Tuesday , January 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اللہ کی رضا کیلئے ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی تلقین

اللہ کی رضا کیلئے ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی تلقین

بیدر۔24اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پیارے نبی کریمؐ کا اسوہ حسنہ سے بڑھ کر روئے زمین پر کوئی نور نہیں ‘ جس سے روشنی حاصل کی جائے اور اسلامی تصوف اسلام کی روح شریعت کا خلاص کتاب و سنت سے کشیدہ کردہ عطر ایمان و اسلام کا لازمی تقاضہ ہے ‘ کیونکہ اس کی بنیاد کتاب و سنت کی پیروی حلال کھانے ‘ اذیب رسانی سیرکنے مصیبتوں سے اجتناب ‘ توبہ اور حقوق

بیدر۔24اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پیارے نبی کریمؐ کا اسوہ حسنہ سے بڑھ کر روئے زمین پر کوئی نور نہیں ‘ جس سے روشنی حاصل کی جائے اور اسلامی تصوف اسلام کی روح شریعت کا خلاص کتاب و سنت سے کشیدہ کردہ عطر ایمان و اسلام کا لازمی تقاضہ ہے ‘ کیونکہ اس کی بنیاد کتاب و سنت کی پیروی حلال کھانے ‘ اذیب رسانی سیرکنے مصیبتوں سے اجتناب ‘ توبہ اور حقوق کی ادائی پر ہے ۔تصوف دراصل رضائے الٰہی میں خود کو مٹا دینا اور اپنی خواہشوں کو رب کے حکم کے تابع بنا لینے کا نام ہے جس کا مقصد صبر‘اخلاص‘ توکل ‘ خوف ‘ خشیت اور محبت جیسی کیفیات جیسے اعمال پیدا کرنا ہے اور سلوک سے مراد تمام شکوک کو دل سے نکال دینا کا نام ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اقبال الدین انجنیئر نے تربیتی اجتماع منعقدہ سردار پور نور خان تعلیم بیدر سے کیا ۔ اقبال الدین نے مزید بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اپ کو حج بیت اللہ اور زیارت حرم کیلئے حج کمیٹی کے ذریعہ منتخب کرلیاہے ۔ اس لئے اب آپ لوگوں کو چاہیئے کہ دوران سفر حج توحید‘ خلوص نیک لبیک اور اطاعت پر اپنی توجہ مرکوز کریں کیونکہ حج سے بڑا کسی کا م کا اجر نہیں اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے ۔ اس لئے اللہ کی رضا کیلئے ایک دوسرے سے محبت رکھیں اور اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہیں اورمسائل حج میں کوئی مشکل پیش آئے تو فوراً علماء کی طرف رجوع کریں تاکہ بصیرت اور روشنی حاصل ہو ‘ کیونکہ نبی کریمؐ کا فرمان ہیکہ جس کیلئے اللہ بھلا چاہتا ہے اس کے دین کی سمجھ دیتا ہے اور جو شخص فرائض کی پابندی نہیں کرتا اس کے مسنون اعمال قبول نہیں ہوتے ۔ موصوف نے شرک سے بچنے کے دس طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی کہ اللہ کی ذات میں دوسروں کو شریک نہ بتائیں اور نہ سفارش بنائیں اور نہ دوسروں پر بھروسہ کریں اور جو اللہ کو نہیں مانتا اس کو صحیح راستہ پر ہے سمجھنا شرک کے دائرے میں آتا ہے اور جو لوگ نبی کریمؐ کے قوانین کو دوسرے قانون پر فوقیت دیتے ہیں فوراً شرک کے دائرے میں آجاتے ہیں اور ہمیں کبھی نہیں سونچنا چاہیئے کہ ہماری پستی کا سبب اسلام تھا اور حرام کو حرام اور حلال کو حلال کہنا ہی ایمان کی پہچان ہے اور جس کسی نے رسول اللہؐ کی لائی ہوئی باتوں میں کسی بات کو مبغوض سمجھا وہ دین سے پھر گیا اور اللہ کے دین کی کسی بات یا ثواب اور عقاب کا مزاق اُڑانا گمراہی ہے اور مسلمانوں کے خلاف دوسروں کی مدد نہیں کرنی چاہیئے ۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والی قوموں کو ہدایت نہیں دیتا اور ہمیں اللہ کے اس فرمان پر یقین کامل ہونا چاہیئے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ اور کسی دین کو پسند کرے گا اس کا عمل قابل قبول نہ ہوگا اور آخرت میں خسارہ کا مستحق ہوگا اور اللہ کے دین سے مکمل اعراض یا کسی ایسی بات سے اعراض جس کے بغیر صحیح اسلام کو پانا ناممکن ہو‘ ایسا عمل قابل قبول نہیں ۔ اسی لئے ہمیشہ توبہ استغفار کر کے اللہ کے غضب اور سزا سے پناہ مانگنا چاہیئے اور دینی علم کا حاصل کرتے رہنا چاہیئے کیونکہ ارشاد ربانی ہے دو علم اور بغیر علم والے یکساں نہیں ہوسکتے اور مولانا خرم خان نے صحابہ کرامؓ کی سیرت پر عمل آوری پر زور دیا اور بتایا کہ ابوبکرصدیقؓ نے دین تبلیغ بیوپاریوں سے لیکر دیہاتیوں پر ایسی کی کہ سورہ توبہ کی ابتداء آیتوں کے حساب سے کم از کم مسلمان کی ظاہری شناخت کیلئے نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام ضروری قرار دیا ‘ ورنہ اُن کے خلاف آواز اٹھانے پر زور دیا ۔ اسی لئے آج ہر مسلمان کو نماز کا عادی بنانے کیلئے آمادہ کرنے کا شعور پیدا کرنے کیلئے تبلیغی کام کو تیز سے تیز تر کرنے کی ضرور پر زور دیا اور مزید بتایا کہ مسجدیں صرف اللہ کیلئے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو اور حج کے ذریعہ نیت اللہ کی رضا کا حصول اور آخرت کی تیاری ہو اور برکت ان کاموں سے حاصل ہوتی ہے جنہیں اللہ اور اس کے رسولؐ نے جائزہ قرار دیا ہے ۔ خرافات اور بدعتوں سے برکت حاصل نہیں ہوسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT