Friday , June 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / اللہ تعالیٰ کی رحمت ، بخشش کا سبب

اللہ تعالیٰ کی رحمت ، بخشش کا سبب

قرآن و حدیث میں نیک اعمال کی جانب ترغیبات سے بدیہی طورپر یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اعمال صالحہ کی وجہ سے آخرت میں کامیابی ہو جائے گی اور انسان جنت میں پہنچ جائے گا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہی بات مترشح ہوتی ہے، بلکہ ایک آیت میں تو صاف طورپر بیان کردیا گیا کہ جنت کے وارث تم اپنے اعمال ہی کی وجہ سے بنائے جاؤ گے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

قرآن و حدیث میں نیک اعمال کی جانب ترغیبات سے بدیہی طورپر یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اعمال صالحہ کی وجہ سے آخرت میں کامیابی ہو جائے گی اور انسان جنت میں پہنچ جائے گا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہی بات مترشح ہوتی ہے، بلکہ ایک آیت میں تو صاف طورپر بیان کردیا گیا کہ جنت کے وارث تم اپنے اعمال ہی کی وجہ سے بنائے جاؤ گے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے بنا دیئے گئے، جو تم (دنیا میں) کرتے رہے‘‘ (سورۃ الزخرف۔۷۲) لیکن ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اعمال کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ملے گی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’کیا کوئی بھی شخص اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوگا؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں کوئی بھی شخص اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘ اور یہ بات آپﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے پھر سوال کیا: ’’یارسول اللہ! کیا آپ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائیں گے؟‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اقدس پر دست مبارک رکھ کر فرمایا: ’’ہاں، میں بھی نہیں جاؤں گا الا یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے‘‘ اور یہ بات بھی آپﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

یہاں قرآن و حدیث میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے، قرآن پاک دخول جنت کا سبب عمل بتا رہا ہے اور حدیث شریف بتا رہی ہے کہ دخول جنت کا سبب اللہ تعالی کی رحمت ہوگی۔ یہ تعارض تھوڑے سے تأمل سے رفع ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی یہ ہے کہ انسان کی نجات تو اللہ کی رحمت ہی سے ہوگی، لیکن چوں کہ دنیا دارالاسباب ہے، اس لئے نجات اور دخول جنت کے لئے اللہ کی رحمت انسان کے کسی عمل کو سبب بنالے گی اور کوئی ایسا عمل سبب بنادیا جائے گا کہ انسان کے وہم و گمان میں نہیں ہوگا کہ یہ عمل دخول جنت کا سبب بن جائے گا۔ دراصل اس سبب کو ذریعہ نجات بنادینا اللہ تعالی کی رحمت کی وجہ سے ہوگا۔ اگر اس کی رحمت شامل حال نہ ہو تو سارے اعمال صالحہ دھرے رہ جائیں گے اور انسان کی نجات نہیں ہوگی، اس لئے ہمیں بھروسہ اس کی رحمت پر ہی کرنا چاہئے۔ ہماری نجات کا بنیادی سہارا بس اللہ تعالی کی رحمت ہی ہے۔
آخرت میں اللہ تعالی کی عدالت لگے گی اور میزان عدل قائم کردی جائے گی، لیکن نجات عدل سے نہیں فضل سے ہوگی، اس لئے کہ ہمارے بیشتر اعمال نیت کے کسی نہ کسی کھوٹ کی وجہ سے پہلے ہی مرحلہ پر ضائع ہو جائیں گے۔ ہم جن اعمال پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں گے، ان میں نیت کا کوئی ایسا پوشیدہ فساد نکل آئے گا، جس کی وجہ سے ہمارا ہر عمل برباد ہوتا چلا جائے گا۔ یہ فسادِ نیت، شیطان کی وہ کارگزاری ہے، جو اس دن سامنے آئے گی۔ اس کا خاص میدان عمل ہماری نیت ہی ہوتا ہے اور وہ اسی کو ہدف بناتا ہے، لیکن رحمت خداوندی بخشش کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ان شاء اللہ تعالی ڈھونڈ لے گی، جس سے ہماری نجات ہو جائے گی۔

