Wednesday , May 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / اللہ تعالیٰ کے چاہنے سے سب کچھ ہوتا ہے

اللہ تعالیٰ کے چاہنے سے سب کچھ ہوتا ہے

یہاں (دنیا میں) جو کچھ ہو رہا ہے، سب حق تعالی کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے، تخلیق بھی اسی کی ہے اور حکمرانی بھی اسی کی۔ درخت سے ایک پتہ زمین پر اسی کے حکم سے گرتا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ وہ کشش ثقل کی وجہ سے زمین پر آیا، یقیناً ایسا ہی ہوگا، مگر یہ بھی تو دیکھو کہ زمین میں کشش ثقل رکھی کس نے؟۔ اہل کشف بتاتے ہیں کہ پتہ زمین پر خود نہیں آتا، بلکہ ایک فرشتہ اس کو درخت سے زمین پر لاتا ہے۔ یہ جو کچھ میں عرض کر رہا ہوں، یہ ساری باتیں آفاق سے متعلق ہیں۔ آفاق میں حق تعالیٰ کی آیات نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں، جن سے آپ حق تعالیٰ کو پہچان سکتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے سمندروں میں چل رہی ہیں اور بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے اور اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور (اسی طرح) زمین میں جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے اور ہواؤں کی گردش میں، اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں، بے شمار بڑی بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۱۶۴)
ان ہی آفاقی نشانیوں کو دیکھ کر اور ان میں غور کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے معرفت حاصل کی تھی، اپنے رب کو پہچانا تھا اور پھر پکار اٹھے تھے: ’’یکسو ہوکر میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔ (سورۃ الانعام۔۷۹)
آفاق کی طرح انفس میں بھی اس کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں، پہچاننے والے اس کو انفس کی نشانیوں سے بھی پہچان جاتے ہیں، اسی لئے تو کہا جاتا ہے ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا، درحقیقت اس نے اپنے رب کو بھی پہچان لیا‘‘۔
یہ عرفان نفس بھی بڑی چیز ہے، خود اپنی حقیقت کو تلاش کرو، خدا تمھیں مل جائے گا۔ پھر ان ہی انفس و آفاق میں کسی کو معرفت کسی ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے تو کسی کو کسی اور ذریعہ سے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے رب کو اپنے عزائم کی شکست و ریخت سے پہچانا‘‘۔ کسی معاملے میں ہم ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ناکامی ہی ذریعہ معرفت بن جاتی ہے، بشرطیکہ فکر و نظر سے کام لیا جائے۔
لق و دق صحرا میں دو بدو سفر کر رہے تھے، چلتے چلتے ایک نے کہا ’’یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے۔ دوسرے نے حیران ہوکر پوچھا تمھیں کیسے معلوم ہوا؟۔ کہا: یہ راستہ میں پڑی ہوئی مینگنیاں بتا رہی ہیں۔ دوسرے بدو نے فوراً تسلیم کرلیا‘‘۔ افسوس کہ اتنی عقل بھی آج کے مادہ پرستوں میں نہیں ہے، انھیں کائنات میں خدا کے سوا سب کچھ نظر آتا ہے، جب کہ صوفیۂ کرام کو خدا کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا اور اس دوسرے بدو کے برابر عقل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیل کو بھی نہیں تھی، تب ہی تو کہا: ’’اے موسیٰ! ہم خدا کو علانیہ دیکھے بغیر آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۵۵) ایک طرف یہ نامعقولیت ہے تو دوسری طرف منکرین خدا سے جو پوچھا جاتا ہے تو خدا کا اقرار بھی کرلیتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اگر تم ان سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کیا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کدھر سے دھوکہ کھا رہے ہیں‘‘ (سورۃ العنکبوت۔۶۱) پھر فرمایا ’’اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندگی بخشی تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے‘‘ (سورۃ العنکبوت۔۶۳) یعنی خدا کا اقرار بھی ہے اور انکار بھی، یہ کیسا تضاد ہے؟۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ معرفت کس کو حاصل ہے؟ اور عارف کون ہے؟۔ خود ہم اپنے آپ کو کیسے جانچیں کہ ہمیں معرفت حاصل ہے یا نہیں؟ ہم نے خدا کو پہچانا کہ نہیں؟۔ صوفیہ کرام معرفت کی نشانی یہ بتاتے ہیں کہ بندہ اپنے رب کے ہر فیصلہ سے راضی رہتا ہے، یعنی راضی برضائے الہی، یا راضی بقضائے الہی۔ بندہ، خدا کی مشیت کے آگے اپنی مشیت سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ دراصل مشیت بندے کی نہیں، خدا کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، جب تک اللہ نہ چاہے‘‘۔ (سورۃ الدہر۔۳۰)
وہ (اللہ تعالی) فعّالٌ لمایرید ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ موت و حیات اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ مارنا چاہے تو کوئی جلا نہیں سکتا اور وہ جلانا چاہے تو کوئی مار نہیں سکتا۔ عزت و ذلت اسی کے اختیار میں ہے، وہ عزت دے تو کوئی ذلیل نہیں کرسکتا اور وہ ذلیل کردے تو کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ صحت بھی اسی کی طرف سے ملتی ہے، بیماری بھی اسی کی طرف سے آتی ہے، یعنی بیمار بھی وہی کرتا ہے اور شفا بھی وہی دیتا ہے۔ غرض وہی قادر مطلق ہے، مالک ہر دوسرا ہے، احد و صمد ہے، لم یلد ولم یولد ہے، وہی حی و قیوم ہے، وہی سمیع و بصیر، وہی علیم و خبیر، وہی خالق و ارض و سمائ، وہی مالک کون و مکاں، وہی لافانی، وہی لاثانی، اسی کو مانو، اسی کے آگے سرنیاز جھکاؤ، اسی سے ڈرو، اسی پر مرو، اسی سے امید رکھو، اسی پر بھروسہ کرو، اسی سے سرگوشی کرو، اسی سے چپکے چپکے باتیں کرو، وہی مجیب الدعوات، وہی قاضی الحاجات، وہی غیاث المستغیثین، وہی یاروں کا یار، وہی حق وہی پروردگار، اسی کے پاس جانا ہے، اسی کو منہ دکھانا ہے، وہی مرجع وہی ٹھکانا ہے۔ اس لئے اپنی مشیت کو ہمیشہ اس کی مشیت کے تابع رکھو، اپنی مشیت کو اس کی مشیت سے ہرگز نہ ٹکراؤ۔
کبھی سوچا؟ کہ یہ ہر معاملے میں ’’ان شاء اللہ‘‘ کہنے کی تعلیم کیوں دی گئی ہے؟۔ اس کا صرف ایک مقصد ہے کہ ہر معاملے میں تم اپنی مشیت کی نفی کرتے رہو۔ اگر انسان صاحب عقل و فہم ہو تو وہ صرف اس ایک فقرے ’’ان شاء اللہ‘‘ پر ہی غور کرکے خدا کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ غرض تم جتنا انفس و آفاق میں غور کرتے جاؤگے، تم کو اتنی ہی معرفت حاصل ہوتی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT