Saturday , November 17 2018
Home / مضامین / الہ آباد سے پیراگ راج نام میں کیا رکھا ہے؟

الہ آباد سے پیراگ راج نام میں کیا رکھا ہے؟

رام پنیانی

اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ ایسا لگتا ہے کہ ان دنوں ناموں کی تبدیلی کی ایک مہم پر ہیں جیسا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں اتر پردیش کے مشہور شہر الہ آباد کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے پیراگ راج کردیا ہے۔ پیراگ دراصل ندیوں کے ملنے کے مقام کو کہا جاتا ہے اور اترپردیش کا یہ تاریخی شہر بھی گنگا ، یمنا اور ممکنہ طور پر نہ دکھائی دینے والی ندی سرسوتی کے ملنے کے مقام پر موجود ہے لہذا اب اسے پیراگ راج کا نام دیا گیا ہے۔ہمارے شہروں ،گاؤں اور سڑکوں کے ناموں کو تبدیل کرنے کے بڑھتے رجحان نے عوام میں مایوی پیدا کردی ہے کیونکہ روایتی ناموں کو تبدیل کرنے کا یہ رجحان تیسرے درجہ کی سیاست ہے اور یہ حکمت عملی سماج کو تباہ کرنے اور افراتفری کو مزید بڑھاوادینے کی ایک گندی سازش ہے۔یوگی حکومت نے الہ آباد کا نام تبدیل کرتے ہوئے مخالف مسلم دشمنی کی اپنی فہرست میں مزید اضافہ کیا ہے۔الہ آباد کا نام تبدیل تو صرف آغاز ہے کیونکہ ان لوگوں کی فہرست میں کئی اور ایسے کئی نام موجود ہوں گے جو کہ مسلم طرز کے نام ہیں ۔ آلہ آباد کا نام تبدیل کرنا مستقبل میں آنے والی مزید کارروائی کی ایک خاموش آواز ہے اور ہمیں انتظار کرنا ہے اور دیکھنا ہے کہ مزید کتنے اور مسلم ناموں کو یہ دائیں بازوں کی جماعتیں تبدیل کرتی ہیں۔ دائیں بازوں کی جماعتیں اور متعصب ذہنیت کے تنگ دماغ عناصر کی کارروائیاں اس طرح ایک بڑی حد تک بڑھ رہی ہے کہ وہ ہمارے صدیوں قدیم مختلف شہروں مسلم ناموں یا یہاں تک کہ مسلم آوازوں کے نام سننے کے بعد چراغ پا ہوجاتے ہیں۔ آئے دن ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں جہاں مخالف مسلم اور تعصب نظری کا ثبوت دینے والے سیاستدان چاہتے ہیں کئی ایک مسلم ناموںکو ہندو ناموں میں تبدیل کردیا جائے جن میں احمد آباد کا نام کرناوٹی، بھوپال کو بھجوپال، اورنگ آباد کا نام تبدیل کرتے ہوئے سمبھاجی نگر، پٹنہ کا نام تبدیل کرکے اسے پاٹلی پتر، حیدرآباد کے نام کو بھاگیہ نگر میں بدلنے کی سازش ہنوز چل رہی ہے جبکہ گوا کو تبدیل کرتے ہوئے گوا پوری، کیرلہ سے کیرولک ، ناگالینڈ سے ناگن چی میں بدلنے کی تیاری ہورہی ہے اس کے علاوہ گلبرگی کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے کلبورگی کردیا گیا ہے اور اگر میں غلط ہوں یہ کوئی نام چھوٹ رہا ہے تو آپ میری رہنمائی بھی کرسکتے ہیں۔ مسلمانوں کی شناخت مٹانے کا ایک اور اقدام کر تے ہوئے تاریخی حیثیت کے حامل ریاست اتر پردیش کے شہر ‘الہ آباد کا قدیم اور مسلم نام تبدیل کر دیا گیا۔ موجودہ الہ آباد شہر مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے 1574 میں بسایا تھا۔ اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں اتر پردیش کی کابینہ نے متفقہ طور پر تاریخی شہر الہ ٰآباد کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہندو انتہا پسند وزیر یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ الہٰ آباد کا نام تبدیل کرکے پرایاگراج رکھیں گے۔ میڈیا کے مطابق ریاستی چیف منسٹر کمبھ کے میلے سے پہلے الہٰ آباد کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کے مقدس ترین دریاؤں کے سنگم پر واقع اس شہر میں ہر برس میلے لگتے ہیں۔ ہر بارہ برس میں مہا کمبھ کا انقعاد ہوتا ہے جسے دنیا میں کسی ایک مقام پر انسانوں کاسب سے بڑا اجتماع بتایاجاتا ہے ۔ موجودہ الہ آباد شہر مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے 1574 میں بسایا تھا۔ یہ شہر گنگا جمنا کے سنگم پر واقع ہے، جس کی تاریخ 443 سال قدیم ہے۔ اس شہر نے برصغیر کی جنگوں اور بعد ازاں آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔دوسری جانب چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کے نام بدلنے کے اعلان پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے شدید احتجاج کیا ہے۔ کانگریس کے مقامی ترجمان کے مطابق تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے مشہور الٰہ آباد شہر کا نام بدلنے سے اس کی پہچان متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر تعلیمی اور معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا۔ جس مقام پر ہندوؤں کا کمبھ میلہ لگتا ہے اس کا نام پہلے سے ہی پریاگ راج ہے اور اگر حکومت نام بدلنا ہی چاہتی ہے تو وہ انہیں دو الگ الگ شہر بنا سکتی ہے۔ مسلم ناموں کی تبدیلی حقیقت میں،مسلم ناموں سے دائیں بازوں جماعتوں کی الرجی اور سخت نفرت کا نتیجہ ہے اور یہ نفرت بابری مسجد کی شہادت سے ہی پالی جارہی ہے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد کئی شہروں میں جو نفرت کی آگ لگائی گئی تھی اس کے نتائج آہستہ آہستہ ہر گزرتے دن کے ساتھ رونما ہورہے ہیں مسلم ناموں سے نفرت ہندوستان میں کسی شہر یا گلی کے مسلم نام کوتبدیل کرتے ہوئے اسے ہندو نام میں تبدیل کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ نفرت یہاں تک پھیل چکی ہے کہ گھروں کے ناموں، رہائشی عمارتوں کے جو نام مسلم ناموں پر رکھے گئے ہیں انہیں بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔شہروں ،گلیوں ،مکانوں اور رہائسی عمارتوں کے بعد جن مردوں اورعورتوں کے نام مسلم ہیں انہیں ملازمت حاصل کرنے کے لئے ناممکن حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ناموں کو تبدیل کرنے کا یہ سلسلہ روکے گا نہیں کیونکہ آئے دن مسلم یا عیسائی ناموں کے ساتھ ان کی تمام شناخت کو ہیک کیا جاتا رہے گا۔ آر ایس ایس کی مانیں تو نام تبدیل کرنے کا یہ مطالبہ تاریخ اور ہندوستانی ثقافت کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔ سنگھ کے مطابق ان شہروں کے موجودہ نام ہندوستان پر حملہ کرنے والوں نے دئے ہیں۔ آر ایس ایس کیرالہ کا نام بھی بدل کر یریلک کروانا چاہتا ہے۔اپریل میں ہی ہریانہ کی بی جے پی حکومت نے گڑگاوں کا نام بدل کر گروگرام کر دیا تھا۔ آر ایس ایس کا مطالبہ ہے کہ احمد آباد کا نام بادشاہ کرندیو کے نام پر کرناوتی کر دیا جائے۔اسی طرح ہندو دیوی بھاگیہ لکشمی کے نام پر حیدرآباد کا نام اور شیواجی کے بیٹے سنبھاجی کے نام پر اورنگ آباد کا نام رکھا جائے۔

TOPPOPULARRECENT