درحقیقت ہمارے اعمال اس قابل ہیں ہی نہیں کہ ان کا کوئی اعتبار قائم ہو، یہ تو بس اللہ تعالی کا کرم ہے کہ وہ ہمارے ٹوٹے پھوٹے عمل کو قبول فرمالے۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی کے دل میں یہ خیال آیا کہ ’’بغداد جاکر بادشاہ کو دیکھوں، اس سے ملوں اور بغداد کی سیر بھی کروں‘‘۔ چنانچہ اس نے بغداد جانے کا قصد کرلیا تو اسے خیال آیا کہ بادشاہ کے پاس خالی ہاتھ نہیں جانا چاہئے، کوئی تحفہ یا کوئی نذرانہ بھی لے جانا چاہئے۔ یہ بڑا اہم مسئلہ اس کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ بادشاہ کی خدمت میں کیا نذرانہ پیش کرے؟۔ بہت غور و فکر کے بعد خیال آیا کہ میرے گاؤں کے کنویں کا پانی بہت میٹھا ہے، بادشاہ کو ایسا پانی کہاں ملتا ہوگا، لہذا یہ پانی ہی لے کر چلتے ہیں، جسے بادشاہ بہت پسند کرے گا۔ چنانچہ اس نے ایک مٹکا میں کنویں کا پانی بھرا اور مٹکا کا منہ اچھی طرح بند کرکے بغداد کی جانب روانہ ہوا۔ کئی روز کے بعد بغداد پہنچا اور بادشاہ کے دربار میں اپنا تحفہ پیش کیا۔ دیہاتی نے بادشاہ کے سامنے پانی کی خوب تعریف کی اور کہا: ’’حضور! اپنے کنویں کا یہی پانی آپ کی نذر کے لئے لایا ہوں‘‘ اور جب بادشاہ کے قریب مٹکا لاکر کھولا گیا تو پانی سڑ چکا تھا اور اس سے بدبو اٹھ رہی تھی۔ لیکن بادشاہ نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مٹکا پر ہاتھ رکھ کر اسے قبول کرلیا اور دیہاتی کو انعام و اکرام سے نوازا۔ ہم اس دنیا میں اپنے اعمال کو اچھا سمجھ رہے ہیں، انھیں معتبر سمجھ رہے ہیں، لیکن جب مالک الملک کے سامنے یہ پیش ہوں گے تو اس سے سڑاند کے بھبکے اٹھ رہے ہوں گے، لیکن اللہ تعالی رحیم و کریم ہے، اپنی شان کریمی کی وجہ سے ان سڑے ہوئے اعمال ہی کو قبول فرمالے گا اور کسی چھوٹے سے عمل کو سبب مغفرت بنادے گا۔ اس کی رحمت، مغفرت کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لے گی، کیونکہ وہ بڑا غفوررحیم ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت کی مغفرت پیاسے کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے ہو گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے زبان باہر نکالے ہانپ رہا ہے۔ کنویں سے پانی نکالنے کے لئے رسی اور ڈول بھی نہیں تھا، اس عورت نے اپنا موزہ اتارا، دوپٹہ سے باندھ کر کنویں میں ڈال دیا اور اس طرح پانی نکال کر کتے کو پلادیا۔ اللہ تعالی کی رحمت نے اسی عمل کو مغفرت کا سبب بنادیا اور اس کی مغفرت فرمادی۔

سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا تو پوچھا: ’’حضرت! اللہ تعالی نے آپ سے کیا معاملہ کیا؟‘‘۔ فرمایا: ’’ہمارے سارے علوم و معارف دھرے رہ گئے، کسی کام نہ آئے، بس وہ چھوٹی چھوٹی رکعتیں جو میں رات کو پڑھ لیا کرتا تھا، کام آگئیں، یعنی نماز تہجد۔ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں حضرت سہل صعلوکی کے متعلق لکھا ہے کہ ان کی وفات کے بعد ابوسعید شحام نے انھیں خواب میں دیکھا تو ’’ایھا الشیخ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے شیخ نہ کہو‘‘۔ عرض کیا: ’’حضرت! آپ تو بڑے بزرگ اور علامہ ہیں‘‘۔ فرمایا: ’’ہماری وہ مشیخت کچھ بھی کام نہ آئی، ہاں! ایک بڑھیا آکر مجھ سے کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے مسائل پوچھ لیا کرتی تھی اور میں اس کو بتادیا کرتا تھا، بس اس سے میری مغفرت ہو گئی‘‘۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT