Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / ’’اللہ رحم کرے، میں جھکنے کیلئے تیار نہیں ہوں‘‘

’’اللہ رحم کرے، میں جھکنے کیلئے تیار نہیں ہوں‘‘

زخمی بھائی کے جسم سے گولیاں نکال لی گئیں، حالت مستحکم ہے، ڈاکٹر کفیل خاں کا ردعمل
گورکھپور 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج و ہاسپٹل میں 63 کمسن بچوں کی اموات کے واقعہ کے ایک ملزم ڈاکٹر کفیل خاں نے کہا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں کی طرف سے ان کے بھائی پر گزشتہ روز کی گئی فائرنگ کے باوجود وہ کسی زبردستی کے آگے ہرگز نہیں جھکیں گے۔ کفیل خاں نے کہاکہ ان کے بھائی کاشف جمیل کا کامیاب آپریشن کیا گیا اور اُن کے جسم میں پیوست کارتوس نکال لی گئیں۔ کفیل خاں کو گزشتہ سال جیل بھیج دیا گیا تھا اور اس سال اپریل میں رہائی عمل میں آئی تھی۔ اُنھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’اللہ رحم کرے۔ مَیں ہرگز نہیں جھکوں گا‘‘۔ کفیل خاں نے مزید کہاکہ ’’سب سے پہلے میں آپ تمام کا شکریہ ادا کروں گا۔ میرے بھائی کاشف کے جسم سے بلٹس نکال لی گئی ہیں۔ آپریشن کامیاب رہا۔ وہ فی الحال آئی سی یو میں ہیں۔ ہلاک کرنے کے مقصد سے ان پر تین گولیاں چلائی گئی تھیں۔ کس نے (گولی) چلائی تھی یہ ہم نہیں جانتے۔ لیکن یہ گورکھ ناتھ مندر سے 500 میٹر سے یہ گولیاں چلائی گئی تھیں جہاں اترپردیش کے چیف منسٹر رہتے ہیں۔ کفیل نے کہاکہ دو لڑکے اسکوٹی پر آئے تھے اور ان کے بھائی پر گولیاں چلاکر فرار ہوگئے۔ اُنھوں نے اپنے بھائی کے علاج میں تاخیر کے لئے پولیس کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے کہاکہ ’’امن و قانون کی یہ حالت ہوگئی ہے‘‘۔ کفیل کے چھوٹے بھائی 34 سالہ جمیل پر جے پی ہاسپٹل کے قریب شمالی ہمایوں پور میں گزشتہ روز تقریباً 11 بجے شب دو نامعلوم موٹر سیکل سوار حملہ آوروں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی۔ اُنھیں ایک خانگی نرسنگ ہوم میں شریک کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ کوتوال پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر گھنشام تیواری نے کہاکہ جمیل کو ان کے دائیں بازو کے اوپری حصے کے علاوہ گردن اور ٹھوڑی پر زخم آئے ہیں۔ کفیل خاں کو اترپردیش پولیس نے ستمبر 2017 ء میں گرفتار کیا تھا۔ وہ بابا راگھو داس میڈیکل کالج میں کمسن بچوں کے 100 بستروں والے وارڈ کے نوڈل آفیسر تھے۔ جہاں 10 اور 11 اگسٹ کو 30 بچوں کی موت کے بعد برطرف کردیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT