Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / الوداع محمد علی الوداع

الوداع محمد علی الوداع

ظفر آغا

’’الوداع محمد علی، الوداع ! ‘‘یہ محض میرے جیسے حقیر کالم نگار کی صدا نہیں بلکہ یہ تو سارے عالم کی ندا ہے۔ جی ہاں، یہی تو کمال ہے محمد علی کا کہ جن کی موت پر دنیا آنسو بہاررہی ہے اور جن کے آخری سفر پر ساری دنیا الوداع کہہ رہی ہے۔ آخر یہ کون محمد علی ہے جن کی موت سارے عالم پر گراںگذررہی ہے۔ ارے وہی محمد علی جو مکے بازی (Boxing) میں تین بار عالمی چمپین رہے ہیں۔ لیکن محمد علی واحد مکے بازی کے عالمی چمپین نہیں تھے بلکہ ان سے قبل بھی اور ان کے بعد بعد بھی نہ جانے کتنے اور باکسر آئے اور عالمی چمپین رہے اور زندگی کی تگ و دو میں نہ جانے کہاں گم ہوگئے کسی کو پتہ ہی نہیں۔ لیکن 1960 اور1971 کی دہائی میں اس گمنام محمد علی نے وہ شہرت حاصل کی کہ ان کے آخری مقابلہ کیلئے تین دہائی بعد بھی دنیا اسے بھول نہیں سکی۔ آخر ایسی کیا بات تھی محمد علی میں کہ دنیا کے بڑے سے بڑے صدر اور حاکم اُن سے ہاتھ ملانے کو بے قرار رہتے تھے۔

یوں تو محمد علی ایک کرسچن گھرانے میں ایک امریکی سیاہ فام نیگرو گھرانے میں پیدا ہوئے  ان کانام
Cassius Clay
تھا۔ وہ تمام امریکی سیاہ فام نیگرو کی طرح غریب بھی تھا، وہ بہت چھوٹا تھا کہ ایک روز اپنی پسندیدہ سائیکل لے کر گھر سے باہر گھومنے نکلا، راستے میں ایک جگہ پاپ کارن فروخت ہو رہا تھا، وہ ابھی بچہ ہی تھا اس نے اپنی سائیکل سڑک کے ایک کنارے کھڑی کی اور پاپ کارن خریدنے چل پڑا اور پاپ کرن خرید کر کھڑے ہوکر بہت شوق سے کھایا اور پھر مڑ کر اپنی سائیکل لینے چل پڑا، اور جب اُدھر نگاہ پڑی تو اُس کی پسندیدہ سائیکل غائب تھی۔ وہ سکتہ میں آگیا، کچھ دیر تو اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا لیکن پھر اس سیاہ فام بچے کو زبردست غصہ آگیا۔بس اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے بچے بھی جمع ہوگئے اور ایک بھیڑ لگ گئی۔ کسی نے اس مجمع میں سے
CassiusClay
سے کہا کہ وہیں قریب میں پولیس افسر موجود ہے تم وہاں جاکر شکایت کرو۔ وہ پولیس افسر
Joc Mortin
کے پاس پہنچا اور وہاں پہونچتے ہی اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ جانتے وہ چیخ چیخ کر کیا کہہ رہا تھا
یعنی ’’ کسی نے میری سائیکل چرالی ہے، مجھ کو اگر وہ مل گیا تو میں اس کا منہ توڑ دوں گا۔‘‘
اب ذرا سی سائیکل چوری کا حسن اتفاق دیکھیئے کہ وہ پولیس افسر

Joc Mortin
جو اس علاقہ میں بچو ں کا باکسنگ ماسٹر بھی تھا اس نے جب کلے کو اس قدر غصے میں دیکھا تو اس نے اس سے پوچھا: ’’ تم کو مکے بازی آتی ہے؟ ‘‘ کلے نے گردن ہلاکر انکار کردیا۔ مارٹن نے کہا میں تم کو باکسنگ سیکھاؤں گا تاکہ تم اپنے سائیکل چور کو صحیح سبق سکھاسکو۔ بس کلے راضی ہوگیا۔ اس طرح یہ بچہ کلے ایک باکسر بن گیا۔ ہاں تو اس کے بعد جوکچھ ہوا، وہ ایک تاریخ ہے۔ ظاہر ہے کہ پہلے کلے اپنے شہر کا چمپین ہوا، پھر اس نے امریکہ کے لئے 1960 میں روم اولمپک میں مکے بازی کا گولڈ میڈل جیتا۔ لیکن ابھی تک کلے کی شہرت ایک زبردست مکے باز کی تھی لیکن 1964 میں اس نے مکے بازی کی عالمی چمپین شپ کے لئے دعویداری کردی۔ 25فبروری 1964 کو اس کا مقابلہ امریکہ کے مشہور مکے باز
Sony liston
کے ساتھ ہوا اور اس نے وہ چمپین شپ جیت لی۔ لیکن اب کیسئس کلے وہ پرانا کیسئس نہیں تھا اب وہ محمد علی ہوچکا تھا۔ جی ہاں ! کیسئس کلے نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ان کا نام اب محمد علی تھا۔ بس اسی تبدیلیٔ مذہب نے محمد علی کو عالمی شہرت عطا کردی اور اسی لئے محمد علی آج بھی دنیا میں یاد کئے جاتے ہیں اور جب جب باکسنگ کا ذکر آئیگا تب تب محمد علی کو یاد کیا جائے گا۔

لیکن کیوں ! بہت سے لوگ اپنا مذہب بدلتے ہیں مگر ان کو دنیا میں شہرت نہیں ملتی۔ محمد علی نے جو اسلام قبول کیا تو اس اسلام میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ محمد علی اس کے لئے آج بھی مشہور ہیں۔ یہی تو کمال تھا محمد علی کا۔ محمد علی کا اسلام محمد علی کا اصل اسلام تھا۔ جی ہاں! رسول کریم نے جس اسلام کی دعوت دنیا کو دی تھی اس اسلام کی دو اہم ترین بنیادی باتیں تھیں۔ عدل یعنی انصاف اور دوسرے انسانی برابری۔ رسول اللہ ؐ کے اسلام میں اگر کہیں بے انصافی ہو تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا فرض ہے۔ اسی طرح رسول کریم ؐ کے اسلام کا دوسرا اہم پیغام یہ ہے کہ ہر انسان خواہ وہ گورا ہو یا کالا، امیر ہو یا غریب، اعلیٰ ذات کا ہو یا نچلی ذات کا، ہر فرد اللہ کا بندہ ہے اس لئے سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔

محمد علی نے جب اسلام قبول کیا تو محض کلمہ لا الہ اللہ یا محض نماز پڑھنی نہیں سیکھی بلکہ محمد علی نے اسلام کے سماجی انقلابی پیغام کی بھی گرہ باندھ لی، اور انہوں نے بس اس کے بعد سے ساری زندگی ہر ظلم کے خلاف اور عدل کیلئے آواز بلند کی اور امریکہ میں گوروں میں رائج کالوں کے خلاف نسل پرستی کے خلاف محمد علی نے جنگ چھیڑ دی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جب امریکہ نے عراق کی طرح ویتنام کے خلاف جنگ چھیڑی وہاں مظالم کی انتہا کردی تو اسوقت بھی محمد علی خود امریکہ میں ویتنام جنگ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے۔ اس وقت امریکہ میں ہر نوجوان کو فوج میں بھرتی ہوکر ویتنام میں جنگ کے لئے شرکت کرنا لازمی تھا جب محمد علی سے حکومت نے کہا کہ انہیں بھی فوج میں بھرتی ہونا ہے تو انہوں نے انکار کردیا جس پر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ وہ جیل گئے لیکن حکومت کے آگے جھکے نہیں۔ ان کی چمپین شپ سرد کردی گئی لیکن محمد علی نے اُف تک نہیں کیا۔ آخر تین برس بعد جب ان پر سے پابندی ختم ہوئی تو انہوں نے پھر مقابلہ میں عالمی باکسنگ چمپین شپ جیت کر دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

بھلا محمد علی دوبارہ ورلڈ چمپین کیوں نہ بنتے، انہیں اللہ اور اللہ کے رسول ؐ کے بتائے ہوئے اسلامی پیغام پر مکمل یقین تھا، انہوں نے ویتنام میں جاری ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ وہ انصاف کی راہ پر تھے، آخر انہیں اس کا صلہ ملنا تھا اور وہ ملا۔ اور بس پھر کیا تھا محمد علی ایک تاریخ بن گئے جس کا خاتمہ ان کی موت بھی نہ کرسکی۔ محمد علی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں اور وہ ہمیشہ محض باکسنگ ہی نہیں بلکہ اسلامی اُصولوں پر چلنے کیلئے یاد کئے جائیں گے۔

یہ تھا محمد علی کا اسلامی کردار جس نے انہیں جاویداں کردیا اور ایک ہے آج کے نام نہاد جہادیوں کا کردار کہ جو اسلام کو بدنام کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساری دنیا میں مسلمانوں کو شرمندہ کررہے ہیں۔ یہ جہادی اسلام بدنامی نہیں تو اور کیا حاصل کرے گا کیونکہ اس جہاد کا اصل اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسلام ناانصافی کے خلاف ایک پیکر جہاد ہے۔ بھلا اسلام کے نام پر جو کسی معصوم کو قتل کرے وہ اسلام کا بھی قاتل کہلائے گا یا نہیں۔ آج کے جہادی مغرب کے مظالم کے خلاف جہاد نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ تو خود مظالم کی ایک نئی مثال قائم کررہے ہیں۔ معصوم انسانوں کو قتل کرنا، خود کش حملوں میں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتارنا، یہ اسلامی پیغام نہیں بلکہ انسانیت کا قتل ہے۔یہ وہی روایت ہے جو قبل اسلام بدو عرب خون کا بدلا خون کے پرچم تلے بلند کئے ہوئے تھے۔ رسول کریم ؐ نے اس بدو روایت کو ختم کیا تھا۔ آج مسلمانوں کا ایک گروہ اسی بدو روایت پر جہاد کے نام پر گامزن ہے۔ یہ نہ تو اسلام ہے اور نہ ہی جہاد ہے۔ یہ اسلام کے نام پر کلنک ہے۔

مسلمانوں کو پھر سے محمد علی جیسا اسلامی کردار اپنا چاہیئے جس کا سبق رسول کریم ؐ نے دیا تھا۔ جس اسلام میں عدل اور انسانی مساوات و اخوت کا پیغام تھا اور جس پر چل کر محمد علی نے ساری دنیا میں شہرت حاصل کی۔ اس لئے الوداع محمد علی، الوداع۔ تم جاؤ لیکن تمہارا اسلامی کردار ہمیشہ یاد رہے گا۔

 

TOPPOPULARRECENT