے غافل ہوکر شرک کے مرتکب ہو جاتے ہیں، لہذا ایک مسلمان کے لئے ان دونوں کو سمجھ لینا انتہائی ضروری ہے۔
پیران پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ’’ابا جان! مجھے کوئی وصیت فرمائیے‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’التوحید، التوحید، التوحید‘‘۔ یعنی حضرت نے اپنی آخری وصیت میں توحید کو مکرر سکرر بیان فرماکر گویا اپنی زندگی کا حاصل اور نچوڑ قرار دیا ہے۔
یہ ایک امر واقع ہے کہ توحید ہی اسلام کی اصل الاصول اور بنیاد ہے اور اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس کو بنیادی اور مرکزی حیثیت دی ہے۔ توحید کے لغوی معنی ’’واحد ماننا‘‘ یا ’’واحد قرار دینا‘‘ ہے، لیکن اسلام کی اصطلاح میں اس سے مراد اللہ تبارک و تعالی کی ذات کو واحد اور یکتا ماننا ہے، اس حیثیت سے کہ وہ اپنے اسماء و صفات کے مطابق واحد و یکتا ہے، کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں۔ یعنی وہ اپنی ذات، صفات، استحقاق اور اختیارات میں وحدہٗ لاشریک ہے۔ اس نے خود نہ کسی کو اپنا شریک بنایا ہے اور نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کی ذات، صفات، استحقاق اور اختیارات میں کسی کو شریک کرے۔ شرک اس کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے۔ وہ شرک سے نفرت کرتا ہے اور اتنی شدید نفرت کرتا ہے کہ اس نے واضح طورپر اعلان کردیا ہے کہ میں جسے چاہوں اس کا بڑے سے بڑا گناہ معاف کردوں گا، لیکن یہ گناہ کبھی معاف نہیں کروں گا کہ کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک کرے۔

قرآن کریم میں دو اور دو چار کی طرح اس کا واضح اعلان ہے کہ ’’بے شک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، لیکن اس کے علاوہ ہر گناہ کو جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس نے بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، وہ بھٹک کر دور نکل گیا‘‘۔ (سورۃ النساء۔۱۶)
اللہ تعالی نے اپنی نافرمانی کرنے والے کے بارے میں فرمایا: ’’اور جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گیا‘‘ (سورۂ احزاب۔۳۶) لیکن شرک کرنے والے کے بارے میں فرمایا: ’’جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، وہ گمراہی میں بہت دُور نکل گیا‘‘۔ یعنی اب اس کی واپسی مشکل ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حق سے فرار ہوکر بہت دور نکل جانے کے بعد واپسی ناممکن سی ہو جاتی ہے۔
توحید اور شرک کو سمجھنے کے لئے کلمۂ طیبہ کی اس اہم حقیقت پر غور کیا جائے۔ کلمہ طیبہ ہے: ’’لَاالٰہ الّااللّٰہ محمدٌ رَّسول اللّٰہ‘‘۔ اس کلمہ میں صرف دو باتوں کا اقرار ہے، ایک اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اور دوسرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا، لیکن دونوں اقراروں کے لئے انداز بیاں یکساں اختیار نہیں کیا گیا۔ کلمہ طیبہ کے دوسرے جز ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ میں انداز بیان مثبت ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں‘‘۔ اس میں دوسرے رسولوں کی نفی نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی بہت سارے انبیاء اللہ کے رسول ہیں۔ یہ حضورﷺ کی رسالت کا مجرد اقرار ہے، لیکن اللہ تعالی کی الوہیت کے لئے اس طرح کا مجرد اقرار کافی نہیں، چنانچہ ’’اللہ معبود ہے‘‘ نہیں کہا گیا، بلکہ ’’لَاالٰہ الّااللّٰہ‘‘ فرمایا۔ یعنی یہاں انداز بیان منفی ہے اور پھر ’’لا‘‘ بھی وہ جو برائے نفی جنس ہے، اس میں الوہیت صرف اللہ تعالی کے لئے ثابت ہے اور اللہ تعالی کے سوا ہر معبود کی نفی ہے۔

اب ’’لَاالٰہ الّااللّٰہ‘‘ کو سمجھنے کے لئے ان آیات پر غور کریں: ’’اگر تم ان سے پوچھو کہ انھیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے‘‘ (سورۂ زخرف۔۸۷) ’’اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے، تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے‘‘ (سورۂ عنکبوت۔۶۱) ’’اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے پانی کس نے برسایا اور اس کے ذریعہ سے بے جان زمین کو کس نے زندگی بخشی، تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے‘‘ (سورۂ عنکبوت۔۶۳) ’’ان سے پوچھو کہ کون تم کو آسمان و زمین میں رزق دیتا ہے؟ یہ سننے اور دیکھنے کی قوتیں جو تم کو حاصل ہیں، کس کے اختیار میں ہیں؟ اور کون زندہ کو مردہ سے اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور کون اس نظم کائنات کا مدبر ہے؟ تو یہ کہیں گے کہ اللہ‘‘ (سورۂ یونس۔۳۱) ’’جب سمندر میں تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارتے ہو، سب گم ہو جاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو اس مصیبت سے نکال کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اس سے منہ موڑ جاتے ہو‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل۔۶۷) ’’وہ اللہ ہی تو ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے، جب تم کشتیوں میں سوار ہوکر باد موافق کے مطابق خوش خوش سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ گھر گئے ہیں، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لئے خالص کرکے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تونے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار ہوں گے، لیکن جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہوکر زمین میں بغاوت پر اتر آتے ہیں‘‘ (سورۂ یونس۔۲۲،۲۳) یہ آیات مشرکین کے فکر و عمل کے تضاد کو کھول کھول کر بیان کر رہی ہیں، یعنی اللہ تعالی کو اپنا معبود اور کارساز حقیقی ماننے کے باوجود وہ دوسروں کو بھی اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT