Monday , December 18 2017
Home / سیاسیات / الیکشن کمیشن بیک وقت انتخابات منعقد کرنے کیلئے تیار

الیکشن کمیشن بیک وقت انتخابات منعقد کرنے کیلئے تیار

سابق چیف الیکشن کمشنر بھی تائید میں، تمام تیاریاں مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن انتخابات کے قابل
بھوپال ۔ 6 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کیلئے رائے دہی آئندہ سال کے اواخر میں بیک وقت منعقد کرنے کیلئے تیار رہے گا جبکہ تمام تیاریاں مکمل ہوں۔ الیکشن کمشنر او پی راوت نے کہا کہ تاہم اپوزیشن اس بات سے متاثر نہیں ہوا جبکہ بیک وقت رائے دہی کے انعقاد کا نظریہ دو سابق چیف الیکشن کمشنرس کی تائید سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس کام کی مکمل طور پر صلاحیت رکھتا ہے۔ کئی چیزیں تیاریوں پر منحصر ہوتی ہیں۔ فی الحال ہم نہیں جانتے کہ کئی برقی رائے دہی مشینیں ضروری ہیں لیکن حکومت پہلے ہی الیکشن کمیشن کو اس کیلئے رقم منظور کرچکی ہے اور ہم نے برقی رائے دہی مشینوں کیلئے آرڈرس دے دیئے ہیں اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کے بھی آرڈرس دیئے جاچکے ہیں۔ پیداوار کنندے یہ مشینیں سربراہ کریں گے۔ او پی راوت بھوپال میں بیان دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ہمیں مشینیں وصول ہونا بھی شروع ہوچکی ہیں اور یہ مشینیں ستمبر 2018ء میں سربراہ کردی جائیں گی۔ اس کے بعد ہم بیک وقت انتخابات منعقد کرنے کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری ترمیم کی ضرورت ہے اور یہ کام الیکشن کمیشن سے متعلق نہیں ہے۔

اسے حکومت کی جانب سے انجام دیا جانا چاہئے۔ راوت کے موقف کی تائید کرتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہاکہ انتخابات کمیٹی بیک وقت رائے دہی کے انعقاد کی صلاحیت رکھتی ہے بشرطیکہ تمام تیاریاں مکمل ہوں۔ عام طور پر انتخابات کم از کم چار ، پانچ ریاستی اسمبلیوں کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس لئے 10 ریاستوں یا 25 ریاستوں کے انتخابات بیک وقت منعقد کرنا بہت آسان ہوگا کیونکہ انتظامات ایک جیسے ہیں۔ ارکان عملہ وہی ہیں۔ صیانتی انتظامات وہی ہیں۔ ہمیں صرف برقی رائے دہی مشینوں اور وی وی پی اے ٹی مشینوںکی تعداد دگنی کرنی ہوگی۔ ایس وائی قریشی نے کہاکہ سابق چیف الیکشن کمشنر این گوپالا سوامی بھی اس مسئلہ کو الیکشن کمیشن کا مسئلہ نہیں سمجھتے کیونکہ سوال یہ نہیں ہے کہ بیک وقت رائے دہی کا انعقاد الیکشن کمیشن کی صلاحیت کے مطابق ہے یا نہیں بلکہ یہ ہیکہ مختلف ریاستی اسمبلیاں ایک ساتھ رائے دہی کیلئے راضی ہوجائیں۔

TOPPOPULARRECENT