Wednesday , January 17 2018
Home / مذہبی صفحہ / اللہ کے ذکر کی فضیلت

اللہ کے ذکر کی فضیلت

پروفیسرسید عطاء اللہ حسینی قادری الملتانی

پروفیسرسید عطاء اللہ حسینی قادری الملتانی

سورۂ زخرف میں سخت وعید آئی ہے کہ رحمن کے ذکر سے جان بوجھ کر غفلت برتنے والے کے دل پر ہم ایک شیطان کو مسلط کردیتے ہیں، جو ہر وقت اس کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ اسی طرح منافقین کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ’’ان پر شیطان مسلط ہو چکا ہے اور اس نے ان کو اللہ کے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں‘‘ (سورہ مجادلہ۔۱۹) ایک جگہ اہل ایمان کو متنبہ کیا گیا کہ ’’کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کے ذکر سے غافل کردیں‘‘ (سورہ منافقون۔۹) سورہ جن میں اللہ کے ذکر سے رو گردانی کرنے والوں کو عذاب کی وعید سنائی گئی۔ سورہ حدید میں اہل ایمان سے پوچھا گیا کہ ’’کیا ان کے لئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے پگھل جائیں‘‘۔

واضح رہے کہ ذاکر مستجاب الدعوات ہوتا ہے، یعنی اس کی دعائیں بارگاہ خداوندی میں قبول ہو جایا کرتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تین اشخاص کی دعا رد نہیں ہوتی، ایک وہ جو کثرت سے ذکر کرتا ہے، دوسرا مظلوم اور تیسرا وہ حکمراں جو انصاف کرتا ہے‘‘۔ ایک صحابی نے عرض کیا ’’یارسول اللہ! احکام شریعت تو بہت ہیں، آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتادیجئے جس کو میں اپنا معمول بنالوں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر وقت تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہئے‘‘۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’میں بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، جیسا وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے محفل میں یاد کرے تو میں اس کو اس سے بہتر محفل (یعنی فرشتوں کی محفل) میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہو اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑکر آتا ہوں‘‘۔
ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ’’کیا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں، جو سب اعمال میں بہترین چیز ہے۔ تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیز اور تمہارے درجات کو بہت بلند کرنے والی اور اللہ کی راہ میں سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر اور اللہ کی راہ میں قتال سے بھی بڑھی ہوئی‘‘۔ صحابہ کرام نے عرص کیا ’’یارسول اللہ! ضرور بتائیے‘‘۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ کا ذکر‘‘۔ جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے یا بدن پر میل جم جاتا ہے، اسی طرح دل بھی گناہوں کی آلودگیوں میں مبتلا ہوکر زنگ آلود ہو جاتا ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر چیز کے لئے کوئی صاف کرنے والی اور میل کچیل دور کرنے والی چیز ہوتی ہے، دلوں کو صاف کرنے والی چیز ’’اللہ کا ذکر‘‘ ہے اور کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچانے والی اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں ہے‘‘۔ نیز آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’کثرت سے ذکر کرنے والا نفاق سے بری ہوتا ہے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ نفاق اس کے دل میں راہ نہیں پاتا۔ ایک حدیث میں یہ بھی آیا کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں کہ نرم نرم بستروں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے بھی اللہ تعالی انھیں جنت کے اعلی درجات میں پہنچا دیتا ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں اپنے بستروں میں بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اللہ تعالی کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ اپنے ذاکر کو نرم نرم بستروں سے بھی جنت کے اعلی درجات میں پہنچا دیتا ہے، اس لئے ذکر سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ یہی نہیں کہذاکر نرم نرم بستر سے جنت کے اعلی درجات میں پہنچتا ہے، بلکہ ہر وقت ذکر کرنے والے کی عالم ملکوت میں بھی اتنی عزت ہوتی ہے کہ فرشتے بستر پر اور راستوں میں اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاکر اور غیر ذاکر کو زندہ اور مردہ سے تشبیہ دی ہے، یعنی ذاکر زندہ ہے اور غیر ذاکر مردہ۔ صوفیہ کرام کہتے ہیں کہ اس سے ہمیشہ کی زندگی مراد ہے، اللہ کا ذکر اخلاص کے ساتھ بکثرت کرنے والے مرتے نہیں بلکہ دنیا سے رخصت ہو جانے کے باوجود زندوں ہی کے حکم میں ہوتے ہیں۔

اللہ کا ذکر تنہائی میں بھی کرنا چاہئے اور اجتماعات میں بھی، بلکہ اجتماع میں ذکر کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو لوگ اللہ کے ذکر کے لئے جمع ہوں اور ان کا مقصود صرف اللہ کی رضا ہو تو آسمان سے ایک فرشتہ آواز دیتا ہے کہ تم لوگ بخش دیئے گئے اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں‘‘۔ نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’قیامت کے دن اللہ جل شانہ بعض لوگوں کا حشر اس طرح فرمائے گا کہ ان کے چہروں پر نور چمکتا ہوگا اور وہ موتیوں کے منبروں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ لوگ ان کو دیکھ کر رشک کر رہے ہوں گے، حالانکہ وہ نہ انبیاء ہوں گے نہ شہداء‘‘۔ کسی نے عرص کیا ’’یارسول اللہ! ان کا کچھ حال بیان فرمادیجئے، تاکہ ہم انھیں پہچان لیں کہ وہ کون ہوں گے‘‘۔ فرمایا ’’یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اللہ کی محبت میں مختلف جگہوں سے مختلف خاندانوں سے ایک جگہ جمع ہوکر اللہ کا ذکر کر رہے ہوں گے‘‘۔ لہذا اجتماعی طورپر اللہ تعالی کا ذکر بہت مفید ہے، جسے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مفید قرار دیا ہے اور ان اجتماعات کو آپﷺ نے جنت کے باغ فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جب جنت کے باغوں پر تمہارا گزر ہو تو خوب چرلیا کرو (یعنی ان میں حصہ لیا کرو)‘‘۔ کسی نے عرض کیا ’’یارسول اللہ! جنت کے باغات کیا ہیں؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا ’’ذکر کے حلقے‘‘۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT