Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / الیکشن کمیشن بغیر دانت والا شیر : ورون گاندھی

الیکشن کمیشن بغیر دانت والا شیر : ورون گاندھی

انتخابی مصارف داخل نہ کرنے والی کسی بھی سیاسی پارٹی کو غیر مسلمہ کرنے سے قاصر
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے الیکشن کمیشن کو ’ بغیر دانت والا شیر ‘ قرار دیا ۔ اور کہا کہ اس نے ایسی کسی بھی پارٹی کو اب تک غیر مسلمہ قرار نہیں دیا جس نے وقت مقررہ کے اندر اپنے انتخابی مصارف داخل نہیں کئے ہیں ۔ ورون گاندھی نے یہ بھی کہا کہ سیاسی پارٹیاں انتخابی مہم کے لیے بے تحاشہ خرچ کرتی ہیں اور اپنی اس دولت کی طاقت کے دریعہ دیانتدار مخلص پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو انتخاب لڑنے کے موقع سے محروم کرتی ہیں ان کا یہ ریمارکس اس وقت کیا گیا جب کہ بی جے پی پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اس نے گجرات اسمبلی انتخابات کا اعلان نہ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن پر ’ دباؤ ‘ ڈالا ہے ۔ جب کہ ہماچل پردیش اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے ۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے شرمناک حرکت کی ہے تاکہ وہ لمحہ آخر کی رعایتوں کے ساتھ گجرات میں رائے دہندوں کو رجھا سکے ۔ ورون گاندھی حیدرآباد میں نلسار یونیورسٹی آف لا پر ہندوستان میں میں سیاسی اصلاحات کے عنوان پر لکچر دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ الیکشن کمیشن ہے جو دراصل بے دانت والا شیر ہے ۔ دستور کے آرٹیکل 324 میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات پر کنٹرول کرنے اور اس کی نگرانی کرنا ہے ۔ لیکن کیا یہ ادارہ اصل میں اپنا فریضہ پورا کررہا ہے ۔ اس کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ ایک بار انتخابات ہوتے ہی وہ دھاندلی کرنے والی پارٹی کے خلاف کیس درج کرسکے اور سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکے ۔ الیکشن کمیشن نے اب تک کسی بھی ایسی سیاسی پارٹی کے خلاف کارروائی نہیں کی جس نے بروقت اپنے انتخابی مصارف داخل نہیں کئے اگرچیکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے تاخیر سے اپنے ریٹرنس داخل کئے ہیں لیکن صرف ایک سیاسی پارٹی پی اے سنگما کی این پی سی کو تاخیر سے ریٹرنس داخل کرنے پر غیر مسلمہ قرار دیا گیا اور کمیشن نے اسی دن اپنا فیصلہ واپس بھی لے لیا تھا ۔ ورون گاندھی یو پی میں سلطان پور علاقہ کی نمائندگی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں غریب افراد کا انتخابات میں حصہ لینا عملاً ممکن نہیں ہے ۔ متوسط طبقہ کو بھی پارلیمنٹ اور اسمبلی انتخابات میں حصہ لینا مشکل ہے کیوں کہ سیاسی پارٹیاں انتخابی مہم کے لیے کثیر رقم خرچ کرتی ہیں جو ایک دیانتدار اور حقیقی امیدوار خرچ نہیں کرسکتا ۔۔

TOPPOPULARRECENT